
21اور 22بہمن کی درمیانی رات عوام کی چھتوں ، سڑکوں اور گلی کوچوں میں اللہ اکبر کی صدائیں،جگہ جگہ بھرپور آتشبازی،لائن انقلاب مارچ کا بھی اہتمام
گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں میں ریلیاں،ملک بھر میں خصوصی تقریبات کا بھی اہتمام،عوام نے اتحاد اور اسلامی نظام کے ساتھ اپنی وفاداری کا اظہارکیا
تہران (نیوز ڈیسک) ایران کے اسلامی انقلاب کا تناور درخت 42 سال کا ہو گیا، انقلاب اسلامی کی سالگرہ پر پورا ملک اللہ اکبر کے نعروں سے گونج اٹھا ، اللہ اکبر کے نعروں کی گونج میں پورے ملک میں آتشبازی کے خوبصورت مناظر بھی دیکھنے کو ملے، دارالحکومت تہران میں شمسی مہینے کی 22 تاریخ کی مناسبت سے 22 مقامات پر آتش بازی کا مظاہرہ کیا گیا، کورونا وائرس کی وجہ سے رواں سال ایرانی عوام اپنی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے ساتھ سڑکوں پر نکل آئے اور بھرپور جشن انقلاب منایا، تہران میں جشن انقلاب کی ریلی کا مرکز آزادی اسکوائر کو قرار دیا گیااور بعض راستوں کو موٹر سائیکلوں جبکہ بعض کو کاروں سے مخصوص کر دیا گیا تھا، اس بار بھی ہر سال کی طرح خصوصی تقریبات کا اہتمام کیا گیا،ہر سال کی طرح 21اور 22بہمن کی درمیانی رات ایرانی عوام نے اپنے گھروں کی چھتوں ، سڑکوں اور گلی کوچوں میں اللہ اکبر کے فلک شگاف نعرے لگائے، اور اپنے اتحاد اور اسلامی نظام کے ساتھ اپنی وفاداری کا اظہار کیا، کورونا کو دیکھتے ہوئے اس سال آن لائن انقلاب مارچ کا بھی اہتمام کیا گیا ہے جس میں لوگ اپنی اپنی جگہ رہتے ہوئے آن لائن ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہوئے اور جشن انقلاب کی مناسبت سے اپنے جذبات کا اظہار کیا، ایران کے علاوہ ہندوستان و پاکستان سمیت دنیا بھر کے مختلف ممالک میں بھی مختلف انداز میں جشن انقلاب منایاگیا، اسلامی انقلاب سے عقیدت رکھنے والے دسیوں لاکھ افراد نے دنیا بھر میں تقاریب اور جشن کا اہتمام کیا


































