
رکن پنجاب اسمبلی اور مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی مرکزی سیکریٹری جنرل سیدہ زہراء نقوی نے سانحہ نارووال پر ایس ایچ او اور دیگر اہلکاروں کو فی الفور برطرف کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اپنے ایک بیان میں زہراء نقوی کا کہنا تھا کہ نارووال میں پولیس کی جانب سے خواتین کیساتھ دست درازی اختیارات کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے، خواتین کی تذلیل کے اس واقعہ پر خاموش نہیں رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایم ڈبلیو ایم طاقت اور اختیارات کے زور پر کسی بھی غیر آئینی اقدام کی کھل کر مخالفت کرے گی، گرفتار اور لاپتہ خواتین کو فوری بازیاب کیا جائے اور قانون شکنی کے مرتکب پولیس افسران کیخلاف سخت کارروائی کی جائے۔
سیدہ زہراء نقوی نے کہا کہ پولیس نے چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کیا، مرد اہلکار خواتین کو گھسیٹتے ہوئے لے گئے، یہ نارووال ہے یا مقبوضہ کشمیر؟ انہوں نے کہا کہ ایس ایچ او نارووال سٹی کو فوری طور پر معطل کرکے گرفتار کیا جائے اور ڈی پی او نارووال کو بھی فوری طور پر تبدیل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب اسمبلی میں بھی اس حوالے سے قرارداد جمع کروائی جائے گی، بیگناہوں کیساتھ ایسے شرمناک فعل نے پوری قوم کے سر شرم سے جھکا دیئے ہیں۔
واضح رہے کہ پولیس نے نارووال میں اربعین واک میں شریک عزاداروں کے گھروں میں چھاپے مارے اور بغیر لیڈی پولیس کے گھروں میں داخل ہوئے، اور خواتین اور بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور حراست میں لیا۔


































