سید جعفر شاہ کاظمی
ایران امریکہ حالیہ کشیدگی پہ اب تک بہت سے کالم نگار، دانشور، تجزیہ نگار اور عالمی سیاست و عسکری ماہرین قلم اٹھا چکے ہیں۔اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ پرنٹ میڈیا کے ساتھ ساتھ الیکٹرانک میڈیا خصوصاًسوشل میڈیا پر دلچسب، متناسب، غیر متناسب، جانبدار اور غیر جانبدار تبصرے اور گفتگو سننے اور دیکھنے کو مل رہی ہے۔ ایران امریکہ تنازعہ کئی دہائیوں پہ محیط ہے۔اس اہم اور اثرانگیز تنازعے کی تاریخ، ماہیت،خصوصا انقلاب اسلامی ایران کے بعد مشرق وسطی کی سیاست،اور حالیہ کشیدگی اور اسکے نتیجے میں ایک ایرانی جنرل کی شہادت اور اس کے نتیجے میں ایران کا عراق میں موجود امریکی ائیر بیسز پر بیلیسٹک میزائل حملوں کے بعد کی صورتحال سمیت مستقبل میں اس کے اثرات پہ بھی بات ہوگی۔
قارئین کرام: ایران امریکہ کشیدگی کے تناظر میں کچھ دیسی دانشوروں نے حسب سابق امریکہ کو ناقابل شکست طاقت قرار دیا نہ صرف یہ بلکہ ایران کے امریکی ائیربیسز پر کئے گئے حملوں کو بھی باہمی رضامندی کا شاخسانہ قرار دینے کی ناکام کوشش بھی کی۔تاہم بہت سے کالم نگاروں اور عسکری ماہرین نے نہ صرف اس اقدام کو جائز قرار دیا ہے بلکہ اسے خطے میں امریکی مفادات کے لئے اہم خطرہ قرار دیا ہے اور تسلیم کیا ہے کہ ایران نہ صرف وقت کے سپر پاور کو چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ اسے عملی جامہ بھی پہنا سکتا ہے۔قبل اس کے کہ میں اس پر مزید بات کروں قرآن مجید فرقان حمید سے تین واقعات کو قارئین کی نذر کرنا چاہتاہوں۔
حضرت موسی علیہ السلام کی برکت سے اللہ نے بنی اسرائیل کو بہت سی نعمتوں سے نوازا جس میں سے ایک صندوق عہد بھی تھا۔یہودی اسے اپنے لشکر کے آگے اٹھائے رکھتے تھے۔جس سے انہیں سکون اور روحانی طاقت ملتی تھی۔انہیں زمانے میں طاقت و عظمت بھی حاصل رہی مگر یہی طاقت اور نعمتیں رفتہ رفتہ غرور و تکبر کا باعث بن گئیں اور وہ قانون شکنی کرنے لگے۔اس کے نتیجے میں انہیں فلسطینیوں کے ہاتھوں شکست ہوئی، یہاں تک کہ وہ قوم دربدر اور غلامی کی زندگی بسر کرنے پہ مجبور ہوئی۔ ایسے میں اللہ نے انکی ہدایت کے لئے حضرت شموئیل ؑ کو پیغمبر بناکر بھیجا۔جب آپؑ ان کی پست ہمتی سے واقف ہوئے تو انہوں نے کہا کہ ” مجھے ڈر ہے کہ جب جہاد کا حکم آئے تو تم کہیں امیر ورہبر کے حکم سے روگردانی نہ کرو اور دشمن سے مقابلے اور جنگ سے پہلو تہی نہ کرو۔۔۔الغرض حضرت شموئیل ؑ نے اللہ کی حکم سے حضرت طالوت کو قیادت سونپی اور کہا کہ طالوت کی پیروی کرو اور دشمن سے مقابلے کے لئے تیار ہوجاو۔چونکہ طالوت پیشے سے چرواہے تھے لہذا بنی اسرائیل انہیں سربراہ و امیر ماننے سے لیت و لعل سے کام لینے لگے مگر صندوق عہد کی گواہی کے بعد بادل ناخواستہ انہیں قبول کیا۔ طالوت نے قیادت ملنے کے بعد دشمن پہ حملہ کرنے کا ارادہ کیا اور اپنے قوم سے مخاطب ہوکر کہا کہ میرے ساتھ وہ لوگ چلیں جن کی ساری توجہ جہاد پہ مرکوز رہ سکے۔جن کی؟صحت ناقص ہو اور پست ہمت ہو، وہ اس جنگ میں شرکت نہ کریں۔بہت جلد ایک کثیر اور طاقت ور فوج دشمن کی طرف چل پڑے۔سورج کی تپش زیادہ تھی،گرمی میں چلتے چلتے انہیں سخت پیاس لگ گئی اور اسی لمحے طالوت نے اللہ کے حکم سے انہیں آزمانے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا آگے راستے میں نہر آئے گی مگرآپ میں سے جو اس نہر سے سیر ہوکر پئے گا ان کا مجھ سے کوئی تعلق نہ ہوگا۔جب انکی نظر نہر پر پڑی تو بہت خوش ہوئے اور خوب سیر ہوکر پانی پیا۔تھوڑے سے فوجی اپنے عہدوپیمان پر قائم رہے۔طالوت نے اکثریت کو چھوڑ کر ایک قلیل تعداد صاحب ایمان کو ساتھ لیااور دشمن کی طرف پیشقدمی جاری رکھی۔طالوت کی فوج دشمن فوج کے مقابلے میں اپنی کم تعداد پہ پریشان اور وحشت زدہ بھی ہوئی اور کہا کہ ہم میں تو اس طاقتور فوج سے لڑنے کی سکت نہیں۔ لیکن کچھ صاحب ایمان اب بھی دشمن کی فوجی کثرت وقوت اور اپنی تھوڑی تعداد پہ ہراساں نہ ہوئے۔اور کمال شجاعت سے طالوت سے کہنے لگے کہ آپ جو حکم دیں گے ہم ہر مقام پہ آپ کا ساتھ دیں گے۔ اور ان شاء اللہ کم تعداد کے باوجود دشمن سے جہاد کریں گے۔کیونکہ کئی مرتبہ کم تعداد اللہ کے ارادہ و مشیت کے سہارے زیادہ پر غالب آئی ہے۔ اور خدا استقامت وپامردی دکھانے والوں کے ساتھ ہے۔
بہرحال جنگ کی آگ بھڑک اٹھی۔ دشمن کی فوج کے سپہ سالار جالوت لشکر لے کر سامنے آیا اور رعب دار آواز میں مبارزہ کرنے لگا۔اسکی رعب دار آواز نے سب پر لرزہ طاری کردیاکسی میں جالوت سے مقابلے کی جرات نہ تھی ایسے میں ایک کم سن جوان داود جو شاید اپنے جنگجو بھائیوں کی خدمت کے لئے ساتھ آیا تھا۔ان کے ہاتھ میں خلد خن(غلیل کی طرح) تھی اس کے ذریعے دو پتھر ایسے ماہرانہ انداز میں پھینکے کہ ٹھیک جالوت کی پیشانی اور سر میں پیوست ہوگئے۔وہ گرا اور مر گیا۔۔چونکہ سپہ سالار ایک بچے کے ہاتھوں مر چکا تھا دشمن فوج کے سپاہیوں پر وحشت اور تعجب کا عالم طاری تھا۔جالوت کے قتل سے اسکی فوج میں خوف وہراس پھیل گیااور بھاگ کھڑا ہوا اور جالوت کی کثیر اور طاقتور فوج کو ایک چراوہے کی سربراہی میں تعداد میں کم اور کمزو ر فوج سے شکست کاسامنا کرنا پڑا۔یوں اللہ نے طالوت اور اسکی فوج کواستقامت و پامردی کے صلے میں جالوت کی طاقتور فوج پہ غلبہ و فتح عنایت فرمائی۔۔۔(سورہ بقرہ 246-51)
دوسرا واقعہ جنگ بدر کا ہے۔ جس میں اللہ نے ہر جہت سے مسلمانوں سے تعداد اور طاقت میں کئی گنا دشمن کو شکست فاش سے دوچار کیا۔بحیثیت مسلمان ہم سب اس معرکے سے آگاہ ہیں۔ اس جنگ میں قریش کا لشکر تقریبا 1000 افراد پرمشتمل تھا۔جن میں 950 جنگجو تھے۔جن میں سے بعض انکے بڑے اور مشہور سردار تھے۔ سامان حرب میں 700 اونٹ،100گھوڑے تھے۔ہر جنگجو سامان حرب سے لیس تھا۔ ماحول پر ہیبت اور وحشتناک تھا۔ لشکر قریش فراواں جنگی سازوساماں کے ساتھ ساتھ حوصلہ بڑھانے کے لئے گانا بجانے والی عورتوں کو بھی ساتھ لائے تھے۔ جبکہ دوسری طرف صرف 313 اصحاب باوفا تھے جو تعداد میں تین گنا کم تھے مگرجزبہ شہادت سے سرشار اور صبر واستقامت کا پیکر تھے۔ان313 افراد میں سے صرف حضرت مقداد اور حضرت مرثد کے پاس گھوڑے باقی سب پیدل تھے۔ اس عظیم معرکے کے لئے مسلمانوں کے پاس دو گھوڑے، ستر اونٹ،چھ زرہیں،اور آٹھ تلواریں تھیں۔بظاہر دشمن کو ا فرادی قوت اور سامان حرب میں ہر طرح سے واضح برتری حاصل تھی(بس صرف اس زمانے کے تجزیہ نگار نہ تھے) مگر اس کے باوجود مسلمانوں کو اس جنگ میں فتح حاصل ہوئی۔دشمن مسلمانوں سے ہر لحاظ سے بڑا ہونے کے باوجود شکست سے دو چار ہوا۔ان کا غرور و تکبر خاک میں مل گیا۔ان میں اپنے آپ کو ناقابل شکست سمجھنے کا بھرم مٹی میں مل چکا تھا۔(سورہ آل عمران 80)
قارئین کرام:تیسرا واقعہ جسے اللہ سبحانہ نے قرآن مجید میں بنی نوع انسان کی رہنمائی اور عبرت کے لئے ذکر کیا ہے وہ ہے ابرہہ کا انجام کہ کس طرح اللہ نے ایک طاقتور، بد مست، طاقت اور اقتدار کے نشے میں چور بادشاہ اور اس کی فوج کو ایک چھوٹے سے پرندے کے ذریعے عبرتناک انجام سے دوچار کیا۔مفسرین اور مورخین کا کہنا ہے کہ یمن کے بادشاہ ” ذونواس” نجران کے عیسائیوں پربہت ظلم کرتا تھا۔ لہذا نجاشی نے ” اریاط” نامی شخص کے کمان میں یمن کی طرف لشکر روانہ کیا ” ابرہہ” بھی اس لشکر کے افسروں میں سے تھا جوبعد میں ” اریاط” کے خلاف بغاوت کرکے خود حاکم بن گیا۔اپنی طاقت کے نشے میں ابرہہ ا ور اس کا لشکر ہاتھیوں پہ سوار ہوکر خانہ کعبہ کو ڈھانے کی نیت سے مکہ پر حملہ آور ہوئے۔جہاں ان کا سامنا حضرت عبد المطلب ؑ سے ہوااورجب آپؑ کو انکی نیت کا پتہ چلا تو فرمایا اس گھر کا بھی ایک مالک ہے اور وہ اسکی حفاظت خود کرے گا۔جیسے ہی ابرہہ اور لشکری ہاتھیوں پہ سوار ہوکر خانہ کعبہ کی طرف بڑھے تو غول کے غول چھوٹے چھوٹے پرندے آپہنچے جن میں سے ہر ایک کے پاس تین تین کنکریاں تھیں۔پرندوں نے وہ کنکریاں ابرہہ کے لشکر پر برسانی شروع کردیں۔ یہ کنکریاں جس کو لگتیں وہ ہلاک ہوجاتا۔یوں اللہ نے ابرہہ اور اس کے لشکر کا غرور خاک میں ملادیااور انہیں تباہ و برباد کرکے رکھ دیا(سورہ فیل)۔۔۔


































