
برطانیہ، فرانس و جرمنی نے ایٹمی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں امریکی ایما پر ایران کے خلاف قرارداد پیش کرنے کا فیصلہ منسوخ کردیا
روس و چین کی حمایت سے قرارداد پیش کرنے کا منصوبہ ختم ہوا، معاہدے کے تمام فریقوں کی جانب سے وعدوں پر عمل کرنے کی راہ ہموار ہوگی،ایران
ویانا(نیوزڈیسک)ایٹمی توانائی ایجنسی میں امریکی ایما پر قرارداد پیش کرنے کا فیصلہ ایرانی دھمکی پر واپس لے لیا گیا، برطانیہ، فرانس و جرمنی نے ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں ایران کے خلاف اپنی قرارداد پیش کرنے کے فیصلہ منسوخ کردیا،ایجنسی کے سربراہ رافائل گروسی نے فیصلے سے رکن ممالک کو آگاہ کردیا ہے، ایران نے خبردار کیا تھا کہ قرار دادپیش کرنے پر جوہری معاہدے پر عملدرامد میں مزید کمی کردی جائے گی اور ایسی کوئی قرارداد اگر منظور کی گئی تو حالات بہت بگڑ جائیں گی، یہ دھمکی اور امریکا کا محتاطانہ رویہ، 3 یورپی ممالک کی جانب سے ایران کے خلاف اپنی قرراداد کے واپس لئے جانے کی موجب بنا ہے، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعیدخطیب زادہ نے بتایا کہ تہران، ویانا اور3یورپی ملکوں میں سفارتی کوششوں اوراسی طرح روس و چین کی حمایت سے قرارداد پیش کرنے کا منصوبہ ختم ہوگیا ہے، اس فیصلے سے سفارت کاری کے راستے کا تحفظ اور ایٹمی معاہدے کے تمام فریق ملکوں کی جانب سے وعدوں پر عمل کرنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، معاہدے میں شامل ممالک اس موقع سے فائدہ اٹھا کر اور اپنے بھرپور تعاون کے ذریعے تمام فریقوں کی جانب سے ایٹمی معاہدے پر عمل درآمد کی ضمانت فراہم کریں گے۔


































