انسان کو چاہیے کہ وہ انواع اقسام کے کھانوں اور دیرسے ہضم ہونے والے کھانوں کا دیوانہ نہ بن جائے۔ محض زبان کی لذت کو نہ دیکھے، کچھ معدے کی راحت کا بھی خیال کرے۔ ایسی چٹ پٹی چیزوں اورمزیدار مٹھائیوں سے طرح طرح کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ یہ خیال غلط ہے کہ ایسی چیزوں سے طاقت بڑھتی ہے۔ ایسی چیزوں سے تو بدن میں چربی کی مقدار زیادہ ہو جاتی ہے۔ شوگر کی بیماری ہو جاتی ہے۔ اور طرح طرح کے امراض لاحق ہو جاتے ہیں۔
لذیز کھانوں اور غذاؤں کی ہر دم خواہش نہ صرف بیماریوں کا باعث بنتی ہے بلکہ اخراجات میں اضافے کا سبب بھی ہوتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ خواہش اتنی شدید ہو کہ آدمی اس کے لئے رقم فراہم کرنے کی دھن میں حلال و حرام کی پرواہ نہ کرے۔ طرح طرح کے جرائم میں ملوث ہو جائے اور دوسروں کے مال میں خیانت کرنے لگے۔ لیکن اگر انسان نفس پر قابو رکھے، قناعت کرے، زبان سے زیادہ معدے کا خیال کرے تو نہ صرف یہ کہ جسمانی صحت کم خراب ہوگی بلکہ روح بھی کم آلودہ ہوگی۔
یقیناًجو شخص قانع ہوتا ہے، وہی صاحب عزت و عظمت ہوتا ہے۔ لیکن جو شخص قناعت پسند نہیں ہوتا وہ لالچی ہو جاتا ہے۔ اگر دکاندار ہے تو کم ناپنے تولنے یا مہنگا بیچنے لگتا ہے۔ لالچی شخص حلال و حرام کی پرواہ نہیں کرتا۔ اعتدال کی صراط متقسیم سے ہٹ جاتا ہے۔ اور بھٹک کر جہنم کی راہ پر لگ جاتا ہے
- Home
- خواتین کا نوائے اسلام
- طرح طرح کی بیماریاں
طرح طرح کی بیماریاں
-
Ilyas - فروری 3, 2021
- خواتین کا نوائے اسلام
- 5
- 0 minute read


































