تحریر: علی احمدی
18 ذی الحج دس ہجری کے دن جب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی حیات مبارک کے آخری مراحل میں تھے خداوند تبارک و تعالی نے حضرت جبرئیل علیہ السلام کو آپ ص کے حضور بھیجا اور حکم دیا کہ میرے دین سے متعلق وہ اہم پیغام پہنچا دو کہ جسے نہ پہنچانے کی صورت میں تمہاری اب تک انجام پائی ساری زحمت بے نتیجہ ہو جائے گی۔ یہ پیغام درحقیقت امت مسلمہ کے مستقبل سے مربوط تھا۔ امت مسلمہ کو نظام امامت کی صورت میں ایک الہی سیاسی نظام عطا کیا جا رہا تھا۔ تقریباً اڑھائی سو سال بعد آخری امام حضرت ولیعصر عج نے اپنی غیبت کبری کے آغاز کی خبر دی اور انہیں اپنی بظاہر عدم موجودگی میں ایسے فقہاءکی جانب رجوع کرنے کا حکم دیا جو خدا کے مطیع اور نفسانی خواہشات کے مخالف ہوں۔ یوں نظام مرجعیت کا آغاز ہو گیا۔
غیبت کبری سے اب تک مکتب اہلبیت اطہار علیہم السلام کے پیروکاروں میں ایسے عظیم متقی اور مجاہد مجتہد یا فقیہ پیدا ہوتے رہے جنہوں نے نہ صرف ملت تشیع بلکہ امت مسلمہ کو اپنی عالمانہ اور مجاہدانہ صلاحیتوں کی بدولت زمانے کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے میں بنیادی رہنمائی اور سرپرستی فراہم کی۔ یہ سلسلہ یونہی آگے بڑھتا رہا یہاں تک کہ بیسویں صدی میں وقت کے عظیم مجاہد اور مجتہد امام خمینی رحمہ اللہ علیہ نے نظام مرجعیت کو اٹھان دی اور ایران میں فقہ اہلبیت علیہم السلام کی بنیاد پر جدید زمانے کے تقاضوں کے مطابق ایک اسلامی نظام حکومت تشکیل دیا۔ یہ نظام حکومت جو نظام ولایت فقیہ کے نام سے معروف ہے درحقیقت نظام امامت کا ہی تسلسل ہے۔ ولی فقیہ درحقیقت غدیر کا پاسبان ہے جس نے امام عصر عج کے ظہور تک اس عظیم الہی نعمت کی پاسبانی کرنی ہے۔ تحریر حاضر میں غدیر کے موجودہ پاسبان ولی امر مسلمین آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کی نگاہ سے غدیر کو پہچاننے کی کوشش کی گئی ہے۔
غدیر کو زندہ رکھنا اسلام کو زندہ رکھنا ہے
غدیر کو زندہ رکھنا ایک معنی میں اسلام کو زندہ رکھنا ہے۔ یہ مسئلہ صرف اہل تشیع اور امیرالمومنین علی علیہ السلام کی ولایت کا عقیدہ رکھنے والوں سے مخصوص نہیں ہے۔ اگر ہم اہل تشیع اور امام علی علیہ السلام کے پیروکار ہونے کا دعوی کرنے والے غدیر کی حقیقت کو صحیح انداز میں بیان کر دیں، خود بھی سمجھیں اور دوسروں کو بھی سمجھائیں تو واقعہ غدیر بذات خود اتحاد اور وحدت کا باعث بن سکتا ہے۔ ایک خاص مذہبی فرقے کی جانب سے عقیدے کی صورت میں غدیر سے متصل رہنا ایک موضوع ہے جبکہ غدیر کی شناخت ایک علیحدہ موضوع ہے۔ اسلام نے اسلامی معاشرے، اسلامی نظام اور اسلامی دنیا کی تشکیل کے بارے میں اپنے اعلی ترین نظریات کا اظہار واقعہ غدیر میں کیا ہے۔ (31 اکتوبر 2012ئ)
غدیر کا مقصد صرف جانشین مقرر کرنا نہیں بلکہ نظام امامت متعارف کروانا تھا
غدیر کا واقعہ صرف پیغمبر اکرم کا جانشین مقرر کرنے کیلئے رونما نہیں ہوا۔ غدیر کے دو پہلو ہیں: ایک جانشین مقرر کرنا اور دوسرا امامت کے مسئلے پر توجہ دلانا۔ امامت اسی معنی میں جو تمام مسلمان اس لفظ یا عنوان سے سمجھتے تھے۔ امامت یعنی انسانوں کی پیشوائی، دینی اور دنیوی امور میں معاشرے کی پیشوائی۔ یہ مسئلہ پوری انسانی تاریخ میں ایک اہم مسئلہ رہا ہے۔ امامت کا مسئلہ صرف مسلمانوں یا اہل تشیع سے مخصوص مسئلہ نہیں ہے۔ امامت یعنی ایک شخص یا گروہ ایک معاشرے پر حکمرانی کرتا ہے اور دنیوی اور روحانی اور اخروی امور میں اس کی سمت کا تعین کرتا ہے۔ یہ تمام انسانی معاشروں کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ (25 نومبر 2010ء)
اگر مخالفت نہ ہوتی
آج ہم اور انسانی معاشرہ بدستور انسان کی ابتدائی ضروریات میں پھنسا ہوا ہے۔ دنیا میں بھوک ہے، امتیازی رویے ہیں۔ کم بھی نہیں ہیں بلکہ وسیع حد تک ہیں۔ ایک جگہ محدود بھی نہیں ہیں بلکہ ہر جگہ پائے جاتے ہیں۔ بدمعاشی ہے، انسانوں پر انسانوں کی ناحق حکمرانی ہے، وہی چیزیں جو چار ہزار سال پہلے، دو ہزار سال پہلے کسی اور شکل میں پائی جاتی تھیں۔ آج بھی انسانیت انہی مشکلات کا شکار ہے اور صرف ان کی شکل میں تبدیلی آئی ہے۔ غدیر اس سلسلے کا آغاز تھا جو بنی نوع انسان کو اس مرحلے سے باہر نکال کر نئے مرحلے میں داخل کرنے کی بھرپور صلاحیت کا مالک تھا۔ ایسی صورت میں (نئے مرحلے میں) انسان کو درپیش چیلنجز زیادہ اعلی اور ظریف قسم کی ضروریات اور اعلی مرتبہ کی خواہشات اور محبتوں پر مشتمل ہونے تھے۔
انسان کی ترقی کا راستہ تو بند نہیں ہے۔ ممکن ہے بنی نوع انسان اگلے کئی ہزار یا کئی ملین سال تک جاری رہے۔ جب تک یہ انسانی نسل باقی رہے گی مسلسل ترقی کے مراحل طے کرتی رہے گی۔ البتہ آج ترقی کے بنیادی ستون تباہ حال ہیں۔ ان ستونوں کی تعمیر پیغمبر اکرم ص نے کی تھی اور ان کی حفاظت کیلئے اپنی جانشینی اور وصایت کا مسئلہ اٹھایا تھا۔ لیکن اس کی مخالفت کی گئی۔ اگر مخالفت نہ کی جاتی تو آج صورتحال مختلف ہوتی۔ غدیر یہ ہے۔ ائمہ طاہرین علیہم السلام کی زندگی کے اڑھائی سو سال کے دوران جب بھی انہیں موقع ملا ہے انہوں نے امت مسلمہ کو پیغمبر اکرم ص کے مقرر کردہ راستے پر واپس لوٹانے کی کوشش کی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہو سکا۔ اب آج کے دور میں ہم میدان میں اترے ہیں اور خدا کے فضل اور توفیق الہی سے ہمت کر رہے ہیں جو انشاءاللہ بہترین انداز میں جاری رہے گی۔ (19 جنوری 2006ء)
غدیر، پاسبان غدیر کی نگاہ میں (حصہ دوم)
عید اللہ الاکبر
ہماری روایات میں عید غدیر کو "عید اللہ الاکبر”، "یوم العھد المعھود” اور "یوم المیثاق الماخوذ” جیسے عناوین سے یاد کیا گیا ہے۔ اس قسم کی تعبیریں اس بابرکت دن کی خاص اہمیت اور اس پر ائمہ معصومین علیہم السلام کی خاص تاکید کو ظاہر کرتی ہیں۔ اس کی وجہ ولایت کا موضوع ہے۔ وہ امر جو اسلام میں الہی احکام کے اجرا کی ضمانت فراہم کرتا ہے، اسلامی حکومت اور قرآنی احکام کی حاکمیت ہے۔ بصورت دیگر اگر (ایک معاشرے میں) تمام افراد باایمان اور باعقیدہ ہوں اور شخصی حد تک عمل انجام دیتے رہیں لیکن حاکمیت (چاہے قانوں وضع کرنے کے مرحلے میں یا اسے لاگو کرنے کے مرحلے میں) دوسروں کے ہاتھ میں ہو تو اس معاشرے میں اسلام کا تحقق دوسروں کے رحم و کرم پر ہو گا۔
اگر وہ بے انصاف ہوں تو مسلمان اسی صورتحال سے دوچار ہوں گے جو آج کوسوو میں دیکھ رہے ہیں اور ماضی میں بوسنیا ہرزوگوئین اور آج اور ماضی میں فلسطین اور دیگر مقامات پر نظر آ رہی ہے۔ لیکن اگر حکمران تھوڑے بہت انصاف کے مالک ہوں تو وہ مسلمانوں کو اپنے گھروں کی حد تک یا زیادہ سے زیادہ محلے کی حد تک اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی اجازت دے دیں گے لیکن اسلام مکمل طور پر حکمفرما نہیں ہو پائے گا۔ (5 اپریل 1999ء)
غدیر کو مسلمانوں میں اختلاف کا باعث بنانے سے گریز کریں
شہید مطہریؒ کا ایک مقالہ ہے جس کا عنوان "غدیر اور وحدت اسلامی” ہے۔ اس میں انہوں نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ غدیر کا واقعہ کس طرح مسلمانوں کے قلوب میں قربت بڑھنے کا باعث بن سکتا ہے۔ علامہ امینی نے بھی اپنی کتاب "الغدیر” میں اہل تشیع کا عقیدہ ثابت کیا ہے۔
لیکن علامہ امینی کی کتاب، ان کے انداز بیان، سلیقے اور اس واقعے کی تحقیق کرنے کا انداز ایسا ہے جو تمام مسلمانوں کو اپنی جانب کھینچتا ہے۔ آپ اس کتاب پر مصر، شام اور دنیا کے دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے مسلمان مفکرین کے یادگار نوٹس کا مشاہدہ کریں۔ ہمیں اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ غدیر کا واقعہ ایسے انداز میں بیان نہ کیا جائے جس میں مسلمانوں میں اختلافات اور دوریاں پیدا ہوں۔ یہ بہت اہم بات ہے۔ آج دنیا میں بڑی تعداد میں مسلمان ہمارے مکتب اور مذہب سے وابستہ ہیں اور دنیا میں عزت کے مالک بھی ہیں۔ ایران، عراق، لبنان اور دنیا کے جس حصے میں بھی اہل تشیع موجود ہیں عزت کے مالک ہیں اور مسلمان ان پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ لہذا ہمیں خیال رکھنا چاہئے کہ یہ واقعہ ایسے انداز میں بیان کیا جائے جس سے ہمارے ہم عقیدہ افراد کو ٹھیس نہ پہنچے۔ (5 دسمبر 2005ء)
واقعہ غدیر، پیغمبر اکرم کی معاشرے کے انتظامی امور میں کردار
غدیر کا واقعہ اور پیغمر اکرم ص کی جانب سے امیرالمومنین علی علیہ السلام کو امت مسلمہ کا ولی امر مقرر کئے جانا ایک عظیم اور معنی خیز واقعہ ہے۔ یہ درحقیقت نبی گرامی اسلام کی جانب سے معاشرے کے انتظامی امور میں کردار ہے۔ اٹھارہ ذی الحج دس ہجری کے دن رونما ہونے والے اس واقعے کا مطلب یہ ہے کہ اسلام معاشرے کے انتظامی امور کو اہمیت کی نظر سے دیکھتا ہے۔ ہر گرز ایسا نہیں ہے کہ اسلامی نظام اور اسلامی معاشرے میں مدیریت کے مسئلے کو اپنے حال پر چھوڑ دیا گیا ہو۔ اس کی وجہ بھی یہ ہے کہ ایک معاشرے میں مدیریت کا مسئلہ اس کے موثر ترین مسائل میں سے ایک ہے۔
اصحاب پیغمبر کے درمیان تقوی، علم، شجاعت، ایثار و فداکاری اور عدل کا مظہر ہونے کے ناطے امیرالمومنین علی علیہ السلام کی تعیناتی اس مدیریت کے مختلف پہلووں کو واضح کرتی ہے۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ اسلام کی نظر میں معاشرے کی مدیریت سے متعلق کس قسم کے امور اہمیت رکھتے ہیں۔ وہ افراد جو علی علیہ السلام کو خلیفہ بلافصل بھی نہیں مانتے آپ کے علم، زہد، تقوی، شجاعت اور حق اور عدالت کی خاطر آپ کی فداکاری کے معترف ہیں۔ اس بات پر تمام مسلمانوں اور امام علی علیہ السلام کو پہچاننے والے تمام افراد کا اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ یہاں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام اور پیغمبر اکرم ص کی نگاہ میں کس قسم کی حکومت اور مدیریت مطلوب ہے۔ (29 جنوری 2005ء)
غدیر اور انقلاب اسلامی ایران
ان افراد کی اکثریت جنہوں نے امیرالمومنین علی علیہ السلام کی بیعت کیلئے مہم چلائی، ان کے ہاتھ پر بیعت کی اور ان کے حق پر زور دیتے ہوئے اس راستے میں قربانیاں پیش کیں، نے واقعہ غدیر، ظہور اسلام اور امام علی علیہ السلام کی جنگوں کا مشاہدہ نہیں کیا تھا۔ لیکن اسلام، ہدایت اور نور صرف ان لوگوں سے مخصوص نہیں جو اس وقت موجود تھے بلکہ سب کیلئے اور ہمیشہ کیلئے ہے: "و آخرین منھم لما یلحقوا بھم”۔ اسلامی انقلاب ایک فخر آمیز اور سعادت بخش راستے کا آغاز تھا۔ وہ تمام افراد جنہیں بے انصافی سے دکھ پہنچا ہے اور عدل و انصاف کے پیاسے ہیں اسلامی انقلاب کو دل و جان سے چاہتے ہیں اور اس کیلئے جدوجہد میں مصروف ہیں۔ یہ آج سے مخصوص نہیں بلکہ مستقبل میں بھی ایسا ہی رہے گا۔ (9 جنوری 2003ء)


































