Fri Oct 09, 2026

سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ اسرائیل کو ایران پر ممکنہ حملے کیلئے تیار رہنے کی ہدایت ایران کے حملوں کے بعد امریکی فوج نے کویت کا اہم اڈہ خالی کر دیا بھارت پاکستان میں دہشت گردی کیلئے طالبان کی مدد کر رہا ہے: جواد اجمل شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوج بھیجنے پر غور پیوٹن کا ایران کی تاریخی اور غیر معمولی ثابت قدمی کا خیرمقدم ایران کی لبنان میں جنگ کے متاثرین کیلئے حزب اللہ کو 20 کروڑ ڈالر کی امداد ڈی جی آئی ایس پی آر کی سعودی عرب میں فوجی تعیناتی کی تصدیق فرانس میں طلبہ مظاہرین پر پولیس تشدد، تہران میں فرانسیسی سفیر کی طلبی

روزانہ کی خبریں

جاں نثار بیٹی بی بی فاطمہ (س)

آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی
تاریخ اور حدیث کے تمام علماء نے لکھا ہے کہ پیغمبر اکرمؐ حضرت فاطمہ زہرا ؑ کو بہت زیادہ چاہتے تھے۔
واضح ہے کہ یہ محبت صرف اس بنا پر نہیں تھی کہ فاطمہ زہرا ؑ آنحضرت ؐ کی بیٹی تھیں۔گرچہ اس بنا پر بھی پیغمبر اکرمؐ کے دل میں بڑی محبت تھی۔ پیغمبر اکرمؐ کے وہ کلمات اور وہ حدیثیں جن میں اس محبت کا تذکرہ کیا گیا ہے، اس کا لب و لہجہ بتا رہا ہے کہ اس محبت کا سبب کوئی بہت اعلیٰ معیار ہے، جو رابطہ پدر کے علاوہ ہے۔
یہ محبت عام محبتوں سے جدا ہے
محبوب خد ا کی محبت، محبت خدا ہے
اس سلسلے میں کافی روایتیں وارد ہوئی ہیں۔پیغمبر اکرمؐ کے نزدیک مردوں میں سب سے زیادہ محبوب حضرت علی ؑ تھے۔ اور عورتوں میں سب سے زیادہ نزدیک حضرت فاطمہ ؑ تھیں۔(احقاق الحق ج۰۱، ص۷۶۱)
جب یہ آیت نازل ہوئی:
”جس طرح تم ایک دوسرے کو پکارتے ہو، پیغمبرؐ کو اس طرح نہ پکارو۔“
مسلمانوں نے پیغمبر اکرمؐ کو ”یامحمدؐ“ کہنا ترک کردیا، اور اب ”یا رسول اللہؐ“یا ”یا ایھا النبی“ کہہ کر پکارتے تھے۔
جناب فاطمہ زہرا ؑ کا بیان ہے۔
اس آیت کے نازل ہونے کے بعد مجھ میں اتنی ہمت نہ ہوئی کہ بابا کو”یا ابتاہ“ (بابا جان) کہہ کر پکاروں۔ لہٰذا جب ان کی خدمت میں حاضر ہوتی تھی”یا رسول اللہؐ“ کہتی تھی۔
ایک دو مرتبہ میں نے اسی طرح پکارا۔ میں نے دیکھا کہ پیغمبر اکرمؐ ناراض ہیں اور رخ موڑ لیا ہے تیسری مرتبہ مجھ سے فرمایا:
”اے فاطمہ ؑ یہ آیت تمہارے بارے میں نازل نہیں ہوئی ہے اور نہ تمہارے خاندان کے بارے میں اور نہ تمہاری نسل کے بارے میں۔ تم مجھ سے ہو میں تم سے ہوں۔ یہ آیت تو قریش کے جفاکاروں اور تند خو لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔“
پھر اس کے بعد نہایت محبت بھرے لہجے میں ارشاد فرمایا کہ:
”تم ”بابا جان“ ہی کہو۔ کیونکہ اس سے میرا دل زندہ ہوتا ہے اور خدا زیادہ خوش ہوتا ہے۔(مناقب ابن شیر آشوب ج۲،ص۷۲۳)
ہاں حضرت فاطمہ زہرا ؑ کی زبان مبارک سے ”بابا جان“ پیغمبر اکرمؐ کو اتنا ہی سکون پہنچاتا تھا اور پیغمبر ؐ اتنا زیادہ خوش ہوتے تھے۔ جس طرح بہار میں نسیم صبح سے پھول کھل اٹھتے ہیں۔
ایک روایت میں ہے کہ پیغمبر اکرمؐ حضرت فاطمہ زہرا ؑ کو اتنا زیادہ چاہتے تھے۔ جب کبھی سفر پر تشریف لے جاتے تھے تو سب سے آخر میں جناب فاطمہ زہرا ؑ سے رخصت ہوتے تھے۔ اور جب واپس آتے تھے تو سب سے پہلے جناب فاطمہ (س) سے ملتے تھے۔ تاکہ فاطمہ زہرا ؑ سے جدائی کم سے کم رہے۔
یہ حدیث بھی شیعہ اور سنی دونوں علماء نے ذکر کی ہے کہ پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا:
جس نے فاطمہؑ کو اذیت دی
اس نے مجھے اذیت دی
جس نے اس کو ناراض کیا
اس نے مجھے ناراض کیا
جس نے اس کو خوش کیا
اس نے مجھے خوش کیا
جس نے اس کو رنجیدہ کیا
اس نے مجھے رنجیدہ کیا
یقینا حضرت فاطمہ زہرا ؑ کی عظیم شخصیت ایمان اور عبادت میں ان کی بلندی اور عظمت اس بات کی متقاضی تھی کہ اسی طرح ان کا احترام کیا جائے اور عزت کی جائے۔ اسلام کے آئندہ رہبر انہیں کے فرزند ہوں گے۔ امامت انہیں کی نسل میں رہے گی۔ اس کے علاوہ اسلام کی عظیم ترین شخصیت حضرت علی ؑ آپؑ کے شوہر ہیں۔
لیکن پیغمبر اکرمؐ اپنے اس طرز عمل سے ایک اور بات لوگوں کو بتانا چاہتے ہیں۔ اس بارے میں اسلام کے نظریہ کی وضاحت کرنا چاہتے ہیں۔ فکری اور ثقافتی انقلاب کی بنیاد رکھنا چاہتے ہیں۔ فرمانا چاہتے ہیں۔”لڑکی ایسی چیزنہیں ہے جس کو زندہ دفن کردیا جائے“۔
حضرت فاطمہ زہرا ؑ اپنے
والد کے ساتھ
رسول خدا ؐ نے فرمایا:
”جو شخص سب سے پہلے جنت میں میرے پاس آئے گا وہ فاطمہ ؑ بنت محمدؐ ہیں۔“
جس زمانے میں مسلمان مکہ میں آزمائشی زندگی بسر کررہے تھے سخت طوفانی حالات اور شرائط نہایت شدید تھے۔
اسلام کی ابتداء تھی، مسلمان بہت زیادہ اقلیت میں تھے۔ تمام قدرت، طاقت، دولت، حکومت سب دشمنوں کے ہاتھوں میں تھی جن کے پاس نہ عقل تھی اور نہ رحم دلی۔ جوان کی سمجھ میں آتا تھا وہ کرتے تھے۔
کوئی ایسی تکلیف نہیں تھی جو مسلمانوں کے لئے روا نہیں تھی۔ پیغمبر اکرمؐ کی شان میں ہر طرح کی جسارت اور گستاخی کی جاتی تھی۔
اس زمانے میں دو شخصیتیں سب سے زیادہ جاں نثار اور فداکار تھیں۔
عورتوں میں ”جناب خدیجہ(س)“ جو پیغمبر اکرمؐ کے زخمی دل پر مرہم رکھتی تھیں۔ اپنی جاں نثاری سے پیغمبر اکرمؐ کے چہرہ انور سے غم و اندوہ کا غبار صاف کرتی تھیں اپنی ہمدردیوں اور خدمتوں سے پیغمبرؐ کے دل کو سکون و اطمینان عطا کرتی تھیں۔
اور مردوں میں حضرت علی ؑ کے پدربزرگوار حضرت ”ابو طالب ؑ“۔
مکہ کے لوگوں پر جناب ابو طالب ؑ کا بہت اثر تھا۔ آپؑ بہت عظیم اور مدبر تھے۔ آپ ؑنے اپنے وجود کو پیغمبر اکرمؐ کے لئے سپربنا دیا تھااور پیغمبر اکرمؐ کے زبردست طرفدار اور حامی تھے۔
لیکن افسوس یہ دونوں وفادار افراد انسانی اقدار کی بہترین شخصیتیں بعثت کے دسویں سال مختصر سے فاصلہ سے اس دنیا سے رخصت ہوگئیں اور پیغمبر اکرمؐ کو اپنا عزا دار بنا گئیں اور اس طرح رسول خداؐ تنہا ہوگئے۔
ان دونوں وفادار اور جاں نثار شخصیتوں کے انتقال سے پیغمبر اکرمؐ بہت زیادہ متاثر ہوئے اور ان دونوں کا اسلام پر بہت بڑا احسان ہے۔ ان لوگوں کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس سال کو پیغمبر اکرمؐ نے ”عام الحزن“،”رنج و غم کا سال“ کا لقب دیا۔
خداوند عالم کی سنت یہ ہے کہ جب وہ اپنے بندوں سے کوئی نعمت سلب کرلیتا ہے تو اس کی جگہ ان کو دوسری نعمت عطا کرتا ہے۔ ان دونوں عظیم نعمتوں کے عوض خداوند عالم نے پیغمبر اکرمؐ کو ان دونوں کی عظیم اولاد عطا کی جو قدم بہ قدم انہی کے نقش قدم پر چلیں۔
جناب ابو طالب ؑ کی یادگار ”حضرت علی ابن ابی طالب ؑ“ وہ اپنے باپ کی طرح پیغمبر اکرمؐ کے حامی اور اسلام کے مددگار رہے۔ وہ اس سے پہلے بھی ایسے ہی تھے لیکن جناب ابو طالب ؑ کے انتقال کے بعد ان کی کمی بھی پوری کرنے لگے۔اورجناب خدیجتہ الکبریٰ کی یادگار جناب فاطمہ زہراؑ، مہربان، وفادار، جاں نثار، دلیر، ایثار کرنے والی بیٹی۔ جو ہمیشہ باپ کے دل کو سکون پہنچاتی رہیں اور ان کے چہرہئ اقدس کو رنج و غم سے پاک صاف کرتی رہیں۔
اس وقت حضرت علی ؑ کی عمر19سال تھی اور مشہور روایات کے مطابق جناب فاطمہ زہرا(س) کی عمر5سال سے زیادہ نہیں تھی۔ دونوں پیغمبر اکرمؐ کے ساتھ رہتے تھے اور ان کی تنہائی دور کرتے تھے۔
ہجرت کو تین سال باقی تھے۔ یہ تین سال سخت ترین حالات اور اذیت ناک واقعات سے بھرے ہوئے ہیں۔ دشمن، اسلام کو نابود کرنے کی ہر ممکن کوشش کررہے تھے۔ جتنا زیادہ ستاسکتے تھے ستاتے رہتے تھے۔
کبھی یہ سنگدل دشمن، پیغمبر اکرمؐ کے سراقدس پر کوڑا ڈالتے تھے، پیغمبر ؐ جب گھر واپس آتے تھے، حضرت فاطمہ زہرا ؑ پیغمبر اکرمؐکے سر اور صورت کو دھوتی تھیں،صاف کرتی تھیں اور روتی جاتی تھیں۔ پیغمبر اکرمؐ فرماتے تھے۔
”میری بیٹی غم نہ کرو، آنسو نہ بہاؤ، خدا تمہارے باپ کی حفاظت کرنے والا ہے۔“
کبھی دشمن حجراسماعیل (کعبہ کے سامنے نیم دائرہ کی صورت میں جو دیوار ہے) میں اکٹھا ہوتے تھے اور قسم کھاتے تھے کہ ”محمدؐ“ کو جہاں پائیں گے قتل کردیں گے۔
جب حضرت زہرا (س) کو اس طرح کی خبر ملتی تھی تو فوراً اپنے باباؐسے بتاتی تھیں تاکہ وہ خیال رکھیں۔
اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت فاطمہ زہرا(س) نہ صرف گھر کے اندر بلکہ باہر بھی پیغمبر اکرمؐ کی حفاظت کرتی رہتی تھیں۔
انہیں برسوں میں ایک مرتبہ ابوجہل نے مکہ کے رذیلوں کو اس بات پر آمادہ کیا کہ جس وقت مسجد الحرام میں پیغمبر اکرمؐ سجدہ میں ہوں گوسفند کی اوجھڑی پیغمبرؐ کے سرپر ڈال دیں۔ جب یہ لوگ اتنی ذلیل حرکت کر چکے تو ابوجہل اور اس کے ساتھ ہنسنے لگے اور پیغمبر اکرمؐ کا مذاق اڑانے لگے۔
بعض دوستوں نے بھی یہ منظر دیکھا لیکن دشمنوں کو دیکھ کر دفاع کی ہمت نہ کر سکے۔ لیکن جب یہ خبر حضرت فاطمہ زہرا (س) تک پہنچی فوراً مسجد الحرام میں آئیں۔ پیغمبر اکرمؐ کے اوپر سے اس کو اٹھایا اور زبان کی تلوار سے ابوجہل اور اس کے ساتھیوں کی سخت مذمت کی اور ان پر لعنت کی۔
جس وقت بہادر افراد پیغمبر اکرمؐ کا دفاع کرتے ہوئے گھبراتے تھے اس وقت یہ کمسن اور دلیر بیٹی اپنے باپ کا دفاع کرتی تھی اور پیغمبر اکرمؐ کی حفاظت کرتی تھی۔
حضرت فاطمہ زہرا (س) نہ صرف عام دنوں (اگرچہ پیغمبر اکرمؐ کی زندگی کا کوئی دن عام دن نہیں تھا) میں بلکہ جنگوں میں اور سخت ترین حالات میں بھی نہایت دلیری اور ثابت قدمی سے رسول خداؐ کی حفاظت کرتی رہیں اور ان کا دفاع کرتی رہیں۔
جب ”احد“ کی جنگ ختم ہوئی اور دشمن نے میدان خالی کردیا۔ پیغمبر اکرمؐ کے دندان مبارک شہید ہو چکے تھے، پیشانی مبارک زخمی تھی اور وہ ابھی میدان جنگ میں تھے، حضرت فاطمہ زہرا(س) فوراً احد پہنچیں۔ گرچہ ابھی عمر کم تھی مگر مدینہ سے احد کا راستہ پیدل طے کیا۔ باپ کے چہرے کو پانی سے دھویا۔ خون کو صاف کیا۔
جنگ خندق میں جو اسلام کی سخت ترین جنگ تھی اور فتح مکہ میں جس دن اسلام کی فوج ظفر موج نے نہایت احتیاط سے دشمن کے آخری مورچہ کو بھی مشرکین کے ہاتھوں سے لے لیا۔ خدا کے گھر کو بتوں کی نجاستوں سے پاک صاف کردیا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ان تمام مراحل میں حضرت فاطمہ زہرا (س) پیغمبر اکرمؐ کے ساتھ ساتھ ہیں۔
جنگ خندق میں پیغمبر اکرمؐ کی خدمت میں حاضر ہوتی ہیں پیغمبر اکرمؐ کو چند دنوں سے کچھ کھانے کو نہیں ملا ہے تو پیغمبر اسلام ؐ کے لئے نہایت سادہ غذا جو صرف روٹی کے چند ٹکڑے ہیں فراہم کرتی ہیں۔
فتح مکہ کے موقع پر پیغمبر اکرمؐ کے لئے خیمہ نصب کرتی ہیں۔ ان کے نہانے دھونے کے لئے پانی مہیا کرتی ہیں تاکہ پیغمبر اکرمؐ اپنے بدن سے سفر کی گرد پاک و صاف کرکے اور کپڑے بدل کر مسجد الحرام کی طرف جاسکیں۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular