حکومت نے معاملہ عالمی عدالت میں جانے سے روکنے کیلئے اقدام اٹھایا
سڈنی (نیوز ڈیسک)آسٹریلیا نے اپنے فوجی اہلکاروں کی افغانستان میں مبینہ جنگی جرائم پر قانونی چارہ جوئی کا آغاز کر دیا ہے، جنگ کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں ،عام شہریوں اور قیدیوں کی ہلاکتوں کی رپورٹس پر یہ اقدام اٹھایا گیا ہے تاکہ معاملہ بین الاقوامی فوجداری عدالت میں جانے سے روکا جا سکے، وزیرِ اعظم اسکاٹ موریسن نے سنجیدہ نوعیت اور ممکنہ طور غفلت پر مبنی جرائم کی تحقیقات کے لیے خصوصی تفتیشی افسر مقرر کیاہے، آسٹریلیا نے 26 ہزار سے زائد فوجی افغانستان بھیجے تھے ،جنہیں 2013 میں واپس بلا لیا گیا، لیکن خصوصی دستے وہاں رہے، 2013 کے بعد فوجی یونٹس کے طرزِ عمل پر شدید نوعیت کے الزامات لگنے شروع ہوئے تھے ان رپورٹس کو کئی سال تک دبایا گیا،رپورٹ میں انسپکٹر جنرل نے 50 سے زائد واقعات کی نشان دہی کی تھی جن میں عام افراد یا جنگ میں عدم شریک لوگ یا عسکریت پسندی ترک کرنے والے جنگجوو ¿ں کو غیر قانونی طور پر قتل کیا گیا تھا، یا ان افراد کے ساتھ انتہائی ظالمانہ رویہ اختیار کیا گیا تھا
- Home
- بین الاقوامی خبریں
- ایشیا
- آسٹریلوی فوجیوں کے جنگی جرائم پر قانونی چارہ جوئی شروع


































