آیت اللہ مہدوی کنی
عفو و درگزر اور دوسروں کی غلطیوں سے چشم پوشی اخلاق کے اعلیٰ اصولوں اور معاشرتی آداب میں سے ایک ہے، معاشرتی زندگی میں بہت کم ایسے افراد ملتے ہیں جن کا کوئی حق ضائع نہ ہوا ہو اور دوسروں نے ان کے کسی حق کو پامال نہ کیا ہو۔بنابریں معاشرتی زندگی گزارنے کے لئے عفوو درگزر کے بغیر چارہ نہیں ہے کیونکہ اگر سب لوگ اپنے ضائع شدہ حقوق کے حصول کے لئے سخت رویہ اپنائیں اور معمولی لغزشوں سے بھی چشم پوشی نہ کریں تو زندگی بہت تلخ ہو جائے گی اور معاشرے سے باہمی الفت و محبت اور دوستانہ فضا کا مکمل طور پر جنازہ اٹھ جائے گا یوں ان کے درمیان باہمی تعاون ایک دوسرے کی مدد اور انس ناممکن ہو کر رہ جائیں گے۔
قرآن میں عفو و درگزر
قرآن مجید میں متعدد مقامات پر حکم دیا گیا ہے کہ لوگ اس مستحسن طریقے (عفو و درگزر) کو اپنائیں یعنی اگر اپنے برادر دینی سے کسی لغزش یا غلطی کا مشاہدہ کریں تو اس سے درگزر کریں۔
ارشاد ہے:
”عفو و درگزر کو اپناشیوہ قرار دو۔ نیکی کا حکم دو اور جاہلوں سے کنارہ کشی کرو(ان سے مت جھگڑو)۔“ (سورہ اعراف آیت ۹۹۱)
نیز ارشاد ہوتا ہے:
”اور پرہیزگار وہ ہیں جو راحت اور سختی دونوں میں انفاق کرتے ہیں۔ غصہ کو پی جاتے ہیں۔ لوگوں کو معاف کرنے والے ہیں اور خدا احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔“ (سورہ آل عمران آیت ۴۳۱)
احادیث میں عفو کا ذکر
جناب رسول خداؐ عفو اور درگزر کو دنیا و آخرت میں بہترین صفت قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
”کیا میں تمہیں دنیا و آخرت کے بہترین اخلاق سے آگاہ نہ کروں؟ وہ یہ ہے کہ تم اس شخص کے ساتھ رابطہ استوار کرو جو تمہارے ساتھ قطع تعلق کرے اور ا س شخص کو کچھ دو جس نے تجھے محروم کیا ہو اور اس شخص کو بخش دو جس نے تمہارے اوپر ظلم کیا ہو۔“
ایک اور حدیث میں آنحضرتؐ سے منقول ہے کہ آپؐ نے فرمایا:
”عفوو درگزر کا شیوہ اختیار کرو کیونکہ عفو و بخشش سے انسان کی عزت میں ہی اضافہ ہوتا ہے۔ پس ایک دوسرے کے ساتھ عفو کا سلوک کرو تاکہ اللہ تمہیں عزت دے۔“
عفو کی اہمیت بیان کرنے کے لئے یہی کافی ہے کہ عفو اللہ کی بہترین صفات میں سے ایک ہے۔حضرت امام زین العابدین ؑ اللہ کی حمد و ثناء فرماتے ہوئے اس صفت کا یوں تذکرہ فرماتے ہیں:
”تیری ذات وہ ہے جس نے اپنا نام بخشنے والا رکھا ہے پس مجھ سے درگزر فرما۔“
چند قابل توجہ نکات
پہلا نکتہ:
یاد رہے کہ عفوودرگزر ذاتی اور انفرادی امور میں اچھی اور پسندیدہ بات ہے لیکن اجتماعی و معاشرتی امور اور حقوق اللہ کے معاملے میں عفو اور چشم پوشی نہ صرف یہ کہ اچھی بات نہیں بلکہ مذموم اور غلط ہے۔ ان امور میں عفو و درگزر سے کام نہیں لینا چاہیے کیونکہ رسول اللہ ؐ کی سیرت یہ تھی کہ آپؐ حقوق اللہ کو پامال کرنے والوں کو سزا دیتے تھے اور جہاں حدود خداوندی کو جاری کرنا ضروری ہوتا تھا وہاں حد جاری فرماتے تھے اور کسی کی سفارش قبول نہ کرتے تھے۔ اسی طرح امیر المومنین حضرت علی ؑ جن کی تربیت رسول ؐ اللہ کے دامن میں ہوئی تھی اللہ کے حقوق کو کسی صورت ضائع ہونے نہیں دیتے تھے اگرچہ اللہ کے حقوق کو پامال کرنے والا آپؑ کا نزدیک ترین فرد ہی کیوں نہ ہو۔ اسی بناء پر جب آپ کی حکومت کے ایک گورنر نے بیت المال سے غلط فائدہ اٹھایا تو آپؐ نے اسے ایک خط لکھا جس کے بعض مندرجات کچھ یوں ہیں:
”اور میں ضروربہ ضرور اپنی اس تلوار سے تجھے ماروں گا جس سے میں نے کسی کو نہیں مارا مگر یہ کہ وہ داخل جہنم ہوا۔ اللہ کی قسم اگر حسن ؑ اور حسین ؑ بھی وہ کام کرتے جو تونے کیا ہے تو انہیں (بھی) میری طرف سے کوئی حمایت حاصل نہ ہوتی اور میرے ذریعے وہ اپنے ارادوں تک نہ پہنچ سکتے یہاں تک کہ میں ان سے حق لے لیتا اور ان کے ظلم کا ازالہ کرتا۔“
دوسرا نکتہ:
بہت سے موقعوں پر جب انسان خود غلطی اور خطا کر بیٹھتا ہے تو دوسروں سے عفو کی امید رکھتا ہے لیکن دوسروں کی غلطیوں پر اپنی طرف سے عفو و درگزر کا کوئی مظاہرہ نہیں کرتا۔ بنابریں جو شخص یہ چاہتا ہے کہ دوسرے لوگ اس کی غلطیوں سے چشم پوشی کریں اسے چاہیے کہ وہ خود بھی دوسروں کی غلطیوں سے درگزر کرے اور ان کی لغزشوں کو بخش دے تاکہ دوسرے لوگ اس کی غلطیوں کو بھول جائیں۔ اگر کوئی شخص دوسروں کی برائی کا جواب برائی سے دے کر انتقام لے تو یہ طرز عمل ان کے درمیان کینہ، عداوت کی آگ کو بھڑکانے کا باعث بنے گا۔ لیکن اگر بدی کا جواب اچھائی سے دیا جائے تو اس طرز عمل سے مد مقابل کو مطیع اور اس کی عداوت کو دوستی اور محبت میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔
جیسا کہ امیر المومنین حضرت علی ؑ کا ارشاد ہے:
”اپنے بھائی کی ملامت احسان و نیکی کے ذریعے کرو اور اس کے ساتھ بھلائی کرکے اس کے شر کو دور کرو۔(یعنی اس کی برائی کا جواب اچھائی سے دو)۔“


































