
اگر ہدف کے حصول کی لگن و تڑپ اسلامی معاشرے سے ختم ہو جائے۔ اگر ہم میں سے ہر شخص کی فکر یہ ہو کہ وہ اپنا اُلّو سیدھا کرے کہ ہم دنیا کی دوڑ میں دوسروں سے پیچھے نہ رہ جائیں۔
جب معاشرے کے افراد اپنے انفرادی مفادات کو اجتماعی مفادات پر ترجیح دیں تو ظاہر سی بات ہے کہ اِس قسم کی تاویلات سے معاشرہ اجتماعی سطح پر اِس قسم کی بلاؤں سے دُچار ہوگا۔
اسلامی نظام، مضبوط ایمان، بلند ہمتوں، آہنی عزم و ارادہ، بلند و بالا اہداف کی رہائی کے لیے بامقصد شِعَاروں کو بیان کرنے اور اُنہیں اہمیت دینے اور زندہ رکھنے سے وجود میں آتا ہے۔ اِنہی امور کے ذریعہ اُس کی حفاظت کی جاتی ہے اور وہ اِسی راہ کے ذریعے ترقی و پیشرفت کرتا ہے۔
اِن شِعَاروں کو کم رنگ کرنے، اُنہیں کم اہمیت شمار کرنے، انقلاب و اسلام کے اصول و قوانین سے بے اعتنائی برتنے اور تمام امور اور چیزوں کو مادّیت کی نگاہ سے دیکھنے اور سمجھنے کے نتیجے میں معلوم ہے کہ معاشرہ ایسے مقام پر جا پہنچے گا کہ اُس کی اجتماعی صورتحال یہی ہوگی۔ صدر اسلام میں بھی معاشرہ اِسی حالت سے دوچار تھا۔


































