
پارک میں ریحانہ نے کھانے کا ٹفن کھولا اور کہا: میرے پاس کھانا کافی زیادہ ہے۔ میں اتنا زیادہ نہیں کھا سکتی۔ فرزانہ نے پوچھا: تم اضافی کھانے کا کیا کرو گی؟ ریحانہ نے مسکراتے ہوے جواب دیا کچھ کھا لوں گی اور باقی اس درخت کے نیچے بھینک دوں گی۔ فرزانہ بولی ریحانہ بہن، ایسا کرنا بری بات ہے۔ کیونکہ یہ اسراف ہے۔ ریحانہ نے کہا دیکھو! اگر یہ کھانا گھر واپس لے جاؤں تو ممکن ہے خراب ہو جائے اور میری ماں یہ سمجھے گی کہ میں نے کچھ بھی نہیں کھایا۔
فرزانہ بولی میرے پاس ایک راہ حل ہے۔ وہ بچے جو گھر سے کھانا نہیں لائے ان میں تقسیم کر دو۔ ایسا کرنے سے غذا ضائع ہونے سے بھی بچ جائے گی اور تمہاری ماں بھی خوش ہو جائے گی۔
ریحانہ اور فرزانہ دونوں ایک بچے کی طرف گئیں جو تنہا بیٹھا ہوا تھا اسے کچھ کھانا دے دیا۔
ریحانہ نے کہا: بہت شکریہ میری پیاری دوست، تم نے میرا کھانا ضائع ہونے سے بچا لیا۔


































