Sat Oct 10, 2026

امریکا نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کردیں امریکی حکام تہذیبی جنگ کا بیانیہ بنانے سے قبل ماضی کے واقعات کا مطالعہ کریں، محسن رضائی ٹرمپ نے ایران سے جنگ چھیڑ کر امریکا کو رسوا کیا، امریکی سینیٹر گلگت بلتستان کے وسائل پر کسی بیرونی طاقت کو اثر انداز نہیں ہونے دیں گے، مرکزی انجمن امامیہ ٹرمپ کی پھر رسوائی، امن کا نوبل انعام انسانی حقوق کی وکیل ناوی پلے کے نام آبنائے ہرمز میں ایل پی جی گیس بردار جہاز پر حملہ، آگ لگ گئی پاکستان ہر خطرے کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہے گا، وزیراعظم سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ اسرائیل کو ایران پر ممکنہ حملے کیلئے تیار رہنے کی ہدایت

روزانہ کی خبریں

یمن جنگ کے خاتمے کے لئے سعودیہ نے ایران کے سامنے گٹھنے ٹیک دئے

 سعودیہ یمن سے بڑھتے حملوں سے پریشان،سعودی انٹیلی جنس چیف کی زیر قیادت وفدکی ایرانی ٹیم سے ملاقات ، ڈرون ومیزائل حملوں سے متعلق بات چیت
لندن\تہران(نیو زڈیسک)سعودی عرب نے یمن جنگ کے خاتمے کیلئے ایران کے سامنے گٹھنے ٹیک دئے ہیں ، عراقی وزیراعظم مصطفیٰ الکاظمی نے مصالحتی کردار ادا کیا جس کے بعد بغداد میں ایران اور سعودی عرب نے کشیدگی کم کرنے کیلئے براہ راست مذاکرات کا آغازکیا، ایرانی اور سعودی حکام نے مذاکرات کی تصدیق سے انکار کردیا تاہم عراقی عہدیدار نے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی تصدیق کی ہے،یہ بات چیت دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات منقطع ہونے کے پانچ سال بعد ہوئی ہے ، برطانوی اخباردفنانشل ٹائمز کے مطابق 9 اپریل کو بغداد میں سعودی انٹیلی جنس سروس کے سربراہ خالد بن علی الحمیدان کی زیر قیادت وفد نے ایرانی مذاکراتی ٹیم سے مذاکرات کئے جس میں حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں سے متعلق بات چیت ہوئی جو ’مثبت‘ رہی،اخبار کے مطابق سعودی حکام حوثیوں کے بڑھتے حملوں سے پریشان ہیں اور وہ اب یمن میں جاری جنگ کو ختم کرنا چاہتے ہیں،حوثیوں کی جانب سے جنگ بندی کی پیشکش ردکرنے کے بعد سعودی حکام نے ایران کے ساتھ براہ راست رابطے کا فیصلہ کیا تاکہ حوثیوں پر ایران کے اثر ورسوخ کو استعمال کیا جاسکے، اخبار کے مطابق مذاکرات میں عراقی وزیراعظم مصطفیٰ کاظمی نے سہولت کار کا کردار ادا کیا ہے،انہوں نے گذشتہ ماہ ریاض میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی تھی جس میں انہیں سہولت کاری کا کردار ادا کرنے کی اجازت دی گئی،عراقی وزیراعظم ایران اور سعودی عرب دونوں ممالک کے اعلیٰ حلقوں میں اثر ورسوخ رکھتے ہیں، ایک سینئر عراقی اہلکار اور غیر ملکی سفارتکار نے مذاکرات کی تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ عراق نے ایران اور مصر اور ایران اور اردن کے درمیا ن رابطے کی سہولت فراہم کی تھی ، وزیر اعظم ملک کو خطے میں مخالف طاقتوں کے مابین پل کا کردار ادا کرنے کے لیے ذاتی کردار ادا کرنا چاہتے ہیں،یہ بات عراق کے مفاد میں ہے کہ وہ یہ کردار ادا کر سکے،مذاکرات کا دوسرا دور آئندہ ہفتے ہوگا، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے بغداد میں سعودی عرب سے خفیہ بات چیت کی تصدیق یا تردید کرنے سے انکار کردیا ،انہوں نے کہاکہ ایران نے سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا ہمیشہ خیرمقدم کیاہے ،مذاکرات دونوں ممالک کے عوام اور علاقائی امن و استحکام کیلئے فائدہ مند ہیں، یہ سوچ برقرار رہے گی ۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular