
مذاکرات کیلئے امریکا کو بحالی اعتماد کے مزید اقدامات انجام دینا ہوں گے، وحشیانہ حملے اور بمباری کا سلسلہ بند کیا جانا ضروری ہے ، محمد علی الحوثی
امریکی منصوبہ یمن کو زیادہ خطرناک صورتحال سے دوچار کردے گا،عرب اتحاد جو جنگ سے حاصل نہیں کرسکا مذاکرات سے حاصل کرنا چاہتا ہے،مذاکرات کار محمد عبدالسلام
صنعا (نیوز ڈیسک)انصار اللہ نے مذاکرات کی امریکی دعوت کو فریب قرار دیکر مسترد کردیا، یمن کی اعلی انقلابی کمیٹی کے سربراہ ہ محمد علی الحوثی نے کہا ہے کہ امریکا پر اعتماد کا معاملہ باتوں پر نہیں بلکہ ٹھوس اقدامات پر منحصر ہے ، انصاراللہ مذاکرات کی خواہاں ہے لیکن اس کیلئے امریکا کو بحالی اعتماد کے مزید اقدامات انجام دینا ہوں گے ، جو بائیڈن سابق امریکی صدر اوباما کے دست راست رہے ہیں جنہوں نے یمن کے خلاف اتحاد میں شامل ہونے کا اعلان کرکے سعودی اتحاد کو یمنیوں کا قتل عام جاری رکھنے کی ہری جھنڈی دکھائی تھی، یمن کی قومی حکومت کا کہنا ہے کہ کسی بھی قسم کے مذاکرات اور جنگ بندی سے پہلے، یمنی عوام کے خلاف جارح سعودی اتحاد کے وحشیانہ حملے اور بمباری کا سلسلہ بند کیا جانا ضروری ہے،صنعا کے سینئر مذاکرات کار محمد عبدالسلام نے جنگ بندی سے متعلق امریکی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کی تجویز دراصل یمن کو ایک نئے اور خطرناک ترین بحران سے دوچار کرنے کا منصوبہ ہے،امریکا کے فریب میں نہیں آئیں گے، امریکی تجویز یمن کے لئے موجودہ صورتحال سے زیادہ خطرناک ہے ، امریکی منصوبے کے تحت صنعا ائرپورٹ مکمل طور سے سعودی اتحاد کی نگرانی میں کام کرے گا، انہوں نے کہا کہ اگر امریکی حکام یمن کے خلاف جنگ اور محاصرہ ختم کرنے میں سنجیدہ ہیں تو ٹھوس بنیادوں پر یہ کام کریں، ہم اسی صورت میں امریکا کے اقدام کا خیر مقدم کریں گے ، امریکی نمائندہ آئے اور اقوام متحدہ سے بھی کم قدر و قیمت کا منصوبہ پیش کرے، ہم ہرگز قبول نہیں کریں گے جو منصوبہ امریکہ نے پیش کیا ہے، وہ یمن کو موجودہ صورتحال سے زیادہ خطرناک صورتحال سے دوچار کردے گاعبدالسلام نے مزید کہا کہ یمن کے دشمن جو کچھ جنگ اور تباہی کے ذریعے حاصل نہیں کرسکے ہیں اب اسے مذاکرت اور بات چیت کے ذریعے حاصل نہیں کرسکتے۔


































