
اراک اور نطنز میں نئے منصوبے، فائبر لیزر ڈسک کی ڈیزائننگ بھی شامل، صنعت، زراعت، میڈیکل اور توانائی کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے،روحانی
افزودہ یورینم کا ذخیرہ55 کلوگرام تک پہنچ گیا،60فیصد یورینیم افزودگی کیلئے جدیدترین سینٹری فیوجز کا استعمال آئندہ ہفتے شروع ہوجائے گا
تہران(نیوز ڈیسک) سخت پابندیوں کے باوجود ایران مسلسل اپنی ایٹمی طاقت بڑھانے میں مصروف ہے، ایرانی صد رحسن روحانی نے133 ایٹمی مصنوعات اور منصوبوں کا افتتاح کردیا، اس کے افزودہ یورینم کا ذخیرہ55 کلوگرام تک پہنچ گیا اور60فیصد یورینیم افزودگی کیلئے جدیدترین سینٹری فیوجز کا استعمال آئندہ ہفتے شروع ہوجائے گا،تفصیلات کے مطابق صدر ایران ڈاکٹر حسن روحانی نے ایٹمی ٹیکنالوجی کے حصول کی 15ویں سالگرہ کے موقع پر سو سے زائد مختلف ایٹمی مصنوعات اور منصوبوں کا افتتاح کیا،جس میں اراک میں ڈیوٹیریئم مرکبات کے پیداواری یونٹ کے دوسرے فیز کی ڈیزائننگ، ساخت اور تنصیب، اراک ریڈی ایشن ایمرجنسی یونٹ فار برننگ ایکسیڈنٹ کا آغاز، نطنز میں یورینیم کی افزودگی کے چھے ٹیکنالوجیکل منصوبے، پانچ اور دس کلو واٹ کے فائبر لیزر ڈسک کی ڈیزائننگ سمیت 133منصوبے شامل ہیں،حسن روحانی نے کہا کہ جوہری ٹیکنالوجی کے ایرانی مقاصد، روز اول سے ہی واضح رہے ہیں اور اس ٹیکنالوجی کو پرامن مقاصد، صنعت، زراعت، میڈیکل اور توانائی کے شعبوں میں استعمال کیا جا رہا ہے،ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی ایران کی قرضدار ہے اور امریکا، یورپی و صنعتی ممالک کو چاہئے کہ ان کی گردن پر ایرانی قوم کا جو حق ہے وہ ادا کریں، محکمہ ایٹمی توانائی کے ترجمان بہروز کمالوندی نے بتایا ہے کہ جدید ترین سینیٹری فیوجزمشینوں کی مدد سے 20 فیصد افزودہ یورینیم کی مقدار55 کلوگرام تک پہنچ گئی ہے، ہمیں امید ہے کہ آئندہ آٹھ ماہ سے پہلے پہلے120کلو گرام کا مطلوبہ ہدف حاصل ہوجائے گا،ادھر عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی میں ایرانی نمائندے کاظم غریب آبادی کا کہناہے کہ ایران آئندہ ہفتے جدیدسینٹری فیوجز سے 60فیصد یورینیم کی افزودگی شروع کردے گا،جس سے ریڈیو فارماسیوٹیکل مصنوعات کی پیدواربڑھانے میں مدد ملے گی جو انتہائی اعلیٰ کوالٹی کی ہیں۔


































