
ایران امریکا اور یورپ کے وعدوں پر نہیں بلکہ صرف عمل پر توجہ دے گا، اگر ہم دوسرے فریق کی جانب سے عملی اقدام دیکھیں گے تو ہم بھی عملی اقدام کریں گے
اسلامی انقلاب سے دشمنی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس نے مشرقی اور مغربی سپر طاقتوں کے بنائے نظام تسلط کو مسترد کر دیا اور اس کے مقابلے میں ڈٹ گیا ہے
تہران(نیوز ڈیسک)ولی امر مسلمین آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے واضح کیا ہے کہ ایران ایٹمی معاہدے کے تعلق سے باتوں اور وعدوں پر نہیں بلکہ عمل پر توجہ دے گا، تبریز کے عوام کی فروری 1977کی انقلابی تحریک کی سالگرہ کے موقع پر اپنے خطاب میں ولی امر مسلمین نے کہا کہ اسلامی انقلاب سے سامراجی طاقتوں کی دشمنی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اسلامی انقلاب اور اسلامی جمہوری نظام نے مشرقی اور مغربی سپر طاقتوں کے بنائے نظام تسلط کو مسترد کر دیا ہے اور اس کے مقابلے میں ڈٹ گیا ہے، اسلامی انقلاب سے پہلے امریکا اور سابق سویت یونین نے دنیامیں نظام تسلط کی حکمرانی قائم کر رکھی تھی، چونکہ اسلامی انقلاب اور اسلامی جمہوری نظام نے اس نظام اور تقسیم کو مسترد کردیا اس لئے سامراجی طاقتیں اس کی دشمن ہیں، انہوں نے کہا کہ کبھی انسانی حقوق کا مسئلہ اٹھایا جاتا ہے، کبھی ایران کی ایٹمی توانائی اور کبھی علاقے میں اس کے اثرورسوخ کی بات کی جاتی ہے یہ سب بہانہ ہے بنیادی وجہ صرف یہ ہے کہ ایران نے نظام تسلط کو مسترد کردیا ہے، انہوں نے کہا کہ ایٹمی معاہدے پر اب ایران امریکا اور یورپ کے وعدوں پر نہیں بلکہ صرف ان کے عمل پر توجہ دے گا، اگر ہم دوسرے فریق کی جانب سے عملی اقدام دیکھیں گے تو ہم بھی عملی اقوام کریں گے، اسلامی حکومت کو اب صرف الفاظ اور وعدوں سے نہیں بہلایا جاسکے گا۔


































