
وائرس قدرتی ہوتا تو اس نے اس طرح پوری دنیا کو متاثر نہیں کیا ہوتا، اس کا اثر صرف ایک ہی درجہ حرارت والے ممالک پر ہوتا، نوبل انعام یافتہ ماہر طبیعات کا دھماکا
وائرس اسرائیلی لیبارٹری میں بنا، لیبارٹری کے فون بند ہیں، لیبارٹری ٹیکنیشن زیرزمین ہیں یاانہیں پھانسی دے دی گئی ،دعویٰ غلط ہے تو میرا نوبل انعام واپس لے لیا جائے
ٹوکیو (نیوز ڈیسک) جاپان کے نوبل انعام یافتہ ماہر طبیعات، سائنسدان اور امیونولوجسٹ ڈاکٹر تاسوکو ہونجو نے اسرائیل کو کورونا وائرس کا خالق قرار دے دیا،2018 میں نوبل انعام حاصل کرنے والے ڈاکٹر تاسوکو نے کہا کہ اگر کورونا وائرس قدرتی ہوتا تو اس نے اس طرح پوری دنیا کو متاثر نہیں کیا ہوتا، کیونکہ یہ نوعیت پر منحصر ہے مختلف ممالک میں درجہ حرارت مختلف ہے، اگر وائرس قدرتی ہوتا تو اس کا اثر صرف ایک ہی درجہ حرارت والے ممالک پر ہوتا، اس کے بجائے یہ جس طرح سوئٹزرلینڈ جیسے ملک میں پھیلا اسی طرح یہ صحرائی علاقوں میں بھی پھیل رہا ہے، اگر وائرس قدرتی ہوتا تو یہ سرد علاقوں میں پھیلتا اور گرم مقامات پر مرجاتا، ڈاکٹر تاسوکو نے کہا کہ انہوں نے جانوروں اور وائرس سے متعلق 40 سال کی تحقیق کی ہے یہ وائرس قدرتی نہیں ہے، یہ تیار کیا گیا ہے اور وائرس مکمل طور پر مصنوعی ہے، انہوں نے کہا کہ وہ اسرائیل میں 4 سال سے کام کر رہے ہیں میں اس لیبارٹری کے تمام عملے کو بخوبی جانتا ہوں، میں نے ان سب کو کورونا پھیلنے کے بعد فون کیا لیکن ان کے تمام فون 3 ماہ سے بند پڑے ہیں، اب سمجھ میں آیا کہ یہ تمام لیبارٹری ٹیکنیشن زیرزمین ہیں یا ان کو پھانسی دے دی گئی ہے، انہوں نے کہا وہ اپنے سارے علم اور تحقیق کی بنیاد پر سو فیصد اعتماد کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ کورونا وائرس قدرتی ہے اور نہ ہی چمگادڑ سے آیا ہے بلکہ اسے اسرائیل نے بنایا ہے، اگر میں آج جو کچھ کہتا ہوں وہ غلط ہے یا میرے مرنے کے بعد بھی غلط نکلے تو حکومت میرا نوبل انعام واپس لے سکتی ہے، اسرائیل جھوٹ بول رہا ہے اور یہ سچ ایک دن سب کے سامنے آ جائے گا۔


































