Sun Oct 11, 2026

آئی سی سی نے امریکی پابندیاں مسترد کر دیں امریکا نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کردیں امریکی حکام تہذیبی جنگ کا بیانیہ بنانے سے قبل ماضی کے واقعات کا مطالعہ کریں، محسن رضائی ٹرمپ نے ایران سے جنگ چھیڑ کر امریکا کو رسوا کیا، امریکی سینیٹر گلگت بلتستان کے وسائل پر کسی بیرونی طاقت کو اثر انداز نہیں ہونے دیں گے، مرکزی انجمن امامیہ ٹرمپ کی پھر رسوائی، امن کا نوبل انعام انسانی حقوق کی وکیل ناوی پلے کے نام آبنائے ہرمز میں ایل پی جی گیس بردار جہاز پر حملہ، آگ لگ گئی پاکستان ہر خطرے کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہے گا، وزیراعظم سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ

روزانہ کی خبریں

کیا بچے کو بھوک نہیں لگتی؟


انسانی جسم بھی ایک گاڑی کی طرح ہے گاڑی میں فیول ہو تو وہ آگے بڑھتی ہے اور فیول نہ ہوتو یہ گاڑی ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھے گی ٹھیک اسی طرح ہمارا جسم بھی ہے جسم کی کارکردگی کو بہتر انداز میں چلانے کیلئے غذا کی ضرورت ہے یہی انسانی جسم کا فیول ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ غذا کب لی جائے یا کھانا کب کھایا جائے اس کا سادہ جواب یہی رہے گا کہ بھوک لگنے پر ہی کھایا جائے‘ مگر اکثر ماو ¿ں کو یہ شکایت رہتی ہے کہ ان کا بچہ کھانا نہیں کھاتا۔
اعتدال ضروری ہے
کھانے کیلئے زور دینے پر کہتا ہے کہ مجھے بھوک نہیں ہے اس طرح کے جواب سے ہر گھر کی ماں پریشان رہتی ہے۔ بھوک ایک طرح کا اشارہ ہے کہ جسم کو غذا کی ضرورت ہے ورنہ جسمانی مشین میں پیچیدگیاں پیدا ہوجائیں گی۔زندگی میں اعتدال بھی ضروری ہے یعنی بھوک زیادہ لگنا او رنہ لگنا بھی مناسب نہیں ہے۔ماو ¿ں کو اس بات کی شکایت اکثر رہتی ہے کہ بچے کھانا نہیں کھاتے‘کھانا نہ کھانے اور بھوک نہ لگنے کے کئی ایک اسباب ہوسکتے ہیں۔قبض‘ دواو ¿ں کے استعمال میں کثرت‘ مزاج کی خرابی‘مرچ اور مصالحہ دار اور تلی کی اشیا کھانے اور نیند کی کمی سے بھی بچوں کو بھوک نہیں لگتی۔
مضر صحت چیزوں کا بھوک پر اثر
اکثر بچے‘آلو چپس‘بازار کی اشیاءسافٹ ڈرنکس اس طرح کی ضر صحت چیزیں کھالیتے ہیں اس سے بھی بھوک ختم ہوجاتی ہے۔ اکثر بچے‘کھانے سے زیادہ میٹھے مشروبات پینے کو ترجیح دیتے ہیں ان مشروبات(سافٹ ڈرنکس) میں ایسے اجزاء پائے جاتے ہیں جو بھوک پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ جدید تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کھانے سے نصف گھنٹہ قبل بچوں کو اگرمیٹھے مشروبات دیئے جائیں تووہ معمول سے کم یعنی نصف خوراک ہی کھائیں گے۔
بھوک کیوں کم لگتی ہے
بچوں کے نشو ونما کی رفتار بھوک پر اثر انداز ہوتی ہے۔بچے جب آہستہ سے نشو نما پاتے ہیں تو ان کی بھوک بھی کم ہوتی ہے خون کی کمی‘قبض‘تھائرایڈ‘نزلہ زکام کی شکایت میں بھی بچے کھانا کم کھاتے ہیں بعض گھروں میں کھانا کھانے کا وقت مقرر نہیں ہوتا‘یہ عنصر بھی بچوں کی بھوک کم کردیتی ہے۔ والدین میں ناچاقی‘گھریلو لڑائیاں‘ معاشی پریشانیاں‘ جذباتی عدم توازن اور دیگر کئی عوامل ہیں جن سے بچوں میں کھانے کی بھوک کم ہوجاتی ہے۔
والدین کو کیا کرنا ہے؟
بچوں میں بھوک بڑھانے کیلئے آخر ماو ¿ں کو کیا کرنا ہے یہ ایک اہم سوال ہے۔ بچوں کی بھوک بڑھانے کیلئے ماو ¿ں کو ہی کچھ کرنا پڑے گا۔ پہلے بچے کی پسند اور نہ پسند کو سمجھیں اس کی پسند کے مطابق ہی ناشتہ‘کھانا تیار کریں۔ بچوں کو باہر کی چیزیں کھانے کیلئے نہ دیں کھانا کھانے کے بعد چہل قدمی بالخصوص رات میں کرائیں‘بچے کی اجابت صاف ہے یا نہیں اس کے بارے میں پوچھتے رہیں۔
انہیں پھل کھانے کا عادی بنائیں
انہیں پھل کھانے کا عادی بنائیں‘ سبزیاں کھانے کی ترغیب دیتی جائیں۔ ترش اور میٹھے انار کا مشروب بچوں کو پلایا جائے اس سے بھوک کھلتی ہے۔ کھانا کھانے سے قبل 10 تا15 منٹ ٹہلنے سے ہاتھ اور منہ اچھی طرح دھو کر کھانے سے بھوک کھل کر لگتی ہے۔ پپائی‘آڑو‘جامن‘ جام اور بیر‘بچوں کو روزآنہ کھانے کیلئے دیں اس سے بھوک میں اضافہ ہوتا ہے۔

ReplyReply allForward

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular