آزادی یا پابندی؟
انسان کے ذہن میں اٹھنے والے سوالوں میں سے ایک اہم سوال یہ تھا کہ روزہ کے وقت انسان شدید پابندی کی حالت میں ہوتا ہے اور یہ درست بھی ہے لیکن یہ بھی درست ہے کہ انسان کو بلند اہداف تک پہونچنے کے لئے اپنے اوپر پابندیاں عائد کرنی پڑتی ہیں۔ پابندیاں اگر چہ سخت ہوتی ہیں لیکن بغیر پابندی کے کوئی ہدف اور کمال قابل حصول نہیں ہے۔
ایک طالب علم، دانشمند اور فنکار کو اپنے بلند اہداف تک پہونچنے کے لئے اپنے اوپر سخت پابندیاں عائد کرنی پڑتی ہیں جن میں سر فہرست وقت کی پابندی ہے۔اس کے علاوہ بہت سی حلال چیزیں اپنے اوپر حرام کرنی پڑتی ہیں ورنہ کامیابی حاصل نہیں ہوتی۔خاندان، قبیلہ،شہر، ملک اور دنیا کو ہرج و مرج سے بچانے کے لئے انسان کو اپنے اوپر خاندانی، قبائلی، شہری، ملکی اور بین الاقوامی قوانین کی پابندیاں عائد کرنی پڑتی ہیں۔ اسی طرح دین و شریعت اورانکے احکام بھی ایک پابندی ہیں جنکے دو ہدف ہیں:
۱۔ انسان کو فردی و نفسیاتی مشکلات اور اجتماعی ہرج ومرج سے محفوظ رکھنا۔
۲۔ انسان کے اندر مادی و معنوی،جسمانی و روحانی اور فردی و اجتماعی تکامل پیدا کرنا۔
روزہ بھی دیگر احکام دین کی طرح ایک پابندی ضرور ہے لیکن ایک ایسی پابندی جو ایک طرف انسان کے اندر تکامل پیدا کرتی ہے اور دوسری طرف اسکو بہت سے نقائص،رذائل اور شہوات کے زندان سے آزاد کر دیتی ہے۔انسان کیلئے سب سے محکم زندان خود اسکی نفسانی ہویٰ و ہوس اور خواہشات ہیں اور حقیقت میں آزاد انسان وہ ہے جس نے اپنے آپ کو اس زندان سے آزاد کر لیا ہو۔امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں: ”جو اپنی خواہشات کو ترک کرنے میں کامیاب ہو جائے وہ ایک آزاد انسان ہے“۔اورروزہ اپنے اسرار کے ساتھ رکھا جائے تو اسکا سب سے بڑا اثر یہ ہے کہ وہ انسان کو نفسانی خواہشات سے آزاد کر کے بلند اہداف کی طرف متوجہ کر دیتا ہے۔
ضعف یا قوت؟
یہ درست ہے کہ حالت روزہ میں انسان کو بعض اوقات نقاہت کا احساس ہوتا ہے جو پیاس اوربھوک کا ایک طبیعی تقاضا ہے،اسی نقاہت کو بعض افراد ضعف سے تعبیر کرتے ہیں جبکہ ضعف اورنقاہت میں فرق ہے۔نقاہت ایک وقتی احساس ہے جو بہت جلدی ختم ہو جاتا ہے بلکہ انسان اگر اسرار و فلسفہ روزہ سے واقف ہو توشدیدترین گرمیوں کے روزے میں بھی اسے بجائے سستی اور نقاہت کے لذّت،نشاط اور طمانیت کا احساس ہوتا ہے جیسا کہ امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام سے منقول حدیث میں بیان ہواہے کہ آپؑ گرمیوں کے روزوں کوبے حد عزیز رکھتے تھے۔ یہ بھی درست ہے کہ روزہ بعض افراد کے لئے جسمانی ضعف کا بھی باعث بنتا ہے لیکن جسمانی ضعف اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ اس سے ا نسان بھی ضعیف ہو جائے بلکہ ممکن ہے کہ اس جسما نی ضعف کے باوجود انسان خود کو عزم و ارادے اور استقامت کے لحاظ سے اتنا قوی کر لے کہ جسمانی ضعف اسکے عزم و ارادے کی راہ میں رکاوٹ ایجاد نہ کر سکے کیونکہ یہ بات علمی اور تاریخی شواہدکے اعتبار سے مسلّم ہے کہ مضبوط عزم و ارادے کے سامنے جسمانی تھکاوٹ یا ضعف مانع ایجاد نہیں کر سکتا۔اس کے بر خلاف جسم کتنا ہی قوی کیوں نہ ہو لیکن عزم و ارادے کی سستی اس کے حوصلوں کو سرد کر دیتی ہے اور انسان عمل کے میدان میں پیچھے رہ جاتا ہے۔ پس روزہ ممکن ہے بعض افراد کے لئے وقتی ضعف کا سبب بنے لیکن دوسری طرف یہی روزہ انسان کے اندر صبر، تحمل، استقامت، قوت برداشت، قوت،عزم اور ارادہ پیدا کرتا ہے۔ ان معنوی قوتوں کے حاصل ہونے کے بعد جسمانی ضعف کسی طرح کی رکاوٹ ایجاد نہیں کر سکتا اور انسان کی بلند رو ح جسمانی ضعف پر غالب آجاتی ہے۔ یہ اس صورت میں ہے کہ جب یہ فرض کیا جائے کہ روزہ رکھنے سے جسمانی ضعف پیدا ہوتا ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ روزہ انسان کو جسمانی اعتبار سے سالم اور متعدد قسم کے امراض سے محفوظ کر دیتا ہے۔یہیں سے ہمیں تیسرے اور چوتھے سوال کا جواب بھی مل جاتا ہے اور وہ یہ کہ آب و غذا اگر چہ جسم کا تقاضا ہے اور عام حالات میں انسان کے لئے بھوک اور پیاس ناگوار اور سخت ہوتی ہے،لیکن مذکورہ اھداف وفوائد اور بعد میں بیان ہونے والے عظیم اسرار کی خاطر انسان کے لئے یہ ناگوار چیز نہایت عزیز، لذّت بخش اور پسندیدہ ہوتی ہے یہاں تک کہ وہ عاشق اور محب روزہ ہو جاتا ہے جس طرح امام حسین علیہ السلام نے شب عاشور نماز کے لئے فرمایاتھا کہ”خداجانتا ہے میں عاشق نماز ہوں“یا امام سجاد علیہ السلام ماہ رمضان کے آخر میں شدید ترین گریہ کے عالم میں اس مبارک مہینہ کو الوداع کرتے ہیں:”اے کریم ترین ساتھی تجھ پر سلام“۔روزہ کے ان اہداف کو دیکھتے ہوئے انسان بہت خوشی کے ساتھ اپنے ہاتھوں سے حاصل کی ہوئی حلال چیزوں کو اپنے اوپر حرام کر لیتا ہے جس طرح ایک طبیب کے مشورے پر انسان بہت سی حلال چیزوں کو اپنے اوپر حرام کر لیتا ہے حتّیٰ ضرورت پڑنے پر قطع اعضا اور آپریشن کے لئے بھی تیار ہوجاتا ہے بلکہ اس عمل کے لئے ڈاکٹر کو بڑی سے بڑی مقدار میں اجرت دیکر بعد میں شکر گزار بھی ہوتا ہے۔حلال چیزوں کے حرام ہونے کا ایک اور بڑا مقصد وہی ہے جو پہلے بیان ہوا یعنی زندگی کی یکسانیت سے نجات تاکہ انسان ان روزمرہ عادتوں کے زندان سے نکل کر بلند امور و معارف کی طرف متو جہ ہو سکے۔
بشکریہ”تبیان.نیٹ“


































