ایک ہفتے سے دھرنا جاری کسی حکومتی شخصیت نے رابطہ بھی نہیں کیا، مختلف سیاسی وسماجی شخصیات کی دھرنے میں شرکت کرکے اظہار یکجہتی
مسنگ پرسنز کا معاملہ ریاستی اداروں پر سوالیہ نشان ہے، فاروق ستار، سندھ حکومت نے اس معاملے پر حساس اداروں کو آن بورڈ لیا ہے، شہلا رضا
کراچی نیوز ڈیسک جبری لاپتہ کئے گئے افراد کی بازیابی کے لئے جوائنٹ ایکشن کمیٹی فار شیعہ مسنگ پرسنز کی اپیل پر مزار قائد کے سامنے دھرنے کو ایک ہفتہ گذر گیالیکن کسی حکومتی شخصیت نے داد رسی تو دور رابطہ بھی نہیں کیا، شیعہ علمائ ، ذاکرین، عمائدین، نوحہ خوانوں، منقبت خوانوں، سیاسی وسماجی شخصیات نے دھرنے میں شرکت کرکے اظہار یکجہتی کیا، پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما اور صوبائی وزیر شہلا رضا اور مشیر وزیراعلیٰ سندھ وقار مہدی، فاروق ستار اور دوسرے سیاسی و مذہبی رہنماوں نے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا اور اہل خانہ سے مکمل یکہجتی کا اظہار کیا، ڈاکٹر شہلا رضا نے کہا کہ لوگوں کا اس طریقہ سے مسنگ ہونا تشویش کا باعث ہیں، آپ لوگوں کو یقین دلواتی ہوں کہ آپ لوگوں کی آواز بلند کروں گی، سندھ حکومت نے اس معاملے پر حساس اداروں کو آن بورڈ لیا ہے، اگر مسنگ پرسنز پر کوئی الزامات ہیں تو انہیں کورٹ میں پیش کیا جائے، ایم کیو ایم تنظیم بحالی تحریک کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے دھرنے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ آج چوتھی مرتبہ شیعہ لاپتہ افراد کے اہل خانہ سڑکوں پر اپنے پیاروں کی بازیابی کیلئے احتجاج کر رہے ہیں، مسنگ پرسنز کا معاملہ ریاست اور ریاستی اداروں پر سوالیہ نشان ہے، لاپتہ افراد کا معاملہ حل کرنا انہیں بازیاب کرانا حکومت کی ذمہ داری ہے، شرکائ دھرنے سے خطاب میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان سندھ کے ترجمان علامہ مبشر حسن کا کہنا تھا کہ ملک بھر سے لاپتا شیعہ افراد کی بازیابی کے لیے کراچی میں دیے گئے دھرنے میں لاپتا افراد کے اہل خانہ کا کھلے آسمان تلے ایک ہفتہ گزر چکا ہے ابھی تک کسی حکومتی ذمہ دار شخصیت نے ان سے رابطہ نہیں کیا، ہم پہلے بھی ایسے غیر جمہوری و غیر منصفانہ اقدامات پر آواز بلند کرتے آئے ہیں آئندہ بھی اپنے اصولی موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
- Home
- خبریں
- قومی خبریں
- لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے طویل دھرنا، حکومتی بے حسی…
لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے طویل دھرنا، حکومتی بے حسی برقرار
-
Ilyas - اپریل 8, 2021
- قومی خبریں
- 8
- 0 minute read


































