
کانگریس کے سابق جنرل سیکریٹری اور ممبر رابطہ کمیٹی کشتواڑ ایڈوکیٹ محمد عاصف نقیب کی سربراہی میں اراضی قوانین اور زرعی قانون کے خلاف دستخطی مہم شروع کی گئی ہے، جس میں کثیر تعداد میں لوگوں نے حصہ لیا۔ ان قوانین کو عوام دشمن قرار دیتے ہوئے ایڈوکیٹ محمد عاصف نقیب نے ملک اور عوام کی معیشت سے براہ راست متعلقہ قوانین کے تحفظ پر قومی اتفاق رائے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی کی زیر قیادت این ڈی اے حکومت نے بھارت میں نہ صرف زرعی شعبے کی کمر توڑ دی ہے بلکہ جی ڈی پی کو بھی ریکارڈ کم کردیا ہے اور ملک میں بے روزگاری میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے اور اب دیگر شعبوں کو بھی متاثر کیا جارہا ہے۔
انہوں نے نوٹ بندی کے فیصلہ پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چار سال قبل شام کے 8 بجے وزیر اعظم کے فیصلے سے ملک کو تکلیف ہوئی اور ایک سو سے زیادہ افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، روزگار کے وسائل ختم ہوگئے اور ملک کو فروخت کردیا گیا۔ امریکہ کے حالیہ انتخابات کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے لوگوں سے ملک میں سیکولر طاقتوں کو مضبوط بنانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکی عوام نے ڈونالڈ ٹرمپ کو باہر کا راستہ دکھایا اور یہ بتایا کہ شدت پسندانہ سوچ رکھنے والوں کے لئے کوئی جگہ نہیں۔ دستخطی مہم کے بعد متعدد افراد نے ایڈوکیٹ محمد عاصف نقیب کی سربراہی میں کانگریس میں شمولیت اختیار کی۔


































