
عالمی یوم القدس کے موقع پر ولی امرالمسلمیں آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین کا معاملہ بدستور امت اسلامیہ کا حساس ترین اور اہم ترین مسئلہ بنا ہوا ہے۔ ظالم و سفاک سرمایہ دارانہ نظام کی پالیسیوں نے ایک پوری ملت کو اس کے گھربار، اس کے وطن اور اس کی آبائی سرزمین سے محروم کر دیا اور وہاں ایک دہشت گرد حکومت قائم کر دی۔ صہیونیوں نے روز اول سے ہی غصب شدہ سرزمین فلسطین کو دہشت گردی کے مرکز میں تبدیل کر دیا۔ اسرائيل کوئی ملک نہیں بلکہ ملت فلسطین اور دیگر اقوام کے خلاف دہشت گردی کا اڈا ہے۔ اس سفاک حکومت کے خلاف جدوجہد در حقیقت ظلم کے خلاف مجاہدت اور دہشت گردی کے خلاف جنگ ہے اور یہ سب کا ہمہ گیر فریضہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج طاقت کا توازن اسلامی دنیا کے حق میں تبدیل ہو چکا ہے۔ یورپ اور امریکا کے گوناگوں سیاسی و سماجی حوادث نے مغرب والوں کی تنظیمی، انتظامی و اخلاقی خامیوں اور کمزوریوں کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔ امریکا میں انتخابات کے واقعات اور آزمائش کے وقت اس ملک کے بڑے بڑے دعوے کرنے والے متکبر حکام کی سخت رسوائی، نیز یورپ اور امریکا میں کورونا کے پھیلاؤ کے مقابلے میں ان کی پورے سال کی ناکامی اور اس (وبا) سے متعلق شرمناک واقعات اور اہم ترین یورپی ملکوں میں سیاسی اور سماجی انتشار، یہ سب مغربی کیمپ کے زوال اور سقوط کی نشانیاں ہیں۔ دوسری طرف حساس ترین اسلامی علاقوں میں مزاحمتی فورسز کا ظہور، ان کی دفاعی اور حملہ کرنے کی توانائيوں میں اضافہ، مسلم اقوام میں خود آگہی، امید اور حوصلے کا نمو، اسلامی اور قرآنی نعروں کی طرف میلان میں اضافہ، علمی پیشرفت، اقوام میں حریت پسندی اور خود انحصاری کا فروغ، یہ سب وہ مبارک علامتیں ہیں جو بہتر مستقبل کی نوید دے رہی ہیں۔
اس مبارک مستقبل میں مسلمان ملکوں کی ہم آہنگی اور باہمی تعاون ایک اہم اور بنیادی ہدف ہونا چاہئے اور یہ ہدف دسترس سے باہر بھی نہیں ہے۔ اس ہم آہنگی اور تعاون کا مرکز مسئلہ فلسطین، یعنی پورے ملک فلسطین اور قدس شریف کو ہونا چاہئے۔ یہ وہی حقیقت ہے جس نے حضرت امام خمینی کبیر رحمۃ اللہ علیہ کے قلب نورانی میں یہ بات ڈالی کہ رمضان المبارک کے آخری جمعے، جمعۃ الوداع کو یوم قدس قرار دیا جائے۔ قدس شریف کے محور پر مسلمانوں کی ہم آہنگی اور تعاون صیہونی دشمن اور اس کے حامی امریکا اور یورپ کے لئے وحشتناک ہے۔ سینچری ڈیل کی ناکامی اور اس کے بعد غاصب حکومت کے ساتھ چند کمزور عرب حکومتوں کے روابط کی بحالی اسی وحشتناک حقیقت سے فرار کی ناکام کوشش ہے۔ میں یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ یہ کوششیں کارگر نہیں ہوں گی۔ دشمن صہیونی حکومت کے زوال کا عمل شروع ہو چکا ہے جو رکے گا نہیں۔
دو اہم عوامل مستقبل کا تعین کرنے والے ہیں: پہلا اور اہم تر عامل، سرزمین فلسطین کے اندر مزاحمت کا جاری رہنا اور محاذ جہاد و شہادت کی تقویت ہے اور دوسرا، پوری دنیا کی مسلم اقوام اور حکومتوں کی جانب سے فلسطینی مجاہدین کی عالمی حمایت ہے۔ حکام، روشن فکر دانشور، علمائے دین، جماعتیں اور تنظیمیں، غیور نوجوان اور دیگر طبقات، سبھی اپنے اپنے طور پر اس ہمہ گیر تحریک میں شامل اور سرگرم ہوں۔ یہ وہ چیز ہے جو دشمن کے حیلے کو ناکام بناتی ہے۔ فلسطین کے تعلق سے سبھی مسلم اقوام اور حکومتوں کے فرائض اور ذمہ داریاں ہیں۔ لیکن مجاہدت کا مرکز خود فلسطینی ہیں جو اس سرزمین کے اندر اور اس سے باہر رہنے والوں کو ملاکے، ایک کروڑ چالیس لاکھ ہیں۔ ان کا اتحاد اور مشترکہ عزم، عظیم کارنامہ انجام دے گا۔


































