تحریر۔رسول جعفریان
شیعہ مکتب فکر دعاؤں اور زیارات کے اعتبار سے انتہائی ثروتمند ہے کسی اور اسلامی فرقے کے پاس اس قدر دعائیں اور زیارتیں نہیں ہیں۔ یہ تشیع کی روحانیت اور شیعی عرفان کا مظہر ہے جو شیعہ معاشرے میں دینی خلوص اور تزکیہئ نفس کی تقویت کا باعث ہے۔
آئمہ کے درمیان دعاؤں کو اعلیٰ مقام حاصل تھا اور ان میں سے بعض اماموں سے بہت سی دعائیں نقل ہوئی ہیں۔ امام علی نقی ؑ نے بھی شیعوں کی تربیت اور انہیں شیعہ معارف سے آگاہ کرنے کے لئے دعا اور زیارت سے اہم کام لیا ہے۔ ان دعاؤں میں خدا سے راز و نیاز کے علاوہ مختلف صورتوں سے بعض سیاسی و سماجی مسائل کی جانب بھی اشارے موجود ہیں۔ ایسے اشارے جو شیعوں کی سیاسی زندگی میں انتہائی موثر تھے اور جو خاص مفاہیم کو منظم انداز میں شیعہ معاشرے تک پہنچاتے تھے۔
ان دعاؤں کے ذریعے پیش کئے گئے مسائل میں سے چند نمونوں کی جانب اشار


































