
اسلام آباد : انٹرنیشنل کرائسسز گروپ نے افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد پاکستان کو نئی متوقع مشکلات سے خبردار کردیا، آئی سی جی نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ مذاکرات کے غیر معینہ تعطل سے واشنگٹن اور کابل سے تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں، طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانا پاکستان کے مفاد میں ہے، گو کہ پاکستان اس انخلاء کے بعد پیدا ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لئے کئی منصوبوں پر کام کر رہا ہے لیکن کسی کو بھی ان کے متوقع اثرات کا علم نہیں،چین چاہے گا اسلام آباد طالبان کی فتح کے بجائے زیادہ مستحکم نتائج کیلئے کام کرے، کابل میں دہائیوں سے قائم شکوک و شبہات کی فضا اور بدگمانیوں پر قابو پانے کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان افغانستان کو اپنے زیراثر یا زیرنگرانی علاقہ تصور نہ کرے، اگر افغان تنازع جاری رہا تو پاکستان پڑوس میں ہونے کی وجہ سے نہ صرف بہت کچھ بلکہ خود افغانستان کو کھو دے گا، پاکستان کی عسکری قیادت کو مذاکرات میں غیرمعینہ تعطل اور افغان حکومت سے بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش ہے جس کے نتیجے میں پاک امریکا تعلقات کو نقصان پہنچ سکتا ہے، لہٰذا یہ پاکستان کے مفاد میں ہے کہ وہ ضرورت پڑنے پر طالبان کودبائو میں لے کر امن مذاکرات میں تعطل کو دُور کرے۔ طالبان کوچاہئے کہ اپنے مطالبات میں اعتدال لائیں اور تشدد کی حوصلہ شکنی کی جائے، پاکستان کے پالیسی ساز اگر اب متحرک نہ ہوئے تو بہت دیرہو جائے گی، افغانستان کے لئے سیاسی تصفیہ کی ضرورت ہے جس میں کابل انتظامیہ اور طالبان دونوں کا کردار ہو، افغان طالبان کو پاکستان مخالف عناصر سے قطع تعلق کرنا ہوگا، آئی سی جی نے خبردار کیا کہ بدترین منظر کابل پر طالبان کا قبضہ ہو سکتا ہے، لہٰذا طالبان سے معاملہ طے کرنے کا پاکستان کے لئے وقت آ گیا ہے،اب تک تو اسلام آباد طالبان کو مذاکرات پر آمادہ کرتا رہا ہے تاہم امن مذاکرات میں پیش رفت کے نتیجے میں پاکستان کے کابل انتظامیہ سے تعلقات بہتر ہوں گے، یہ تشویش بھی دُور ہو جائے گی کہ بھارت افغانستان میں پاکستان کے مفادات کو زک پہنچائے گا، ساتھ ہی خطے میں دیگر حکومتوں کو بھی طالبان پر دبائو ڈالنا چاہئے۔


































