
نئی امریکی انتظامیہ چاہتی ہے کامیابیوں کو تحفظ دیا جائے، افغانستان میں تشدد کم ہو اور ہم بھی یہی چاہتے ہیں، پاکستان خارجہ امور میں تنہا نہیں،شاہ محمود قریشی
سرحد پر باڑ لگاناایران سے تعلقات میں بہتری کا ثبوت ہے،بھارت نے پاکستان کو تباہ کرنے کی خواہش کی لیکن وہ کامیاب نہ ہوسکا،سینیٹ ارکان کو بریفنگ
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ خارجہ پالیسی پر ہماری سوچ سیاسی جماعت سے بالاتر ہونی چاہے، جو آپ کے اپنے فیصلوں تک محدود نہ ہو، علاقائی اثرات بھی آپ کی خارجہ پالیسی پر آتے ہیں ، خارجہ پالیسی پر سینیٹ ارکان کو طویل بریفنگ میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغانستان کے معاملے پر ٹرمپ اور بائیڈن کی سوچ ایک ہی ہے ، نئی امریکی انتظامیہ چاہتی ہے کہ کامیابیوں کو تحفظ دیا جائے، افغانستان میں تشدد کم ہو اور ہم بھی یہی چاہتے ہیں، یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی رہی کہ پاکستان خارجہ امور میں تنہا ہے، یہ تجزیہ درست نہیں، افغانستان کے ساتھ ساتھ ایران سے تعلقات میں بھی بہتری آرہی ہے، کشمیر پر انہوں نے ٹھوس اعلان کیا، سرحد پر بارڈ لگانے کے معاملے میں بہتری نہ آتی اگر تہران سے تعلقات بہتر نہ ہوتے،انہوں نے کہا کہ سعودی عرب سے تعلقات میں کوئی بے چینی کی بات نہیں، سعودی عرب نے کافی چیزوں میں ہمارا ساتھ دیا ہے، ریاض سے ہمارا معاہدہ محدود مدت کے لیے تھا، ہماری غیر ملکی ذرائع میں بہتری آئی تو ہم نے پیسے واپس کردیے،وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ کوئی سوچ سکتا تھا اہم ممالک اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال کریں گے؟ لیکن ہوا، اسرائیل کے وزیراعظم یو اے ای کا دورہ کریں گے، ہمیں دیکھنا ہے کہ پاکستان کے مفادات کا دفاع کیسے کر سکتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے پاکستان کو تباہ کرنے کی خواہش کی لیکن وہ کامیاب نہ ہوسکا، آج نئی دہلی پر وہ انگلیاں اٹھ رہی ہیں جو کبھی پاکستان پر اٹھتی تھیں ، مغربی میڈیا پر جتنی بھارت کی پالیسی پر تنقید ہوئی وہ پہلے کبھی نہیں ہوئی، بھارت کے ساتھ معمول کے تعلقات چاہتے ہیں، اب تک نئی دہلی سے مثبت جواب نہیں آیا کیونکہ وہاں جنونی حکومت ہے، ایسی صورتحال میں دفتر خارجہ کیا کرسکتا ہے؟۔


































