
علی ایک بہت ہی اچھا لڑکا تھا۔ سب گھر والے اس سے بہت محبت کرتے تھے۔ علی بھی اپنے بھائی بہنوں اور امی ابو سے بہت محبت کرتا تھا وہ امی ابو کی خدمت کرتا تھا کام کاج میں ان کا ہاتھ بٹاتا اور چھوٹے بھائی بہنوں کی پڑھائی میں مدد کرتا تھا۔ علی نماز پابندی سے مسجد جاکر جماعت کے ساتھ پڑھتا تھا۔
ایک دن علی فجر کی نماز پڑھ کر گھر آیا اور کسی سے بات چیت کئے بغیر اپنے بستر پر لیٹ گیا۔ علی کی امی نے اس سے پوچھا
کیا بات ہے علی بیٹے تم بستر پر لیٹ گئے اسکول نہیں جانا۔ علی نے کہا نہیں امی آج میں اسکول نہیں جاﺅں گا میرے سب دوست میرے پھٹے ہوئے جوتے دیکھ کر میرا مذاق اڑاتے ہیں آپ ابو سے کہیں وہ میرے لئے نئے جوتے بازار سے لے آئیں ۔
علی کے ابو غریب آدمی تھے وہ ایک جگہ نوکری کرتے تھے اور وہاں سے ملنے والی تنخواہ سے گزر بسر مشکل تھا علی کی زبان سے اس قسم کی بات سن کر وہ پریشان ہوگئے۔ انہوں نے اپنی اہلیہ( علی کی ماں) سے کہا کہ دو رکعت نماز حاجت پڑھ کر اللہ سے مانگو کہ یا تو اللہ اس کے جوتوں کا انتظام کردے یاعلی کو صحیح سمجھ دے کہ وہ اپنا گزارا انہیں پرانے جوتوں پر کرے۔
علی کی امی اور ابو نے نماز پڑھی اور اللہ سے دعا کی۔ علی ظہر کی نماز کے وقت نیند سے اٹھا اور کسی سے بات کئے بغیر وضو کرکے مسجد کی طرف چلا گیا۔ راستہ میں اس کی نظر اپنے دوستوں پر پڑی جو نئے جوتے پہنے اسکول سے واپس آرہے تھے۔ علی ان سے منہ چھپا کر آگے بڑھ گیا کہ کہیںوہ اس کا مذاق نہ اڑائیں ۔
اچانک علی کی نظر ایک لڑکے پر پڑی جو بے ساکھیوں کے سہارے مسجد کی طرف جارہا تھا اس کے دونوں پاﺅں نہیں تھے۔
اسے دیکھ کر علی کو بے حد افسوس ہوا اور بے اختیار آنکھوں میں آنسو آگئے اور وہ دل ہی دل میں سوچنے لگا کہ مجھ سے کتنی بڑی غلطی ہوگئی اللہ نے مجھ پر اتنے احسانات کئے کہ مجھے تندرست بنایا دونوں پاﺅں عطا فرمائے بغیر بے ساکھیوں کے میں چل سکتا ہوں۔ لیکن پھر بھی میں اللہ کی ناشکری کرتا ہوں ۔ علی اپنی حرکت پر بہت نادم ہوا اس نے نماز پڑھ کر اللہ سے توبہ کی اور گھر آکر امی ابو سے بھی معافی مانگی اور انہیں سارا واقعہ سنایا کہ کس طرح اللہ نے اس کو صحیح راستہ دکھایا۔
کھانا کھا کر علی گھر سے باہر جانے لگا علی کی امی نے پوچھا بیٹا کہاں جارہے ہو علی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا اپنے پرانے جوتوں کو نیا کرنے۔ علی کی امی یہ دیکھ کر خوش ہوگئیں کہ علی اپنے پرانے جوتوں کو پالش کرکے چمکا رہا تھا۔ اور اللہ تعالیٰ نے جس حال میں رکھا اسی حال میں خوش تھا اور پرانے جوتوں پر اللہ کا شکر ادا کررہا تھا۔


































