Sun Oct 11, 2026

یمن کے انتقامی حملوں کا خوف: متعدد ایئرلائنز نے سعودی عرب کے لیے پروازیں معطل یا منسوخ کر دیں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ، صدر مملکت نے سمری پر دستخط کردیے ریاض ایئرپورٹ پر انصار اللہ کا حملہ، 12 افراد ہلاک، 306 زخمی، پروازیں منسوخ ٹرمپ نوبیل انعام نہ ملنے کی رسوائی پر شدید برہم، انعام کمیٹی اور ناروے پر تنقید خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کے خلاف کارروائی آبنائے ہرمز تک محدود نہیں رہے گی، پاسدارانِ انقلاب آئی سی سی نے امریکی پابندیاں مسترد کر دیں امریکا نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کردیں امریکی حکام تہذیبی جنگ کا بیانیہ بنانے سے قبل ماضی کے واقعات کا مطالعہ کریں، محسن رضائی ٹرمپ نے ایران سے جنگ چھیڑ کر امریکا کو رسوا کیا، امریکی سینیٹر گلگت بلتستان کے وسائل پر کسی بیرونی طاقت کو اثر انداز نہیں ہونے دیں گے، مرکزی انجمن امامیہ ٹرمپ کی پھر رسوائی، امن کا نوبل انعام انسانی حقوق کی وکیل ناوی پلے کے نام آبنائے ہرمز میں ایل پی جی گیس بردار جہاز پر حملہ، آگ لگ گئی پاکستان ہر خطرے کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہے گا، وزیراعظم سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع

روزانہ کی خبریں

راکٹ حملوں سے اسرائیلی سیاحت اور معیشت برباد

30ڈالر کا راکٹ گرانے کیلئے 50ہزار ڈالر کے میزائل کا استعمال، تل ابیب کے بن غورین ایئرپورٹ پر پروازوں کی آمدورفت 15 فیصد تک رہ گئی
تمام سیاحتی ٹورز منسوخ ،ہوٹل بکنگ کم ترین سطح پر آگئیں ،اسرائیل کی پوری آبادی تہہ خانوں میں چھپی ہوئی ہے، تمام کاروبارزندگی معطل
تل ابیب (نیوز ڈیسک) فلسطینی مجاہدین کے راکٹ حملوں نے اسرائیل کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچایا ہے ،اسرائیل کی سیاحت،درآمدات ،برآمدات تباہ ہوگئیں ، معمولی راکٹوں کو روکنے کیلئے بھی لاکھوں ڈالر پھونکنا پڑ رہے ہیں ،رپورٹ کے مطابق حما س کے دیسی ساختہ ایک راکٹ کی قیمت 30سے 200ڈالر تک ہوتی ہے جسے مار گرانے کیلئے اسرائیلی آئرن ڈوم سے 50ہزار سے ایک لاکھ ڈالر مالیت کا میزائل داغنا پڑتا ہے، آئرن ڈوم کی ایک بیٹری کی قیمت 5کروڑ ڈالرسے زائد ہے،غزہ کی جانب سے آئرن ڈوم بیٹریز کی مزائل داغنے کی مجموعی صلاحت سے دگنے یا اس بھی زیادہ راکٹ بیک وقت داغے جاتے ہیں ، جن میں آدھے آئرن ڈوم کا شکار بنتے ہیں تو باقی اسرائیل میں گرکرتباہی مچا دیتے ہیں ، اسرائیل کے نقصانات کبھی میڈیا کی زینت نہیں بنتے ہیں لیکن مہینوں بعد اسرائیلی پارلیمان اور تحقیقاتی رپورٹس میں اس تباہی کی خبر ملتی ہے،راکٹ حملوں کی وجہ سے تل ابیب کے بن غورین انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پروازوں کی آمدورفت 15 فیصد تک رہ گئی، روزانہ 85 فیصد پروازیں منسوخ کی جارہی ہیں ، بین الاقوامی ٹریفک اسرائیل کا رخ نہیں کررہا،ایشدود اور ایشکلون بندرگاہوں پر شپنگ بھی معطل ہوگئی جسے اسرائیل نے خفیہ رکھا ہوا ہے ،سیاحتی صنعت کوبھی شدید جھٹکا لگاہے، فلاٹس کے بعد کروز لانز نے بھی اسرائیلی حدود میں سفر منسوخ کردیے ہیں جبکہ ہوٹل بکنگ کم ترین سطح پر آگئیں ،اسرائیل کی پوری آبادی تہہ خانوں میں چھپی ہوئی ہے اور تمام کاروبارزندگی معطل ہے، راکٹ حملے زیادہ دن جاری رہے تو اسرائیلی معیشت اس کی متحمل نہیں ہو سکے گی ،اسی لئے اسرائیلی حکام مختلف ذرائ ع سے جنگ بندی کی کوششیں کررہے ہیں لیکن وہ چاہتے ہیں کہ جنگ بندی ایسے ہو کہ ان کی فتح ظاہر ہوسکے

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular