تحریر: ڈاکٹر سید رضا طاہر میر طاہر
امریکہ نے ہمیشہ سے اپنے مفادات کے حصول کیلئے عالمی سطح پر تھانے دار کا کردار ادا کرتے ہوئے یکہ تازیوں پر مبنی اقدامات انجام دیے ہیں اور اس کام میں اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی اداروں اور قوانین سے بھی مکمل بے اعتنائی برتی ہے۔ امریکہ کے ایسے اقدامات کی ایک واضح مثال مارچ 2003ءمیں عراق پر فوجی حملہ تھا جو سابق امریکی صدر جارج بش کے زمانے میں انجام پایا۔ یہ فوجی حملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے اجازت حاصل کئے بغیر انجام پایا تھا۔ یوں دوسری عالمی جنگ کے بعد اقوام متحدہ سے بے اعتنائی کی یہ بدترین مثال ثابت ہوا ہے۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں امریکہ کی یہ یکہ تازیاں اور عالمی اداروں کی بے توقیری اپنے عروج تک پہنچ چکی تھی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی سربراہی میں امریکی حکومت نے ایسے بے شمار اقدامات انجام دیے جن کے باعث اقوام متحدہ اور اس کے منشور کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔ اب اقوام متحدہ کے رکن 17 ممالک نے مل کر ایک نیا اتحاد تشکیل دیا ہے جس کا مقصد اقوام متحدہ کے منشور کو عزت دینا اور امریکہ کی یکہ تازیوں کا مقابلہ کرنا ہے۔ ان ممالک میں ایران، الجزائر، اینگولا، بیلاروس، بولیویا، کمبوڈیا، چین، کیوبا، شمالی کوریا، اریتھرے، لاوس، نکاراگوا، فلسطین حکومت، روس، سینٹ ونسنٹ اور گریناڈائنز، شام اور وینزویلا شامل ہیں۔ اقوام متحدہ میں ان ممالک کے مستقل مندوبین نے دیگر رکن ممالک کے نمائندوں کو ایک خط لکھا ہے جس میں "اقوام متحدہ کے منشور کے دفاع کیلئے فرینڈز گروپ” تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔
اس خط میں دیگر ممالک کو بھی اس گروپ میں شمولیت کی دعوت دی گئی ہے۔ اس گروپ کی تشکیل کا مقصد اقوام متحدہ کے منشور کی حفاظت، بالادستی اور دفاع بیان کیا گیا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ موجودہ عالمی حالات کے پیش نظر اقوام متحدہ کا منشور شدید خطرے سے دوچار ہو گیا ہے لہذا تمام رکن ممالک کو مل کر اس منشور کی حفاظت، اس کی بالادستی قائم کرنے اور اس کا دفاع کرنے کیلئے موثر اقدامات انجام دینا ہوں گے۔ اس گروپ کو تشکیل دینے والے ممالک کا تعلق دنیا کے مختلف براعظموں سے ہے اور ان کا عقیدہ ہے کہ اقوام متحدہ کا منشور کسی ملک کو عالمی سطح پر یکہ تازیوں کی اجازت نہیں دیتا۔ یہ ممالک اس موقف پر متفق ہیں کہ امریکہ کی ان یکہ تازیوں نے عالمی امن اور سکیورٹی کو شدید خطرے سے دوچار کر رکھا ہے۔
اقوام متحدہ کے منشور کے دفاع کیلئے فرینڈز گروپ میں شامل ممالک کا اشارہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سربراہی میں امریکی حکومت کی اس پالیسی کی جانب ہے جس میں "پہلے امریکہ” کے نعرے تلے عالمی اداروں سے مکمل طور پر بے اعتنائی برتی گئی اور تمام تر بین الاقوامی قوانین کو پامال کیا گیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ حکومت نے یونیسکو، ہیومن رائٹس کاونسل اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن جیسی عالمی تنظیموں سے دستبرداری کا اعلان کر کے ان اداروں کو شدید دھچکہ پہنچایا۔ اسی طرح ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی مفادات کے دفاع کا دعوی کرتے ہوئے مختلف عالمی معاہدوں جیسے پیرس موسمیاتی معاہدہ، ایران سے جوہری معاہدہ اور اسلحہ کے پھیلاو کی روک تھام پر مبنی معاہدوں جیسے اسٹریٹجک نیوکلیئر پاورز معاہدہ اور کھلے آسمانوں کے معاہدے سے بھی دستبرداری کا اعلان کر دیا تھا۔
سیاسی تجزیہ کار حسن لاسجردی امریکہ کی یکہ تازیوں کے بارے میں کہتے ہیں: "ایسے اقدامات کی ایک وجہ امریکہ کی متکبرانہ سوچ ہے۔ امریکہ خود کو دنیا کی برترین طاقت تصور کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ عالمی سطح پر انجام پانے والے تمام معاملات اور تعلقات اس کی مرضی سے انجام پائیں۔” امریکہ کا یہ طرز عمل بڑی سطح پر اس کے حریف ممالک اور دیگر ممالک کی جانب سے تنقید کا باعث بنا ہے۔ اسی طرح امریکی حکومت اپنے سیاسی اہداف کی خاطر بڑے پیمانے پر دیگر ممالک کے خلاف اقتصادی پابندیاں عائد کرتی آئی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ حکومت نے سابقہ حکومتوں کے برعکس اقتصادی پابندیوں کے ہتھکنڈے کو بہت وسیع پیمانے پر استعمال کیا اور صورتحال اس قدر گھمبیر ہو گئی کہ حتی اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی ادارے میں ان پابندیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بحران کنٹرول کرنے سے قاصر ہو گئے۔
امریکہ کی یکہ تازیوں کا مقابلہ کرنے کا تصور ایران، روس، کیوبا، شمالی کوریا، وینزویلا، فلسطین اور شام کی جانب سے پیش کیا گیا ہے۔ فروری 2019ئ میں وینزویلا کے وزیر خارجہ خورخے آریزا نے روس، ایران، شام، چین، فلسطین، بولیویا، افریقی ممالک اور ایشیائی ممالک کے سفیروں کے ساتھ ایک ایسا گروہ تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا جس کا مقصد اقوام متحدہ کے منشور کی بالادستی کا قیام ہو۔ اب دو سال گزرنے کے بعد یہ گروپ ایک اتحاد کی صورت میں ابھر کر سامنے آ چکا ہے۔ البتہ جو بائیڈن کی سربراہی میں نئی امریکی حکومت کا دعوی ہے کہ وہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اپروچ کو ترک کر چکی ہے اور عالمی قوانین، معاہدوں اور اداروں کا احترام بحال کرنے کے درپے ہے۔ لیکن اب تک کے اقدامات اس دعوے کو مشکوک ثابت کر رہے ہیں۔


































