
جوہری وعدوں میں کمی کے امریکا اور 3 یورپی ملکوں کے بیانات جابرانہ اور ناانصافی پر مبنی ہیں ،اس سے صرف ان کیخلاف ایرانی عوام میں نفرت بڑھے گی
نہتے عوام کا قتل امریکا اور مغرب کا رویہ ہے، ایٹمی ہتھیار تو بہانہ ہے وہ تو ہمارے روایتی ہتھیاروں کے بھی خلاف ہیں، ایٹمی سرگرمیوں سے پیچھے نہیں ہٹیں گے
تہران(نیوز ڈیسک) ولی امر مسلمین آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے ایران کے جوہری وعدوں میں کمی لانے سے متعلق امریکا اور 3 یورپی ملکوں کے بیانات کو جابرانہ، غلط اور عدم انصاف پر مبنی قرار دے دیااور دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران پرامن جوہری ٹیکنالوجی کے اپنے حق سے پیچھے نہیں ہٹے گا اور ملک کی موجودہ اور مستقبل کی ضروریات کے مطابق پیشرفت جاری رکھے گا، مجلس ماہرین کے اراکین سے ایک ملاقات کے دوران ولی امر مسلمین نے کہا کہ ایران نے ابتدا ہی سے جوہری وعدوں پر عمل کیالیکن ان4 ممالک نے ابتدا ہی سے وعدہ خلافی کی، لہذا انہیں سرزنش کی جانی ہوگی اور انہیں جوابدہ ہونا ہوگا، انہوں نے کہا کہ صہیونی جوکر بار بار کہتا ہے کہ ہم ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے حالانکہ اسے جان لینا چاہئے کہ اگرایران جوہری ہتھیاروں کے حصول کا ارادہ کرتا تو نہ صرف صہیونی ریاست بلکہ اس کے بڑے بھی ایران کو نہیں روک سکتے ، انہوں نے کہا کہ ایران لوگوں کے قتل عام کیلئے کیمیائی اور جوہری ہتھیار بنانے کو حرام سمجھتا ہے، انہوں نے جاپان پر امریکا کے ایٹمی حملے میں دولاکھ 20ہزار افراد کی ہلاکت اور یورپی وامریکی ہتھیاروں سے یمن کے بازاروں، اسپتالوں اور اسکولوں پر بمباری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ نہتے عوام کا قتل امریکا اور مغرب کا رویہ ہے ،ایران نہ تو ایسا سوچتا ہے اور نہ ہی وہ ایٹمی ہتھیار بنائے گا، ایٹمی ہتھیار تو ایک بہانہ ہے، وہ تو ہماری روایتی ہتھیاروں تک رسائی کے بھی خلاف ہیں کیونکہ وہ ایران کی طاقت کو چھیننا چاہتے ہیں، انہوں نے کہا کہ لیکن ہم اپنی ملکی ضرویات کو پورا کرنے کیلئے جوہری صلاحیتیں حاصل کرنے کیلئے پر عزم ہیں اور یورینیم کی افزودگی 20 فیصد تک محدود نہیں رہے گی بلکہ جہاں تک ضرورت ہو اسے بڑھائیں گے یہاں تک اسے 60 فیصد تک لے جاسکتے ہیں، ہم دیگر معاملوں کی طرح جوہری معاملے میں بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے اور پوری طاقت سے اپنے ملکی ضروریات اور مفادات کی فراہمی کے راستہ پر گامزن رہیں گے،انہوں نے امریکا اور تین یورپی ممالک کے حالیہ موقف کوناانصافی اور غنڈہ گردی پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ رویہ ان کے خلاف ایرانی عوام میں پہلے سے زیادہ نفرت کو بڑھائے گا


































