
اُرزگان ، ہلمند ، لغمان اور پکتیامیں بعض اڈوں کو مکمل طور پر افغان سیکیورٹی فورسز کے حوالے کردیا گیا جبکہ دیگر اڈوں کو خالی کردیا گیا
مکمل انخلا کے حکم کے باوجود امریکا طالبان پر فضائی حملوں کی صلاحیت کو برقرار رکھنے کا خواہاں، فیصلے نیٹو اور افغان حکومت سے مشاورت سے کئے جائیں گے
واشنگٹن(نیوز ڈیسک) امریکا نے فروری میں طالبان کے ساتھ معاہدے کے بعد افغانستا ن میں اپنے 10 اڈوں کو بند کردیا ہے، اس بات کا انکشاف امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اپنی رپورٹ میں کیا، اخبار کے مطابق اڈوں کا بند ہونا معاہدے میں بیان کردہ امریکی فوجیوں کے افغانستان سے مکمل انخلا کا حصہ ہے ،رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ کچھ فوجی اڈوں کو مکمل طور پر افغان سیکیورٹی فورسز کے حوالے کردیا گیا جبکہ دیگر اڈوں کو خالی کردیا گیا لیکن انہیں اس حالت میں چھوڑا گیا ہے کہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر وہ ان کا دوبارہ قبضہ حاصل کرسکتے ہیں، انخلا کے حکم کے باوجود امریکا ‘افغان فورسز کے دفاع میں طالبان پر فضائی حملوں کی صلاحیت کو برقرار رکھنا چاہتا ہے جبکہ امریکی فوجیوں کے پاس داعش کے خلاف انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے کی صلاحیت بھی برقرار رہے گی، جن فوجی اڈوں کو بند کیا گیا ان میں صوبہ اُرزگان میں ترین کوٹ، ہلمند میں بست، لغمان میں گمبیری اور پکتیا میں لائٹننگ شامل تھے جبکہ رواں سال قندوز میں جونز، ننگرہار میں ڈی آلینکار، بلخ میں شاہین، کابل میں بشپ، فاریاب میں میمانہ اور زابل میں قلات کے فوجی اڈوں کو بند کیا گیا ہے،رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ فیصلے نیٹو اتحادیوں اور افغان شراکت داروں کے ساتھ مشاورت سے کیے جائیں گے ، ٹرمپ انتظامیہ کا ڈونلڈ ٹرمپ کے دفتر چھوڑنے سے 15 دن قبل فوجیوں کی تعداد 5 ہزار سے ڈھائی ہزار تک لانے کا منصوبہ ہے


































