
بصیرت اور استقامت ہو تو دشمن ہمارا بال بھی بیکا نہیں کرسکتا ، دشمن سافٹ وار کے ذریعے حق سے روکنے اور حقائق مسخ کرنے کے اہداف پر کام کر رہا ہے
ایٹم بم استعمال کرنے اور مخالفین کو ٹکڑے کرنیوالی سعود ی حکومت کا حامی امریکا انسانی حقو ق کا دعویدار بنتا ہے ،امریکی فوجیوں کو عراق اور شام سے نکلنا ہوگا
تہران(نیوز ڈیسک) ولی امر مسلمین آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکی فوجیوں کو عراق اور شام سے نکلنا ہوگا ، امریکا نے داعش کو خود بنایا اور اس کا اعتراف بھی کیا لیکن داعش کے خلاف جنگ کے بہانے شام میں غاصبانہ طریقے سے موجود ہے، عید بعثت کے موقع پر خطاب میں ولی امر مسلمین نے اسلامی انقلاب کو بعثت کا تسلسل قرار دیا اورکہاکہ اسلامی انقلاب نے عصر حاضر میں بعثت کے مضامین کی تجدید کی ہے ،انہوں نے انقلاب کے خلاف دشمن کی ریشہ دوانیوں اور سازشوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ دشمن سافٹ وار کے ذریعے دو اہداف پر کام کر رہا ہے ایک حق اور صبر کی تلقین کا سلسلہ بند ہوجائے اور دوسرے حقائق کو توڑ مروڑ کر اور حتی برعکس ظاہر کرے، دشمن اس قدر ڈھٹائی کے ساتھ جھوٹ بولتا ہے کہ سننے والا اسے سچ سمجھنے لگتا ہے،انہوں نے امریکا اور سابق سویت یونین کی دشمنی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس کے علاوہ کسی اور چیز کی توقع بھی نہیں تھی، ہمیں معلوم تھا کہ امریکا اور سویت یونین ایسے انقلاب کو برداشت نہیں کریں گے اور اس کے خلاف صف آرا ہوجائیں گے،انہوں نے دشمن کے مقابلے کیلئے بصیرت اور استقامت جیسے عناصر کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ میں نے ہمیشہ بصیرت اور صبر و استقامت پر زور دیا ہے، اگر یہ دو عناصر موجود ہوں گے تو دشمن ہمارا بال بھی بیکا نہیں کرسکتا،اس کی مثال یمن ہے ،جہاں پچھلے6 برسوں سے امریکااور اس کا جارح عرب اتحاد یمنی عوام اور ان کے گھروں، اسپتالوں اور اسکولوں پر بمباری کر رہا ہے ، یمن کا اقتصادی محاصرہ کر رکھا ہے ، غذائی اشیا اور دوائیں تک نہیں پہنچانے دے رہا ، لیکن جیسے ہی یمن کے بہادر اور دلیر عوام اپنے وسائل سے استفادہ کرتے ہوئے بمباری کا جواب دیتے ہیں تو پروپیگنڈہ مشینری سرگرم ہوجاتی ہے اور قتل و غارت گری کا شور مچانے لگتی ہے، انہوں نے دشمن کی دروغ گوئی کی ایک اور مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں کے سب سے بڑے ذخائر رکھنے اور اسے استعمال کرنے والا ملک امریکا کہتا ہے ہم عام تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے خلاف ہیں ، اپنے مخالف کو قتل کرکے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے والی سعودی حکومت کی حمایت کرنے والا امریکا انسانی حقوق کی حمایت کے دعوے کرتا ہے،انہوں نے کہا کہ داعش کو خود امریکا نے بنایا اور اس کا اعتراف بھی کیا ہے، اور داعش کے خلاف جنگ کے بہانے شام میں اڈے قائم کر رہا ہے اور ایران کی علاقائی موجودگی کے بارے میں منفی پروپییگنڈا کیا جاتا ہے اور اسے علاقے میں عدم استحکام کا سبب قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے حالانکہ ہم جہاں بھی موجود ہیں ان ملکوں کی قانونی حکومتوں کی درخواست پر ان کے دفاع کے لیے موجود ہیں علاقے میں کہیں بھی ایرانی فوجیں موجود نہیں اگر کہیں ہمارے فوجی ہیں بھی تو وہ مشاورت کے لئے ہیں البتہ امریکا کسی بھی ملک کی اجازت کے بغیر داخل ہوتا ہے اور وہاں اپنے اڈے بنا لیتا ہے جیسا کہ اس نے شام میں کررکھا ہے ،امریکاکو عراق سے جانا ہوگا اور شام سے بھی جتنا جلد ممکن ہو امریکا کو نکل جانا چاہیے۔


































