25سالہ تزویراتی شراکت داری میں تیل کی ترسیل، کان کنی اور صنعتی ترقی کے امور کو شامل، ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے میں بھی قریبی تعاون کیا جا سکے گا
چین ایران میں 400 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گااور ایرانی تیل خریدے گا، ہم عرصے سے ایران چین شراکت داری پر تشویش میں مبتلا ہیں،امریکی صدر
تہران (نیوز ڈیسک) ایران اور چین نے سیاسی، اقتصادی، ثقافتی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں 25 سالہ تعاون کے تاریخی معاہدے پر دستخط کرلئے جس پر امریکا بری طرح سیخ پا ہوگیا اور دونوں ممالک پر پابندیو ں کی دھمکیاں دے رہا ہے ، تفصیلات کے مطابق ایران چین معاہدے کو تزویراتی شراکت داری کا نام دیا گیا ہے، معاہدے میں تیل کی ترسیل، کان کنی اور صنعتی ترقی کے امور کو شامل کیا گیا ہے،تاکہ امریکی پابندیوں کی وجہ سے بحران میں گھری ایرانی معیشت کو سہارا دیا جاسکے، معاہدے کے تحت تہران اور بیجنگ کے درمیان ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے میں بھی قریبی تعاون کیا جا سکے گا، ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف اور ان کے چینی ہم منصب وانگ یی نے تہران میں ایک تقریب کے دوران اس معاہدے پر دستخط کیے، معاہدہ کی مدت کے دوران بیجنگ تہران میں 400 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا اور اس کے بدلے ایران تیل سپلائی کرے گا، دونوں ملکوں کے پرائیویٹ سیکٹر کے درمیان تعاون میں فروع بھی اس معاہدے میں خاص طور پر شامل کیا گیا ہے،اس معاہدے کی تجویز چینی صدر شی جن پنگ نے 2016 میں اس وقت دی تھی جب وہ ایران کے دورے پر آئے تھے، وائٹ ہاوس نے ایران چین اسٹریٹیجک تعاون کے جامع سمجھوتے پر منفی ردعمل ظاہر کیا ہے ،وائٹ ہاوس کی ترجمان جن ساکی نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ واشنگٹن ایران اور چین کے درمیان سمجھوتے کے بعد پابندیاں عائد کرنے پر غور کررہا ہے، صدرجوبائیڈن نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایک عرصے سے ایران اور چین کی شراکت داری کے بارے میں تشویش میں مبتلا رہے ہیں
- Home
- خبریں
- بین الاقوامی خبریں
- ایران اورچین کے درمیان 25 سالہ تعاون کاتاریخی معاہدہ ،امریکا…
ایران اورچین کے درمیان 25 سالہ تعاون کاتاریخی معاہدہ ،امریکا سیخ پا
-
Ilyas - اپریل 1, 2021
- بین الاقوامی خبریں
- 13
- 0 minute read


































