قندحیات! شاخ نبات!
تیرے تازہ ترین خط سے معلوم ہوا کہ آج کل تو مالی مشکلات میں گھری ہوئی ہے۔ آمدنی کم ہے اخراجات زیادہ ہیں۔ قرضے بھی چڑھ رہے ہیں۔
حقیقت تو یہ ہے کہ مالیات کا صحیح انتظام ہر میاں اور بیوی کا مشکل ترین امتحان ہے۔ وہ جوڑا جو گھریلو مالیات کے مسائل کو سلیقہ سے حل نہیں کر سکتا ہمیشہ ناکام رہے گا۔ ہمیشہ قابل رحم بلکہ قابل نفرت۔
پیاری بیٹی! میرا پہلا مشورہ یہ ہے کہ ادھار خریدنا اور قرض لینا بند کردے۔ تجھے چند دکانوں سے ادھار مل سکتا ہے اور چند لوگوں سے قرض۔ آج کل قسطوں پر ادائیگی کی سہولت نے بہت سے خاندانوں کو تباہ و برباد کردیا ہے۔ یہ سہولتیں بذات خود بری نہیں ہیں مگر ان سے فائدہ اٹھانا بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ عام افراد ان لالچوں میں پڑ کر نقصان ہی اٹھاتے ہیں اور ممکن ہے کہ تم دونوں کا شمار عام اور نادان افراد میں سے ہو۔
اس سے بحث نہیں کہ تم لوگوں کی رائے اپنے متعلق کیا ہے۔ عموماً جو چیزیں بالااقساط ادائیگی پر ملتی ہیں وہ عیش و عشرت کی ہوتی ہیں۔ مثلاً فرنیچر، ریفریجریٹر، مکان، ٹی وی، اسکوٹر، قالین وغیرہ۔ بیشک ان سے گھر کی رونق دوبالا ہوتی ہے مگر فکر کے مارے تیرے چہرے کی رونق گھٹتی ہے۔ کسی کام میں جی نہیں لگتا۔ بیماریاں آگھیرتی ہیں۔ ایک طرف قسطوں کی ادائیگی اور دوسری طرف بیماریوں کے اخراجات اور تیسری طرف سکونِ دل سے محرومی۔ پھر یہ چیزیں دیر تک نہیں ٹھہرتیں۔ خود ان کی رونق خراب ہونے لگتی ہے۔ وہ پالش یا مرمت مانگتی ہیں۔ پھر اچانک تیری آمدنی میں زوال آگیا تو کیا ہوگا؟ کہیں یہ چیزیں واپس لے لی گئیں یا قرقی ہوگئی کیونکہ اقساط کی ادائیگی کی شرطیں بڑی سخت اور سنگدل ہوتی ہیں تو پھر محلہ والوں یا خاندان والوں کے سامنے تیری پوزیشن کیا رہ جائے گی؟
بیشک اقساط پر یا ادھار پر چیزیں خرید مگر چند شرطوں کے ساتھ، کیا یہ چیز تیرے لئے بنیادی ضرورت کی ہے؟ کیا اس کے بغیر بھی تو صحت اور عافیت کے ساتھ گزارہ کر سکتی ہے؟ خواہ کچھ تکلیف ہی سہی؟ کیا یہ چیز مضبوط ہے اور دیر تک بلامرمت ٹھہرے گی؟ کیا اس کی قیمت مناسب ہے؟ کیونکہ اقساط پر دینے والے عموماً قیمت بہت بڑھا دیتے ہیں اور کیا تیری آمدنی ٹھوس اور پکی ہے؟ اس میں کوئی خطرہ نہیں؟
ادھار پر خریدنے سے ایک نقصان ہے۔ انسان لالچ اور حماقت کا پتلا ہے۔ وہ وقتی جذبات میں آکر اپنی طاقتِ ادائیگی سے زیادہ خرید لیتا ہے اور پھر پشیمان ہوتا ہے۔ یہی صورت اس نقد قرض کی ہے جو سود پر یا پھر ویسے بھی آسانی سے مل جاتا ہے۔
ضرورت کے لئے قرض کی روٹی یا دوا تو معاف کی جاسکتی ہے لیکن عیش کے لئے قرض کی مئے معاف نہیں کی جاسکتی اور وہ بھی فاقہ مستوں کو۔
ہمارے ڈاکٹر نے کہا ہے کہ”قرض کی روٹی سے پرہیز کرو۔“
جسمانی اور بنیادی ضروریات کے لئے جس میں اپنی زندگی، عزت، صحت، نیک نامی اور کارکردگی کا تحفظ شامل ہے، ضرورت سخت میں قرض لیا جاسکتا ہے لیکن قرض لینے سے پہلے سوچ لے کہ تجھے قرض کی زیادہ ضرورت ہے یا دوست کی۔ کیونکہ ان دونوں میں سے صرف ایک تیرے پاس رہے گا۔اگر ممکن ہو تو نہ قرض لے نہ قرض دے۔ تحفہ لے اور تحفہ دے بلاشرط واپسی۔ چھوٹا تحفہ بڑے قرض سے ہمیشہ بہترہے۔
خاندان کے بالکل قریبی حلقوں سے حتی الامکان قرض نہیں لینا چاہیے۔ ان سے اصول یہ رکھنا چاہیے کہ وقت ضرورت اگر ان کے پاس ہے تو تجھے دیدیں اور اگر تیرے پاس ہے تو قرض حسنہ انہیں دے دے۔
ہم پھر کہیں گے کہ اپنی اور شوہر کی آمدنی کے اندر پاؤں پھیلا۔ حرص اور نقل فیشن سے پرہیز کر۔
وہ چیزیں نہ خرید جن کے استعمال میں خرچ ہے یا مرمت کا قرینہ ہے۔ وہ چیزیں نہ خرید جن کے بغیر گزارا ہو سکتا ہے۔ اتنا سامان اپنے اردگرد نہ پھیلا کہ کہیں آنا جانا مشکل ہو جائے یا مرتے وقت انہیں چھوڑنے کا غم ہو۔ ہلکی پھلکی زندگی آرام کی زندگی ہے۔ غیر ضروری نمودونمائش سے ہمیشہ پرہیز کرنا لازمی ہے۔
سادہ لباس، سادہ خوراک اور سادہ ساز وسامان سے نہ صرف ذہنی سکون حاصل ہوتا ہے بلکہ وقت اور محنت کی بچت بھی ہے۔ اس کے علاوہ تیری ایک خاص شخصیت ایک خاص عزت ہوگی ان لوگوں کے درمیان جو سوٹ بوٹ، ٹی وی، فرنیچر اور بنگلہ کی فکروں میں گھرے رہتے ہیں۔ جوڈنر، کلب اور ہوٹل کے رسیا ہیں۔ جو جسم کی لذت اور سوسائٹی کی عزت کو اپنا خدا سمجھتے ہیں اور اس خدا کی پرستش کے ئے سودی بینکوں، حرام تجارتوں میں لگے ہوئے ہیں۔ رشوت لیتے ہیں، بلیک کرتے ہیں، بے ایمانی اور فراڈ کرتے ہیں۔ سود لیتے ہیں اور دیتے ہیں اور ان کا رجسٹرلکھتے ہیں۔ حالانکہ سود ایک کالاکھوں کے لئے مرگ مفاجات۔
بزرگوں نے جو سادگی اور قناعت کا شیوہ اختیار کیا تھا اس کے پیچھے مصلحت کیا تھی؟ یہی ناکہ حرام آمدنی کی ضرورت سے بچیں۔ ذہنی الجھنوں سے بچیں۔ بے عزتی اور رسوائی کے خطرات سے بچیں اور قرض خواہ کی آمد ملک الموت کی آمد سے زیادہ خطرناک نہ ہو۔
قمار، خمار اور عیاشی کی ہر شکل سے بچنا لازمی ہے۔ یہ اتنا زیادہ مالی مشکلات میں مبتلا کر دیتا ہے کہ پھر سر اٹھانا ہرگز ممکن نہیں۔ یہاں پر یہ کہنا مناسب ہے کہ تمباکو کی لت خواہ پان ہو یا سگریٹ ہو یا حقہ ہو، نہ صرف فضول خرچی میں مبتلا کردیتی ہے بلکہ جسم کو آہستہ آہستہ کمزور کر دیتی ہے۔ تمباکو کھانے یا پینے والے پر ہومیوپیتھک دوائیں اثر بالکل نہیں کرتیں حالانکہ ہومیوپیتھک دوائیں ارزاں بھی ہیں اور بہت عمدہ کام کرتی ہیں۔
بیٹی ہمارا دوسرا مشورہ یہ ہے کہ آمدنی کے ذرائع بڑھائے جائیں۔ عورت بھی گھر بیٹھی بہت سی ایسی چیزیں پکا اور بنا سکتی ہے جو ہوٹلوں میں اور دوسری جگہ فروخت کی جاسکتی ہیں۔ ہمیں یاد ہے کہ ایک خاتون کیلے پر قیمہ لگا کر چند مصالحوں کے ساتھ تلتی تھیں اور یہ بڑا مزیدار ہوا کرتا تھا وغیرہ وغیرہ۔ ایک گھر کی یا ایک محلہ کی چند عورتیں مل جل کر کاروبار کرسکتی ہیں مثلاً لانڈری، ٹیلرنگ، اچار، جام جیلی کا کام، زنانہ اسکول یا ٹیوشن سینٹر، زنانہ دکان، آرائش گیسو، بچوں کا ہوٹل،بے بی سینٹر، ہومیوپیتھک زنانہ علاج، رشتہ شادی، میٹرنٹی ہوم، زنانہ رسالہ یا مضمون نویسی، لائبریری، کتابوں یا اور چیزوں کی نمائش، فوٹوگرافی وغیرہ۔ اس کے علاوہ خط و کتابت کے ذریعہ بیرونی ممالک سے بھی تجارتی رابطے قائم کئے جاسکتے ہیں۔
بہت سی تجارتیں ایسی ہیں جن میں سرمایہ یا مشینری کی ضرورت نہیں۔ بس معمولی ابتدائی رقم سے کام چل جاتا ہے۔ اصل سرمایہ کیا ہے؟ فنی صلاحیت، تجربہ، خود اعتمادی، عقل، ہمت، محنت، فن دکانداری وغیرہ۔ اگرتجارت کی کامیابی کا یقین ہو تو سرمایہ لگانے والوں کی کمی نہیں۔ دوسروں کے سرمایہ سے اپنی تجارت کرنے پر بعض بہت اچھی کتابیں پاکستان میں ملتی ہیں یا بیرونی ممالک سے منگوائی جاسکتی ہیں۔
آج کل خانگی ملازمہ، باورچن، بچے کھلانے والی یا ٹیوشن پڑھانے والے کی ضرورت بہت سے گھروں میں ہے۔ تنخواہیں اور اجرتیں بھی معقول ملتی ہیں۔ ہر ضرورت مند اور ہنر مند عورت رقم کمانے کے لئے کچھ وقت نکال سکتی ہے۔ حلال آمدنی کمانا کوئی عیب نہیں۔
وقت نکالنے کے لئے ہمارے پیش نظر ایک تدبیر اگرچہ انوکھی ہے اور عام رواج کے خلاف مگر آزمودہ ہے اور بہت مفید ثابت ہوئی ہے۔ وہ یہ کہ رات کو کھانا نہ پکایا جائے۔ کھانے والوں کو چاہیے کہ وہ گزارہ کرلیں دن کے بنے کھانے پر یا چنے پر، مولی، گاجر، خربوزہ یا دیگر فروٹ پر یاسموسے بسکٹ وغیرہ پر یا مجبوراً ہوٹل سے روٹی منگوا کر اچار چٹنی کے ساتھ کھانے پر۔مگر کسی صورت رات کو کھانا نہ پکایا جائے۔ اس سے خرچ کی بچت ہوتی ہے پکانے والی کو فرصت ملتی ہے کہ آرام کرے، سیر کرے یا کوئی دوسرا کام کرے۔ یہ تدبیر حفاظت ہے رات کو پیٹ بھر کر سونے کے خلاف جس سے بیماریاں ہوتی ہیں۔ رات کو ہمیشہ نصف شکم کھانا چاہیے۔
اگر تو اپنی اور اپنے شوہر کی آمدنی میں سے پانچ فیصد ہی بچالے اور پانچ فیصد اللہ کے نام خیراتی کاموں میں لگا دے تو کتنا اچھا ہو۔ نیک کاموں میں چندہ دینے کی برکتیں بے شمار ہیں۔ ہر روز مسکینوں اور حاجت مندوں کو کچھ نہ کچھ دیا کر۔
غریبوں، مزدوروں اور حاجت مندوں کی عزت کر اور ان کی دعائیں خرید۔ بہت سی بلائیں ان کی دعاؤں سے دور ہوتی ہیں۔ بہرکیف اگر تیرے پاس مالی پریشانیاں گھنگھورگھٹابن کر آگئی ہیں تو گھبرا جانے اور ہمت ہار جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ رات کو تنہائی میں اپنے آپ سے مشورہ لے کہ حل کیا ہے پھر قریبی سچے دوستوں اور رشتہ داروں سے مشورہ کر۔ دعائیں مانگ انشاء اللہ مسئلہ حل ہو کے رہے گا۔


































