
اسلام آباد: مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ پوری قوم پاکستان کی خودمختار ریاست کو امریکی ڈکٹیشن سے آزاد دیکھنا چاہتی ہے، سرحد پار انسداد دہشت گردی کے لیے امریکا کو اڈوں کی فراہمی پر وزیر اعظم کا موقف پوری قوم کے جذبات کی ترجمانی کرتا ہے، موجودہ حکومت کو اپنے اس جاندار اور جراتمندانہ فیصلے پر ثابت قدم رہنا ہو گا، مرکزی شوریٰ کے اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ وطن عزیز کو عدم استحکام ، خانہ جنگی اور بدامنی کا شکار دیکھنا ملک دشمن عناصر کا خواب ہے، ریاستی ادارے اور موجودہ حکومت ایک پیج پر رہ کر ملک دشمنوں کے عزائم اور خدشات کو خاک میں ملا سکتے ہیں، شرپسند عناصر شرپسندی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے، محرم الحرام کے دوران حالات کو خراب کرنے کی دانستہ کوشش کی جاتی ہے، عالمی حالات کے تناظر میں اس بار زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے، تمام طبقات کو محرم الحرام کے دوران نواسہ رسول کے غم کو مقدم رکھتے ہوئے فرقہ وارانہ اور اشتعال انگیز گفتگو سے اجتناب کرنا ہو گا، مذہبی منافرت کا پرچار کرنے والے چاہے ان کا تعلق کسی بھی مکتبہ فکر سے ہو ملک و قوم کے دشمن ہیں،انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیئے کہ محرم الحرام کے دوران عزاداری کے پروگراموں کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کریں اور ہماری عبادات پر قدغن لگانے کے غیر آئینی اور شدت پسندانہ قدام سے باز رہیں۔قومیت کی تشکیل میں سب سے بڑی رکاوٹ شدت پسندی ہے۔انہوں نے کہا کہ یکساں نصاب تعلیم کے نام پر مخصوص عقائد کا پرچار ناقابل قبول ہے، اس فیصلے کو کسی طور قبول نہیں کیا جائے گا۔


































