
تحریر: تصور حسین شہزاد
امریکی انخلاء کے بعد افغانستان کا مستقبل کیا ہوگا؟ یہ ایسا سوال ہے جو زبان زدِعام ہے۔ مبصرین اپنے اپنے تجزیئے پیش کر رہے ہیں۔ افغانستان کی صورتحال بھی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور طالبان کی پیش قدمی میں 80 فیصد اضلاع پر طالبان نے اپنے تسلط قائم کر لیا ہے، جبکہ صرف کابل کو ’’فتح‘‘ کرنا رہ گیا ہے، جو ان کیلئے مشکل نہیں۔ افغان فوج کے اکثر افسران ملک سے فرار ہوچکے ہیں۔ وہ شائد طالبان کیساتھ لڑنے کی سکت نہیں رکھتے تھے۔ اشرف غنی کا اقتدار ہچکولے کھاتا دکھائی دے رہا ہے اور عین ممکن ہے کہ اشرف غنی اور ان کی کابینہ بھی راہ فرار میں ہی عافیت سمجھے اور کسی ہمسایہ ملک یا امریکہ جا کر پناہ لے۔ اُدھر طالبان کے قطر میں قائم دفتر کے ترجمان نے ایک انٹرویو میں بڑے پُراعتماد انداز میں کہا ہے کہ وہ بہت جلد پورے افغانستان پر کنٹرول حاصل کر لیں گے۔طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان ڈاکٹر محمد نعیم کے بقول کابل میں ایسے ادارے ہیں، جنہیں افغان عوام تسلیم کرتے ہیں نہ طالبان، بلکہ یہ ادارے افغان عوام کے بجائے امریکی مفادات کے زیادہ محافظ ہیں۔ ڈاکٹر نعیم کا مزید کہنا تھا افغان ادارے اپنی جانوں کی حفاظت کرنے کے قابل نہیں، وہ افغان عوام کا کیا دفاع کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ 80 فیصد علاقے پر طالبان کا کنٹرول مکمل ہوگیا ہے، جبکہ صرف مرکز رہ گیا ہے، جسے جلد ہی فتح کر لیا جائے گا۔ اشرف غنی حکومت کے مستقبل کے حوالے ترجمان طالبان کا کہنا ہے کہ یہ حکومت جس الیکشن کمیشن کے ذریعے اقتدار میں آئی تھی، وہ امریکہ کا بنایا ہوا تھا، اس سے قبل اس کمیشن کا کوئی وجود نہیں تھا، یہ غیروں کا بنایا ہوا ہے، اس لئے ہم اسے تسلیم نہیں کرتے۔ اس ادارے نے عوام کی کوئی خدمت نہیں کی، بلکہ امریکہ کیساتھ کھڑے ہو کر اپنے لوگوں پر بمباری میں معاون ثابت ہوا۔ یہ لوگ امریکہ کے مددگار ہیں، یہ افغان عوام کی کوئی خدمت نہیں کرتے، نہ ان میں قانون سازی کی کوئی ہمت ہے۔ترجمان طالبان کا کہنا ہے کہ اشرف غنی کی حکومت غیروں نے بنا کر افغان عوام پر مسلط کی ہے۔ اس حکومت کی غیر مقبولیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ یہ حکومت کابل تک بھی کنٹرول نہیں کرسکتی۔ اس لئے عوام ان کی اصلیت سمجھیں۔ ڈاکٹر محمد نعیم نے کہا کہ ہمارا کسی کیساتھ کوئی شخصی یا ذاتی مسئلہ نہیں، ہم نے جن حالات کی وجہ سے جہاد شروع کیا تھا، وہ حق اور باطل کا معرکہ تھا۔ حق اور باطل کے معرکے کے آخر میں فتح حق کی ہوتی ہے۔ جو اقوام ہم پر حملہ آور ہوتی ہیں، وہ ہماری روایات سے متصادم ہوتی ہیں، اس لیے ظاہری سی بات ہے کہ ہم انہیں شکست ہی دیں گے۔ ہم اپنی زمین کسی کیخلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، ہم افراتفری نہیں پھیلائیں گے، جس کی وجہ سے خانہ جنگی ہونے کا خدشہ ہو۔ انہوں نے افغان فوج اور عوام کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ افغان فوج ہتھیار ڈال دے تو ہم ان کے جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری لیتے ہیں۔ ہماری حکومت سے عوام کو کوئی تشویش نہیں، امریکہ کیخلاف جہاد میں عوام کی مدد سے امریکہ کو شکست دی، عوام کو یقین دلاتے ہیں کہ طالبان سے کوئی خوف نہ رکھیں، دراصل امریکی لوگ عوام کو گمراہ کرتے ہیں، جونہی امریکہ افغانستان سے جانے لگا ہے تو عوام بھی کھل کر ہمارا ساتھ دینے لگے ہیں۔امریکی انخلاء کے بعد اشرف غنی کی حکومت ہچکولے کھاتی دکھائی دے رہی ہے۔ روس نے بھی اس حوالے سے اشرف غنی حکومت کی حمایت سے ہاتھ کھینچ لیا ہے،جبکہ امریکہ تو پہلے ہی لوگوں کو اپنے مفاد کیلئے استعمال کرتا ہے اور مطلب پورا ہونے پر ٹشو پیپر کی طرح پھینک دیتا ہے۔ جہاں تک روس کی بات ہے تو روس نے تسلیم کیا ہے کہ طالبان اب وقت گزرنے کیساتھ معتدل ہوچکے ہیں اور یہ ایک سیاسی قوت ہیں۔ روس کے افغانستان کیلئے خصوصی نمائندے ضمیر کابلوف کا کہنا ہے کہ طالبان دہشتگرد تھے اور ان میں کچھ اب بھی ملکی سطح پر دہشتگردی میں ملوث ہیں، لیکن وہ ہمارے علاقائی مفادات اور سنٹرل ایشیا میں ہمارے اتحادیوں کیلئے کوئی خطرہ نہیں۔ روسی نمائندے کا کہنا ہے کہ روس، چین، امریکہ اور پاکستان طالبان کو اپنے لہجے میں نرمی لانے پر قائل کرچکے ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ طالبان کو اقتدار میں لانے میں امریکی خوشنودی بھی شامل ہے۔ امریکہ یہاں بھی اپنے روایتی دوہرے معیار کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ ایک طرف وہ اپنا اسلحہ اور جنگی سامان طالبان کیلئے چھوڑ رہا ہے اور دوسری جانب اشرف غنی حکومت کو حوصلہ بھی دے رہا ہے۔افغان صورتحال پر روسی حکومت تو مطمئن دکھائی دے رہی ہے، البتہ روسی دانشور اور مبصرین اس حوالے سے خاصے فکر مند ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم افغان سرزمین پر دوبارہ خانہ جنگی کا ماحول دیکھ رہے ہیں اور اس سے روسی ریاستیں بھی متاثر ہوں گی۔ روسی مبصرین کے مطابق طالبان کے مکمل قبضے کی صورت میں القاعدہ، آئی ایس، اسلامک موومنٹ آف ازبکستان اور شمالی روس کے کوہ قاف خطوں سے تعلق رکھنے والے شدت پسند تاجکستان، ازبکستان میں آسکتے ہیں اور وہاں اپنے سلیپر سیل بنا سکتے ہیں۔ ان کی مذکورہ علاقوں میں آمد سے علاقے میں امن و امان متاثر ہونے کا بھی خدشہ ہے۔ روس کی ایک ممتاز ٹی وی شخصیت دمتری کسلوف کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔ انہوں نے رشیا ون ٹی وی کے پروگرام ویسٹی نیدلی میں کہا ہے کہ افغانستان میں جنگ بالکل ختم نہیں ہوئی، بلکہ مستقبل میں یہ اور تیز ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب خطے میں دہشتگردی کے مرض کو پھیلنے سے کوئی نہیں روک سکتا اور اس کا مطلب یہ ہے یہ اب روس کیلئے بھی ایک مسئلہ ہے۔ایران سمیت ہمسایہ ممالک بھی افغانستان کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور ہمسایہ ممالک کے اقدامات سے واضح دکھائی دے رہا ہے کہ افغانستان پر بہت جلد طالبان کی حکومت قائم ہو جائے گی۔ افغانستان میں طالبان کی حکومت کا قیام خطے میں ایک بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اگر دیکھا جائے کہ طالبان حکومت کے پاکستان، ایران اور دیگر ہمسایہ ممالک پر کیا اثرات مرتب ہوں گے، تو اس حوالے سے ایک چیز بڑی واضح ہے کہ طالبان اب وہ نہیں رہے، جو آج سے دس برس قبل تھے۔ طالبان میں اب میچورٹی آچکی ہے، ان کو ایسی قیادت میں ملی ہے جو سیاسی شعور رکھتی ہے۔ طالبان یہ ادراک بھی کرچکے ہیں کہ ہمسایہ ممالک کیساتھ اچھے تعلقات سے ہی بہتر انداز میں گورننس اور امن قائم ہوسکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ طالبان نے ایران کیساتھ بھی اپنے تعلقات بہت بہتر کر لئے ہیں۔ طالبان کے وفود نے ایران کے دورے کئے ہیں، جہاں ایرانی قیادت کیساتھ ملاقاتوں میں افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے تبادلہ خیالات کیا گیا۔اسی طرح پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی بڑی باریک بینی سے صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔ البتہ ایک اور معاملہ ابھی موجود ہے، جس سے علاقے میں حالات خراب ہونے کا احتمال ہے اور وہ طالبان وہ دھڑے ہیں، جو بھارت کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق بھارت نے طالبان کو اپنے ملک میں عسکریت تربیت دی ہے۔ جہاں باقاعدہ پاسنگ آوٹ پریڈ بھی ہوئی، پاسنگ آوٹ پریڈ کا مطلب ہے کہ ایک بیج تیار ہوچکا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس بیج کو فوجی طرز پر جنگی تربیت دی گئی ہے۔ دوسرے لفظوں میں طالبان کا یہ دھڑا باقاعدہ ایک فورس کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ اس ’’طالبانی فوج‘‘ کو کس کیخلاف استعمال کیا جائے گا، یہ بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ دوسری جانب امریکہ نے پاکستان کیخلاف اپنی سازشوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ اس سلسلہ میں جہاں بھارت کو استعمال کیا جا رہا ہے، وہیں طالبان کے ایک دھڑے کو بھی پاکستان کیخلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔لاہور کے علاقے جوہر ٹاون میں ہونیوالے دھماکے سے بھارت کی مداخلت واضح ہوچکی ہے۔ پاکستان نے اس دھماکے میں بھارتی ہاتھ ملوث ہونے کے ثبوت بھی عالمی اداروں کو فراہم کر دیئے ہیں، مگر عالمی ادارے بھی دوہرے معیار کا شکار ہیں، ایف اے ٹی ایف ہو یا اقوام متحدہ ہمیشہ پاکستان دشمنوں کے موقف کو ہی وہاں تسلیم کیا گیا ہے۔ واضح ثبوتوں کے باجود عالمی ادارے روایتی جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اس حوالے سے پاکستانی حکومت کو عالمی سطح پر اپنا تشخص بنانا ہوگا۔ زمینی حقائق یہ ہیں کہ طالبان کافی میچور ہوچکے ہیں، البتہ یہ طالبان قیادت کی ہی ذمہ داری ہے کہ اپنے اندر موجود ایسے ڈھڑے جو بھارتی ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں، اُن کا خود سدباب کریں، تاکہ خطے میں امن کا قیام یقینی بنے اور امریکہ کا یہ تاثر بھی زائل ہو کہ اس کے بغیر خطے میں بدامنی پھیلے گی۔ اگر طالبان کی قیادت بھارت نواز دھڑے کو کنٹرول کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے، جو ظاہر ہے امریکی ایماء پر علاقے کے امن کیلئے خطرہ ہے، تو امید کی جا سکتی ہے کہ طالبان ’’امارت اسلامی‘‘ کے قیام میں کامیاب ہو جائیں گے، اور اسلام امن کا مذہب ہے۔ جہاں سب کیلئے برابر کے حقوق ہیں۔


































