
گلگت بلتستان کی نگران حکومت اور صوبائی الیکشن کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ جی بی کے عام انتخابات فوج کی نگرانی میں نہیں ہوں گے، صرف لا اینڈ آرڈر کی صورتحال میں ضرورت پڑنے پر فوج کو طلب کیا جائے گا۔ گلگت میں نگران وزیر اعلیٰ میر افضل اور چیف الیکشن کمشنر راجہ شہباز نے الگ الگ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہماری اولین ترجیح یہ ہے کہ گلگت بلتستان میں پرامن، صاف شفاف، غیر جانبدار انتخابات کا انعقاد کرایا جائے۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ تین اے پی سی بلا کر تمام جماعتوں کی باہم مشاورت کے ساتھ اس عمل کو آگے بڑھایا جا رہا ہے اور تمام جماعتیں اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ پاک فوج کی نگرانی میں انتخابات کرائے جائیں لیکن اس وقت ایسا کوئی مسئلہ نہیں کہ ہم پاک فوج کی نگرانی میں انتخابات کا انعقاد کرائیں، ہماری سیکیورٹی کے لئے پولیس، اسکاوٹس، ایف سی اور رینجرز موجود ہیں جن کی ہم خدمات لیں گے اور ضرورت پڑنے پر سیکیورٹی کے لئے پاک فوج کی خدمات بھی حاصل کی جائیں گی۔ ادھر نگران وزیر اعلیٰ کا پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ ابھی تک لاء اینڈ آرڈر کا کوئی بھی ایشو سامنے نہیں آیا ہے جو کہ ہماری سب سے بڑی کامیابی ہے، امن ہوگا سب کچھ ہوگا۔ امن نہیں ہوگا تو ہر ایک متاثر ہوگا۔ قیام امن صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس امن کو برقرار رکھا جائے گا۔ کسی کو بھی بدامنی پھیلانے کی اجازت نہیں دینگے اور جو بھی بدامنی کا مرتکب ہوگا اس کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
گلگت بلتستان میں کل ووٹرز کی تعداد 7 لاکھ 45 ہزار 361 ہے، 2015ء کے انتخابات سے اب تک ایک لاکھ 26 ہزار 997 ووٹرز کا اضافہ ہوا ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ الیکشن میں 6 لاکھ 18 ہزار 364 ووٹرز رجسٹرڈ تھے جبکہ 2020ء میں یہ تعداد بڑھ کر 7 لاکھ 45 ہزار 361 ووٹرز ہو گئی ہے۔ اس طرح گزشتہ الیکشن کے بعد سے اب تک ایک لاکھ چھبیس ہزار نو سو سے زائد ووٹرز کا اضافہ ہوا ہے۔


































