Sat Oct 10, 2026

امریکا نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کردیں امریکی حکام تہذیبی جنگ کا بیانیہ بنانے سے قبل ماضی کے واقعات کا مطالعہ کریں، محسن رضائی ٹرمپ نے ایران سے جنگ چھیڑ کر امریکا کو رسوا کیا، امریکی سینیٹر گلگت بلتستان کے وسائل پر کسی بیرونی طاقت کو اثر انداز نہیں ہونے دیں گے، مرکزی انجمن امامیہ ٹرمپ کی پھر رسوائی، امن کا نوبل انعام انسانی حقوق کی وکیل ناوی پلے کے نام آبنائے ہرمز میں ایل پی جی گیس بردار جہاز پر حملہ، آگ لگ گئی پاکستان ہر خطرے کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہے گا، وزیراعظم سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ اسرائیل کو ایران پر ممکنہ حملے کیلئے تیار رہنے کی ہدایت

روزانہ کی خبریں

انخلا کی تیاری ، افغانستان میں امریکا کے 10فوجی اڈے بند

 اُرزگان ، ہلمند ، لغمان اور پکتیامیں بعض اڈوں کو مکمل طور پر افغان سیکیورٹی فورسز کے حوالے کردیا گیا جبکہ دیگر اڈوں کو خالی کردیا گیا
مکمل انخلا کے حکم کے باوجود امریکا طالبان پر فضائی حملوں کی صلاحیت کو برقرار رکھنے کا خواہاں، فیصلے نیٹو اور افغان حکومت سے مشاورت سے کئے جائیں گے
واشنگٹن(نیوز ڈیسک) امریکا نے فروری میں طالبان کے ساتھ معاہدے کے بعد افغانستا ن میں اپنے 10 اڈوں کو بند کردیا ہے، اس بات کا انکشاف امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اپنی رپورٹ میں کیا، اخبار کے مطابق اڈوں کا بند ہونا معاہدے میں بیان کردہ امریکی فوجیوں کے افغانستان سے مکمل انخلا کا حصہ ہے ،رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ کچھ فوجی اڈوں کو مکمل طور پر افغان سیکیورٹی فورسز کے حوالے کردیا گیا جبکہ دیگر اڈوں کو خالی کردیا گیا لیکن انہیں اس حالت میں چھوڑا گیا ہے کہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر وہ ان کا دوبارہ قبضہ حاصل کرسکتے ہیں، انخلا کے حکم کے باوجود امریکا ‘افغان فورسز کے دفاع میں طالبان پر فضائی حملوں کی صلاحیت کو برقرار رکھنا چاہتا ہے جبکہ امریکی فوجیوں کے پاس داعش کے خلاف انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے کی صلاحیت بھی برقرار رہے گی، جن فوجی اڈوں کو بند کیا گیا ان میں صوبہ اُرزگان میں ترین کوٹ، ہلمند میں بست، لغمان میں گمبیری اور پکتیا میں لائٹننگ شامل تھے جبکہ رواں سال قندوز میں جونز، ننگرہار میں ڈی آلینکار، بلخ میں شاہین، کابل میں بشپ، فاریاب میں میمانہ اور زابل میں قلات کے فوجی اڈوں کو بند کیا گیا ہے،رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ فیصلے نیٹو اتحادیوں اور افغان شراکت داروں کے ساتھ مشاورت سے کیے جائیں گے ، ٹرمپ انتظامیہ کا ڈونلڈ ٹرمپ کے دفتر چھوڑنے سے 15 دن قبل فوجیوں کی تعداد 5 ہزار سے ڈھائی ہزار تک لانے کا منصوبہ ہے

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Most Popular