
عباس مال اللہ کو ساڑھے 15سال قید کی سزا سنائی گئی تھی،طبیعت خراب ہونے پر بھی اسپتال شفٹ نہیں کیا گیا، کئی علاقوں میں مظاہرین سڑکوں پر آگئے
آل خلیفہ حکومت کی جیلوں میں بند سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ، گذشتہ ہفتے سیاسی اسیروں کی رہائی کیلئے احتجاج کرنیوالوں کی بھی گرفتاریاں
مناما (نیوزڈیسک) بحرین حکومت نے سیاسی اسیروں کی رہائی کیلئے احتجاج کرنیوالوں کو بھی گرفتار کرلیا، سیاسی قیدیوں کی رہائی کیلئے گذشتہ ہفتے بحرین کے مختلف شہروں میں مظاہرے کئے گئے تھے،سیکیورٹی فورسز نے جن اسیروں کے عزیزوں کو گرفتار کیا ہے ان میں موت کی سزاپانے والے محمد الدقاق اور محمد رمضان بھی شامل ہیں،دوسری جانب جیل میں قید انقلابی مجاہد عباس مال اللہ جام شہادت نوش کرگئے، اُنہیں 17مئی 2011کو گرفتار کیا گیا تھا اور حکومت مخالف مظاہروں کے الزام میں ساڑھے 15سال قید کی سزا سنائی گئی تھی،گرفتاری کے وقت لگنے والی گولیوں کے ٹکڑے اُن کے جسم سے نہیں نکالے گئے حالت تشویشناک ہونے پر بھی انہیں اسپتال شفٹ نہیں کیا گیا جس کے باعث وہ انتقال کرگئے،ان کا انتقال جس جیل میں ہوا جہاں سیاسی قیدیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو بدترین حالات میں رکھا گیاہے،انہیں آبائی علاقے نویدرات میں سپرد لحد کردیا گیا، عباس کی شہادت کی اطلاع ملتے ہی مختلف علاقوں میں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے،ہمالا،ابوسیبا،شاخورہ،بنی جمرہ،شمالی سیہالا،کرانا،دومستان،کارزکان سمیت کئی علاقوں میں ریلیاں نکالی گئیں اور اسیروں کی رہائی کے حق میں نعرے لگائے گئے، البلاد القدیم کے شہریوں نے بھی پرامن احتجاجی دھرنا دیتے ہوئے آل خلیفہ حکومت کی جیلوں میں بند سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا، اسلامی تحریک کے رہنما آیت اللہ شیخ عیسی قاسم نے عباس مال اللہ کی شہادت پر اس شہید کے اہل خانہ اور بحرین کی مظلوم قوم کو تعزیت پیش کی ہے اور جارحانہ اقدامات پر بحرین کی آل خلیفہ حکومت کو سخت خبردار کیا ہے۔


































