
واشنگٹن میں عراق امریکا ورچوئل اسٹریٹیجک مذاکرات کا تیسرا دور، امریکی فوجیوں کی موجودگی مشاورت اور فوجی تربیت کی حد تک باقی رکھنے پر اتفاق
انخلا کا شیڈول آئندہ ٹیکنیکل اجلاس میں طے ہو گا،مشترکہ بیان، امریکی فوجیوں کی کسی بھی شکل میں موجودگی کی کوئی ضرورت نہیں،عصائب اہل الحق
بغداد(نیوز ڈیسک) امریکا نے عراق کو فوجیوں کے انخلا کے بجائے ان کی ازسرنو تعیناتی کا جھانسا دے دیا،واشنگٹن میں ورچوئل اسٹریٹیجک مذاکرات میں امریکا کی جانب سے وزیر خارجہ انٹونی بلنکن اور عراقی ہم منصب فواد حسین نے اجلاس کی صدارت کی،مذاکرات کے بعد مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ عراقی فوج سیکیورٹی ذمہ داریاں نبھانے کی اہل ہوچکی ہے اور اب امریکی فوجیوں کی موجودگی صرف صلاح و مشورے اور فوجی تربیت کی حد تک باقی رہے گی، دونوں ممالک نے سیکیورٹی تعاون اور رابطوں کو برقرار رکھنے پر اتفاق کیا،بیان کے مطابق تمام غیرملکی فوجی ایک معینہ پروگرام اور نظام الاوقات کے تحت عراق سے باہر نکل جائیں گے، ایسا کب تک ہوگا اس حوالے سے کوئی ٹائم فریم نہیں دیا گیااور کہا گیا کہ انخلا کا نظام الاوقات آئندہ ٹیکنیکل اجلاس میں طے کیا جائے گا، عراقی وزارت خارجہ کے ترجمان احمد الصحاف نے مذاکرات کے بعد کہا کہ بغداد اور واشنگٹن نے غیرملکی جنگی فوجیوں کے انخلا پراتفاق کیا ہے، عصائب اہل الحق گروپ کے سربراہ نے امریکی فوجیوں کی ضرورت سے متعلق عراقی وزیر خارجہ فواد حسین کے بیان پر سخت تنقید کی اور کہا کہ عراق کو امریکی فوجیوں کی کسی بھی شکل میں موجودگی کی کوئی ضرورت نہیں اوران کا بیان عراق کی مسلح افواج کی توہین ہے، بیرونی فوجیوں کی ضرورت کے سلسلے میں بات کرنا فوجی و سیکیورٹی اداروں اور سب سے بڑھ کر فوج اور حشدالشعبی کی توہین ہے، عراقی سیکیورٹی کے ماہر تجزیہ کار صباح العکیلی نے مذاکرات سے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کا عراق سے فوجیں واپس بلانے کا کوئی ارادہ نہیں، مذاکرات کے تیسرے دور سے متعلق عراقی وفد کا بیان امریکی فریق کے بیان کے قطعی منافی ہے اور اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ ایک طرح کا خفیہ معاہدہ ہوا ہے،وزیر خارجہ فواد حسین امریکی فوجیوں کی موجودگی پر یقین رکھتے ہیں اور وہ اس کا اعلان بھی کر چکے ہیں۔


































