تحریر: علی احمدی
بدھ 26 اپریل کی صبح سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی ایران نے "نور” نامی اپنا پہلا فوجی سیٹلائٹ تین اسٹیجز والے لانچر "قاصد” کے ذریعے کامیابی سے زمین سے 425 کلومیٹر دور فضا میں اپنے معینہ مدار میں قرار دے دیا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی اس عظیم کامیابی پر امریکہ، اسرائیل کی غاصب صہیونی رڑیم اور چند مغربی ممالک تلملا اٹھے اور مختلف قسم کے تحفظات کا اظہار کرنے لگے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسی دن شام کے وقت ایران کی جانب سے اپنا پہلا فوجی سیٹلائٹ کامیابی سے فضا میں قرار دیے جانے کی خبر پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن نے ایران پر کڑی نظر رکھی ہوئی ہے۔ انہوں نے وائٹ ہاوس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا: "ہم ایرانیوں سے زیادہ ان کے بارے میں باخبر ہیں۔” امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پمپؤ نے بھی اس خبر پر ردعمل ظاہر کیا اور کہا کہ ایران کو اپنے اس اقدام کا جواب دینا پڑے گا۔ انہوں نے ایران کی جانب سے فضا میں فوجی سیٹلائٹ بھیجے جانے کو اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قرارداد کی خلاف ورزی قرار دیا۔ دوسری طرف امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان مورگن اورٹگاس نے کہا کہ امریکہ اس ایشو کو سلامتی کونسل میں اٹھائے گا۔
اسرائیل کی غاصب صہیونی رڑیم بھی ایران کی اس عظیم کامیابی پر خاموش نہیں رہ سکی۔ اسرائیلی حکام نے اس خبر پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے امریکہ سے ایران کے خلاف مزید پابندیاں عائد کئے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ امریکی کانگریس کے رکن سینیٹر کریس مارفی نے اس بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے پہلا فوجی سیٹلائٹ فضا میں بھیجنے میں کامیابی سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران مخالف پالیسیاں مکمل طور پر ناکام ہو گئی ہیں اور نہ صرف ایران کو کمزور نہیں کر سکیں بلکہ ایران کا رویہ مزید جارحانہ ہو گیا ہے۔ کریس مارفی نے اپنے ٹویٹر پیغام میں مزید لکھا: "اگر ہم مشرق وسطی کی موجودہ صورتحال کا چار سال پہلے سے موازنہ کریں تو دیکھیں گے کہ ایران ہر لحاظ سے طاقتور ہو گیا ہے اور امریکہ کمزور ہو چکا ہے۔” وائٹ ہاوس کے سابق قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے ایران کی اس بڑی کامیابی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایران کا مقابلہ کرنے میں ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیاں ناکامی کا شکار ہو چکی ہیں۔ انہوں نے ٹویٹر پیغام میں لکھا: "ایران کی جانب سے فوجی سیٹلائٹ فضا میں بھیجنا اس بات کی تصدیق ہے کہ ہم کافی حد تک ایران پر دباو نہیں ڈال رہے۔ ہم ایران کو نہیں روک پائے اور کرونا وائرس بھی آیت اللہ کو پیچھے ہٹنے پر مجبور نہیں کر سکا۔”
جان بولٹن نے ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ جوہری ہتھیاروں والے وار ہیڈ کی صلاحیت رکھنے والے بین البراعظمی میزائل تیار کرنے کے درپے ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سید عباس موسوی نے جمعرات 27 اپریل کے دن پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان الزامات کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے امریکہ، اسرائیل اور چند مغربی ممالک کی جانب سے تحفظات کے اظہار کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ فضائی ٹیکنالوجی میں ترقی ایرانی قوم کا حق ہے اور کوئی طاقت انہیں اس حق سے محروم نہیں کر سکتی۔ سید عباس موسوی نے کہا کہ سکیورٹی کونسل کی کوئی قرارداد ایران کو فضائی ٹیکنالوجی کے حصول سے نہیں روکتی۔ انہوں نے امریکہ کی جانب سے ایران پر سکیورٹی کونسل کی قرارداد نمبر 2231 کی خلاف ورزی کرنے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے دستبردار ہو کر خود اس قرارداد کی خلاف ورزی کی ہے۔ سید عباس موسوی نے جرمنی کی وزارت خارجہ کی جانب سے تحفظات کے اظہار کو بھی بے جا قرار دیتے ہوئے کہا کہ جرمنی نے خود حال ہی میں جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی صلاحیت رکھنے والے جنگی طیارے خریدنے کا اعلان کیا ہے۔
تہران میں امریکہ اور مغربی دنیا سے متعلق امور کے ماہر ڈاکٹر فواد ایزدی نے اس بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ ایران کی اس عظیم کامیابی پر شدید بوکھلاہٹ اور جھنجلاہٹ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا: "امریکہ نے گذشتہ کئی برس سے ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباو کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے لیکن کوئی خاطرخواہ کامیابی حاصل نہیں کر پایا۔ ایران اس وقت ایسی ٹیکنالوجی حاصل کر چکا ہے جو دنیا میں چند محدود ممالک کے پاس ہے۔” ڈاکٹر فواد ایزدی نے ایران کی جانب سے کامیابی سے فوجی سیٹلائٹ فضا میں قرار دینے کو امریکہ کی بڑی سیاسی ناکامی قرار دیا اور کہا کہ ایران کی یہ کامیابی پمپؤ جیسے افراد کیلئے بہت بڑی شکست تصور کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے جوہری سرگرمیوں سے متعلق این پی ٹی کے معاہدے پر رضاکارانہ طور پر دستخط کر رکھے ہیں لیکن امریکہ اور مغربی ممالک کو جان لینا چاہئے کہ میزائل پروگرام سے متعلق ہم نے کسی ایسے معاہدے پر دستخط نہیں کر رکھے لہذا ہماری یہ سرگرمیاں کسی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی تصور نہیں کی جا سکتیں۔


































