15رمضان المبارک ولادت باسعادت کی مناسبت سے خصوصی تحریر
بچو! امام حسن علیہ السلام ایک ایسے ہادی اور رہنما تھے کہ جنہوں نے بچپن ہی سے دین کی تبلیغ اور رہنمائی کا کام شروع کر دیا تھاآپؑ نے ایسے نمایاں امور انجام دئیے کہ سرکار رسالت کو گود میں لے کر کہنا پڑا کہ یہ دونوں(امام حسن ؑ اور امام حسین ؑ) میرے فرزند امام ہیں چاہے کھڑے رہیں یا بیٹھ جائیں۔ یہ دونوں جوانان ِ جنت کے سردار ہیں اور ان کے والد(امام علی ؑ) ان سے بھی افضل ہے۔
ولادت:
آپؑ پندرہ رمضان سن 3 ھ کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں مدینہ منورہ میں پیدا ہوے۔ آپ رسول خدا کے نواسے اور پہلے امام امیر المو ¿منین علی بن ابیطالب علیہ السلام اور سیدفاطمہ زھرا سلام اللہ علیہا کے فرزندہیں۔امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام ایسے گھرانے میں پیدا ہوئے جو وحی اور فرشتوں کے نازل ہونےکی جگہ تھی۔
امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے القاب : سبط اکبر، سبط اول، طیب، قائم، حجت، تقی، زکی، مجتبیٰ، وزیر، اثیر، امیر، امین، زاھد مگر سب سے زیادہ مشہور لقب ” مجتبیٰ“ ہے ۔
رسول خدا کی آپؑ سے محبت:
پیغمبر نے ایک حدیث کے ذریعے حسن مجتبیٰ ؑکی فضیلت یوں بیان فرمائی ہے۔ فرمایا: البتہ ، حسن میرا فرزند اور بیٹا ہے ، وہ میرا نور چشم ہے ، میرے دل کا سرور اور میرا ثمرہ ہے وہ بہشت کے جوانوں کا سردار ہے اور امت پر خدا کی حجت ہے۔ اس کا حکم میرا حکم ہے اسکی بات میری بات ہے جس نے اسکی پیروی کی اس نے میری پیروی کی ہے جس نے اس کی مخالفت کی اس نے میری مخالفت کی ہے۔ میں جب اسکی طرف دیکھتا ہوں تومیرے بعد اسے کیسے کمزور کریں گے ، اس یاد میں کھو جاتا ہوں؛ جبکہ یہ اسی حالت میں اپنی ذمہ داری نبھا تا رہے گا جب تک کہ اسے ستم و دشمنی سے زھر دے کر شھید کیا جا ئیگا۔اس وقت آسمان کے ملائک اس پر عزاداری کریں گے۔اسی طرح زمین کی ھر چیز ازجملہ آسمان کے پرندے ، دریاو ¿ں اور سمندروں کی مچھلیاں اس پر عزادری کریں گے۔
امام حسن ؑاورعبادت:
امام زین العابدینؑ فرماتے ہیں کہ امام حسن علیہ السلام زبردست عابد، بے مثل زاہد، افضل ترین عالم تھے آپ نے جب بھی حج فرمایاپیدل فرمایا، کبھی کبھی پابرہنہ(ننگے پاﺅں) حج کے لیے جاتے تھے آپ اکثر موت، عذاب، قبر، صراط کویاد کرکے رویاکرتے تھے جب آپ وضو کرتے تھے توآپ کے چہرہ کارنگ زرد ہوجا یاکرتاتھا اورجب نمازکے لیے کھڑ ے ہوتے تھے تو کانپنے لگتے تھے آپ کامعمول تھاکہ جب دروازہ مسجدپرپہنچتے توخدا کو مخاطب کرکے کہتے میرے پالنے والے تیراگنہگاربندہ تیری بارگاہ میں آیاہے اے رحمن ورحیم اپنی اچھائیوں کے صدقہ میں مجھ جیسے برائی کرنے والے بندہ کومعاف کردے آپ جب نماز صبح سے فارغ ہوتے تھے تواس وقت تک خاموش بیٹھے رہتے تھے جب تک سورج طلوع نہ ہوجائے ۔
امام حسن ؑاور زہدو تقوی:
امام شافعی لکھتے ہیں کہ امام حسن علیہ السلام نے اکثراپناسارامال راہ خدامیں تقسیم کردیاہے اور بعض مرتبہ نصف (آدھا)مال تقسیم فرمایاہے وہ عظیم و پرہیزگارتھے۔
اما م حسنؑ اور سخاوت:
ایک مرتبہ آپؑ نے ایک سائل کوخداسے دعاکرتے دیکھا خدایا مجھے دس ہزار درہم عطا فرما آپ نے گھرپہنچ کر مطلوبہ رقم بھجوادی ۔
آپؑ سے کسی نے پوچھاکہ آپ توفاقہ کرتے ہیں لیکن سائل(مانگنے والے) کومحروم (خالی) واپس نہیں فرماتے ارشادفرمایاکہ میں خداسے مانگنے والاہوں اس نے مجھے دینے کی عادت ڈال رکھی ہے اورمیں نے لوگوں کودینے کی عادت ڈالی رکھی ہے میں ڈرتاہوں کہ اگراپنی عادت بدل دوں، توکہیں خدابھی نہ اپنی عادت بدل دے اورمجھے بھی محروم کردے ۔
امام حسن ؑاور اخلاق :
ایک دن حضرت امام حسن علیہ السلام گھوڑے پرسوارکہیں تشریف لیے جارہے تھے راستہ میں ایک شامی سامنے آگیا اس نے حضرت کوگالیاں دینی شروع کردیں آپؑ نے اس کا کوئی جواب نہ دیا جب وہ اپنی کرچکاتوآپؑ اس کے قریب گئے اوراس کوسلام کرکے فرمایاکہ بھائی شایدتومسافرہے، سن اگرتجھے سواری کی ضرورت ہوتومیں تجھے سوری دیدوں، اگرتوبھوکاہے توکھاناکھلادوں، اگرتجھے کپڑے درکارہوں توکپڑے دیدوں، اگرتجھے رہنے کوجگہ چاہئے تو مکان کاانتظام کردوں، اگر دولت کی ضرورت ہے توتجھے اتنا دیدوں کہ توخوش حال ہوجائے یہ سن کرشامی بے انتہا شرمندہ ہوا اور کہنے لگا کہ میں گواہی دیتاہوں کہ آپ زمین خداپراس کے خلیفہ ہیں مولاؑمیں توآپؑ کواورآپؑ کے باپ دادا کوسخت نفرت اورحقارت کی نظرسے دیکھتاتھا لیکن آج آپ کے اخلاق نے مجھے آپؑ کاگردیدہ بنادیا اب میں آپ کے قدموں سے دورنہ جاو ¿ں گا اورتاحیات آپ کی خدمت میںرہوں گا۔
امام حسن ؑاور جنت کی سرداری:
جناب حذیفہ یمانی کابیان ہے کہ میں نے آنحضرت کو ایک دن بہت زیادہ مسرور (خوش) پا کر عرض کی مولا آج خوشی کی کیا وجہ ہے ارشاد فرمایا کہ مجھے آج جبرئیل نے یہ بشارت دی ہے کہ میرے دونوں فرزندحسن وحسین جوانان بہشت کے سردارہیں اوران کے والدعلی ابن ابی طالب ان سے بھی بہترہیں ۔
| ReplyReply allForward |


































