تحریر۔ سید رمیزالحسن موسوی
عصر حاضر میں اسلامی تحریک اور انقلاب کے قائد اور جدید دور کی پہلی اسلامی حکومت کے بانی حضرت امام خمینی ؒ، سیرت و کردار کے لحاظ سے چہاردہ معصومین ؑ کے حقیقی پیروکار تھے۔ ان کی پوری زندگی سیرت رسول اللہؐ کی پیروی و اتباع میں گزری۔ امام خمینی ؒ نے اسلامی حکومت کا قیام بھی اسی بات کو مد نظر رکھ کر کیا تھا کہ مسلمانوں کی زندگی کے تمام پہلوؤں میں آپؐ کی سیرت کو زندہ کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ حکومت اور اقتدار الہٰی کا قیام ہے۔ اس کے بغیر نہ تو ہم اپنی انفرادی زندگی میں سیرت طیبہ پر مکمل عمل کر سکتے ہیں اور نہ اجتماعی زندگی کو سیرت رسول اللہؐ میں ڈھال سکتے ہیں۔
امام خمینی ؒ کی تصانیف و تالیفات میں سے ایک اہم ترین کتاب ”شرح چہل حدیث“ ہے کہ جو علم اخلاق کی بنیادی کتاب سمجھی جاتی ہے۔ جس میں امام خمینی ؒ نے اپنے اخلاقی سیرو سلوک کو علمی انداز میں پیش کیا ہے۔ یہ کتاب سیرو سلوک کے راستے پر چلنے والوں اور اخلاق قرآن و اسلام سے انس رکھنے والوں کے لئے بہترین ذخیرہ ہے۔ حضرت امام خمینی ؒ نے اس کتاب میں پیغمبر اکرمؐ اور آپؐ کے جانشین آئمہ طاہرین ؑ کے فرامین اور سیرت کو امت کے لئے ”اخلاق حسنہ“ کا سب سے بڑا سرچشمہ قرار دیا ہے اور کتاب کے ہر صفحے پر سیرت رسول اللہؐ اور آئمہ معصومین ؑ کی روش زندگی سے شواہد پیش کرتے ہوئے امت کو اخلاق و کردار کے بلند ترین میناروں سے روشناس کرایا ہے۔ یہاں اختصار کے پیش نظر فقط آپؐ کی بارگاہ الہٰی میں تواضع اور سیرت طیبہ کے عبادی پہلو کو ہی امام ؒ کی اس بے نظیر تصنیف سے پیش کرنے کی سعی کی گئی ہے۔
رسول اللہؐ کا فنافی اللہ ہونا
رسول اللہؐ کی پوری ذات گرامی اللہ تعالیٰ میں فنا تھی اور آپؐ عبادت اوطاعت الہٰی کے بلند ترین مقام پر فائز تھے۔ اپنی ایک تقریر میں امام خمینی ؒ آپؐ کی اس کیفیت کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
”خدا نے جن کاموں کا حکم دیا تھا ان کی خلاف ورزی کرنے میں پیغمبر اکرمؐ نے کبھی بھی اپنا ہاتھ آلودہ نہیں کیا تھا لہٰذا ایسا ہاتھ خدا کا ہاتھ بن جاتا ہے ایسے ہاتھ پر بیعت، خدا کے ساتھ بیعت ہے۔ آپؐ نے جتنے بھی کام کئے تھے ان میں آپؐ کا ارادہ، ارادہئ خدا کے تابع تھا۔ آپؐ کی حکومت، الہٰی حکومت تھی۔ آپؐ سے کہا گیا ہے کہ ”تونے تیر نہیں پھینکا بلکہ جب تونے تیر پھینکا ہے تو گویا وہ تیر خدا نے پھینکا ہے۔“ رسول خداؐ نے تیر پھینکا تھا لیکن اس کے باوجود (کہا جاتا ہے کہ یہ تیر خدا نے پھینکا ہے) چونکہ آپؐ، ظل خدا تھے آپؐ کی کوئی بھی حرکت اپنی جانب سے نہیں تھی آپؐ جو کچھ بھی کرتے تھے وہ قانون(الہٰی) کے تابع تھا پیغمبر اکرمؐ مجسم قانون تھے۔“
رسول اللہؐ: کمال ربوبیت اور نقص عبودیت میں کامل ترین ہستی
اللہ تعالیٰ کی عبادت و اطاعت میں کثرت درحقیقت انسان کی اپنے رب کے سامنے انتہائی تواضع و خضوع کی علامت ہے۔ اس سلسلے میں پوری کائنات میں آپؐ سے زیادہ کوئی بھی شخص رب العالمین کی بارگاہ میں خاضع و متواضع نہیں تھا۔ امام خمینی ؒ اپنی کتاب ”شرح حدیث عقل و جہل“ میں لکھتے ہیں:
”جان لو کہ تواضع کے کئی درجات ہیں اور تواضع کے ہر درجے کے مقابلے میں تکبر کا ایک درجہ واقع ہوتا ہے:پہلا درجہ: یہ اولیائے کمال اور انبیائے عظام کی تواضع ہے۔ یہ ہستیاں اپنے دلوں میں اللہ کی ذات، اسماء، صفات اور افعال کی تجلیات کے باعث اللہ تعالیٰ اور اس کے جمال و جلال کے مظاہر کے آگے متواضع ہوتی ہیں۔ ربوبیت کے کمال اور عبودیت کی ذلت کا مشاہدہ ان کے دلوں میں تواضع اور تذلل کا انتہائی جذبہ پیدا کرتا ہے۔ ان دوزاویوں سے ان کا نقطہ نظر جتنا کامل ہوگا ان کا تواضع بھی کامل تر ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کے آخری نبیؐ جو اعرف المخلوقات اور تمام بندوں میں سب سے زیادہ عبادت گزار تھے تمام مخلوقات میں اللہ کے حضور سب سے زیادہ متواضع تھے اس کی وجہ یہ ہے کہ کمال ربوبیت اور نقص عبودیت کے مشاہدے کے نقطہ نظر سے آنحضرت ؐ بہترین مخلوق تھے۔
تواضع کی پیکر یہ ہستیاں جس طرح اللہ کے آگے تواضع کا اظہار کرتی ہیں اسی طرح اللہ کے جلال و جمالی جلوؤں اور مظاہر کے آگے بھی متواضع ہوتی ہیں۔ وہ اللہ کی خاطر ان مظاہر کے آگے اظہار تواضع کرتے ہیں۔ یہ لوگ تواضع کے علاوہ ”مقام محبت“ کے بھی حامل ہیں۔ وہ اللہ سے اپنی محبت کے باعث اللہ کی نشانیوں سے بھی محبت کرتے ہیں۔ یہ تواضع جو محبت کے ساتھ مخلوط ہوتی ہے تواضع کا سب سے کامل مرتبہ ہے۔
رسول اللہؐ کی عبادت
امام خمینی ؒ شرح چہل حدیث کی دسویں حدیث میں طولانی امیدوں کے ضمن میں موعظہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”بہترین ہے کہ یہاں پر تھوڑا سا حضرت رسول اکرمؐ اور حضرت علی ؑ کے بارے میں سوچیں جو افضل مخلوقات ہیں اور ہر قسم کی خطا، نسیان، لغزش اور سرکشی سے پاک ہیں، پھر یہ سوچیں کہ ہم کس حال میں ہیں اور وہ حضرات کس حالت میں تھے؟ سفر اور اس کے خطرات سے وہ آگاہ تھے، اسی لئے ان کو آرام اور چین نہیں تھا جبکہ ہماری جہالت نے ہمارے اندر نسیان پیدا کردیا ہے۔ حضرت ختمی مرتبت ؐ نے اتنی ریاضت کی تھی اور عبادتوں میں راتوں کو اتنے کھرے رہا کرتے تھے کہ پاہائے مبارک ورم کر گئے اور قرآن نے فرمایا: ”اے طہٰ(اے رسولؐ) ہم نے تم پر قران اس لئے نہیں نازل کیا کہ تم اس قدر مشقت اٹھاؤ۔“
علامہ طبرسی ؒ نے احتجاج میں حضرت علی ؑ سے روایت کی ہے کہ حضرت ؑ نے فرمایا: رسول خداؐ دس سال تک (عبادتوں میں) اپنی انگلیوں کے سرے پر کھڑے رہتے تھے یہاں تک کہ آپؐ کے قدم مبارک پر ورم آگیا اور چہرے کا رنگ زرد ہوگیا۔ تمام رات کھڑے رہتے تھے یہاں تک کہ خدا نے اس سے روکا اور فرمایا: ”اے میرے طیب وطاہر ؐ! ہم نے قرآن اس لئے نازل نہیں کیا ہے کہ آپؐ رنج و الم میں مبتلا ہو جائیں ہم نے تو اس لئے نازل کیا ہے کہ آپؐ کو سعادت نصیب ہو۔“
نماز کے وقت رسول اللہؐ کی حالت
امام خمینی ؒ اپنی کتاب ”آداب الصلوٰۃ“ میں لکھتے ہیں: ”رسول خداؐ کی بعض ازدواج سے منقول ہے کہ رسول خداؐ ہمارے ساتھ باتیں کررہے ہوتے اور ہم آپؐ سے مشغول گفتگو ہوتیں تو جونہی نماز کا وقت ہوجاتا تو گویا آپؐ ہمیں پہچانتے ہی نہیں تھے اور ہم آپؐ کو نہیں پہچانتیں تھیں چونکہ آپؐ اس وقت خدا کے ساتھ مشغول ہوجاتے اور ہر چیز سے قطع تعلق کرلیتے تھے۔“
رسول اللہؐ کا استغفار
آیہ مجیدہ ”اذاجاء نصر اللہ والفتح“ کی عرفانی توجیہ کرتے ہوئے امام خمینی ؒ حضرت رسول اکرمؐ کی دنیا کی طرف توجہ کے بعد استغفار کے بارے میں لکھتے ہیں:
”گناہوں کے بھی مرتبے ہیں بعض تو ایسے گناہ ہیں جو نیک لوگوں کے حسنات شمار ہوتے ہیں اور بعض گناہ خالص ترین افراد کے لئے گناہ ہیں۔ کہا جاتا ہے حضور سرورکائنات ؐ نے فرمایا:”کبھی میرے دل پر ایک ابرسا چھا جاتا ہے اور میں (بغیر کسی گناہ کے) روزانہ ستر مرتبہ استغفار کرتا ہوں“ اور یہ ابر(کدورت) کثرت کی طرف توجہ سے پیدا ہو سکتا ہے، لیکن یہ خیالات کی طرح ہے جو بہت جلد زائل ہوجاتا ہے۔ حدیث میں ہے جب تک رسول خداؐ پچیس مرتبہ استغفار نہیں کرلیتے تھی کسی بھی نشست سے باہر تشریف نہیں لے جاتے تھے۔“
مسواک کی فضیلت
مسواک کی فضیلت اور سنت رسولؐ ہونے کے بارے میں امام خمینی ؒ انتیسویں حدیث میں لکھتے ہیں:
”مسواک کرنا جس کی اس حدیث شریف میں رسول خداؐ نے وصیت فرمائی ہے، مطلقاً ایک شرعی مستحب ہے اور خاص مواقع پر اس کی تاکید کی گئی ہے مثلاً وضو اور نماز سے پہلے، قرآن پڑھتے وقت، سحر کے وقت اور سوکر اٹھنے کے بعد: روایات میں اس کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے اور اس کی بہت سی خصوصیات وفوائد ذکر کئے گئے ہیں۔ ان میں سے بعض کو اس کتاب میں تبرکاً ذکر کرتا ہوں:
”یعنی امام جعفر صادق ؑ نے فرمایا: مسواک کرنے میں بارہ فائدے ہیں:
مسواک (رسول خداؐ) کی سنت ہے، منہ کو صاف کرتی ہے، آنکھوں کی روشنی میں اضافہ کرتی ہے، خوشنودی خدا کا سبب ہے، بلغم کو دور کرتی ہے، قوت حافظہ کو بڑھاتی ہے، دانتوں کو سفید کرتی ہے، نیکیوں میں اضافہ کرتی ہے، دانت کے کھوکھلے پن کو دور کرتی ہے، مسوڑھوں کو مضبوط کرتی ہے، بھوک بڑھاتی ہے اور ملائکہ اس سے خوش ہوتے ہیں۔“
بہت سی روایت میں ہے کہ ”مسواک پیغمبروں کی سنتوں میں سے ہے۔“
دوسری حدیث میں بھی اسی مضمون پر مشتمل روایت نقل کی گئی ہے اور اس حدیث میں جن چھوٹے چھوٹے دانوں اور پھوڑوں کا ذکر ہے ان سے وہ چھوٹے چھوٹے دانے مراد ہیں جو دانتوں کی جڑوں میں پیدا ہوجاتے ہیں اور ان میں سفید اور بدبودار مواد پیدا ہو جاتا ہے، غذاکو چباتے وقت وہ دانے پھوٹ جاتے اور اس کی گندگی غذا میں شامل ہو کر بہت سے امراض کا سبب بنتی ہے۔ جیسے بدہضمی وغیرہ، آج کل کے اطباء اس کو ”پیورہ“ کہتے ہیں اور اس کو بہت اہمیت دیتے ہیں، بلکہ اس کے علاج کے لئے دانتوں کو اکھاڑ دینے سے بھی گریز نہیں کرتے ہیں۔ اس لئے انسان کو چاہیے کہ غیبی باطنی پہلوؤں سے قطع نظر کرتے ہوئے جن میں سب سے اہم، مرضی الہٰی ہے، حفظان صحت اور صفائی کے لئے سہی دانتوں کو صاف کرے اور بڑی اچھی بات ہے کہ پابندی سے دانتوں کو صاف کرے اور انبیاء کی سنت مستمرہ پر عمل کرے۔
رسول خداؐ نے فرمایا: ”اگر میری امت کے لئے باعث مشقت نہ ہوتا تو میں ہر نماز اور وضو سے پہلے مسواک کرنا واجب قرار دے دیتا۔“
آنحضرت ؐ ہمیشہ اپنے سرہانے رات کو آب وضو اور مسواک رکھا کرتے اور پانی کے برتن کو کسی چیز سے ڈھانک دیا کرتے تھے اور جب بھی خواب سے بیدار ہوتے، وضو کرکے چار رکعت نماز پڑھ کر سوجاتے تھے اس کے بعد پھر جب بیدار ہوتے تو مسواک کرکے وضو کرتے اور نماز پڑھتے تھے۔ حضرت امام جعفر صادق ؑ نے اس حدیث کے بعد فرمایا: ”تم بھی رسول خداؐ کی نیک بات میں پیروی کرو۔“
رسول اللہؐ کا روزہ
ہر ماہ تین روزوں کے استحباب کے بارے میں رسول اللہؐ کی سنت کا ذکر کرتے ہوئے امام خمینی ؒ لکھتے ہیں:
”رسول خداؐ کی دوسری سنت ہر ماہ تین روزے رکھنا ہے۔ تقریباً چالیس احادیث اس کی فضیلت پر دلالت کرتی ہیں۔ البتہ ان کی کیفیت کے بارے میں علماء کے درمیان اختلاف ہے، لیکن جو بات علماء کے درمیان مشہور، اخبار کثیرہ کے موافق، عمل رسول خداؐ کی آخری عمر کے مطابق ہے او رجس پر آئمہ ہدی ؑ گواہ ہیں وہ یہ ہے کہ ہر ماہ تین دن روزہ رکھا جائے (یعنی) اس کی پہلی جمعرات جو اعمال پیش کرنے کا دن ہے اور دوسرے عشرے کا پہلا بدھ جو مسلسل روز نحس اور عذاب کا دن ہے اور آخری عشرے کی آخری جمعرات یہ بھی اعمال پیش کرنے کا دن ہے۔


































