
وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نورالحق قادری نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا ایک فتنہ ہے جو نفرتوں کو فروغ دیتا ہے اور لمحوں میں آگ لگاتا ہے ہمیں اس کا مقابلہ کرنا ہے، علمائے کرام جمعہ کے خطبات میں احتیاط کریں کیونکہ بیرونی قوتیں ملک میں مذہبی فساد کے لیے کوشاں ہیں جنہوں نے لسانی اور دیگر طبقات کو لڑانے کی کوشش کی اور اب ان کا رخ مذہبی طبقے کی جانب ہے۔
مقامی ہوٹل میں مجلس صوت الاسلام پاکستان کے تحت منعقدہ ’’عظمت صحابہؓ و اہل بیت علیہم السلام کانفرنس‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نورالحق قادری نے کہا کہ مذہبی شخصیات کی توہین کے حوالے سے کچھ تحقیقات مکمل کرلی گئی ہیں جب کہ کچھ کے حوالے سے کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ صحابی کے حوالے سے ایک شخص کی انتہائی نازیبا گفتگو کی وجہ سے مسلمانوں کے دل چھلنی ہوگئے لیکن میں آج اس کانفرنس میں بتارہا ہوں کہ اس کے خلاف سب سے پہلا ردعمل مجھے علامہ ساجد نقوی اور علامہ عارف واحدی نے دیا اور مجھ سے رابطہ کرکے کہا کہ ایسے لوگوں کو ہمیں روکنا ہوگا اور ان کے عمل سے بیزاری کا اعلان کیا۔ وزیر مذہبی امور نے کہا کہ یہ شخص کیسے یہاں سے فرار ہوا؟ اس بات کی تحقیق ہورہی ہے، اس جرم میں شامل کسی بھی فرد کو معاف نہیں کیا جائے گا، یہ شخص قومی مجرم ہے اور میں تو کہتا ہوں کہ جہاں بھی ہے پاؤں پر بیڑیاں ڈال کر لایا جائے۔
وفاقی وزیرکا کہنا تھا کہ کہ پیغام پاکستان کی دستاویزات تمام مسالک کے ہزاروں علما نے ملکر تیار کی ہیں جس میں تمام قوانین موجود ہیں ضابط اخلاق میں تبدیلی کی ضرورت پڑی تو کی جائےگی، اداروں کی رپورٹ تھی کہ فساد پھیلانے کی کوشش کی جائے گی، اس کی روک تھام کے لئے تمام مسالک کے علمائے کرام سے رابطے میں ہیں، مختلف مسالک کے درمیان بعض معاملات پر اختلاف ہیں، دونوں طرف برداشت ہے جسے مزید بڑھانا ہوگا۔


































