سابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دور میں امریکہ اور طالبان کے درمیان معاہدے کے نتیجے میں افغانستان سے امریکی فوجی انخلاءشروع ہوا، لیکن اب ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ نئی امریکی انتظامیہ اس معاہدے کے خلاف ہے۔ البتہ نیٹو کا اس حوالے سے جو موقف ہے، وہ جوبائیڈن کی پالیسی کے زیادہ قریب ہے۔ نیٹو کے سیکرٹری جنرل پنس استولتنبرگ نے پیر کے دن ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ افغانستان سے فوجی انخلا کا تعلق افغانستان میں امن و امان سے مربوط ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم میں سے کوئی ایک فرد بھی افغانستان میں نہیں رہنا چاہتا، لیکن مناسب وقت کے بغیر فوجی انخلائ مناسب اقدام نہیں ہوگا۔ نیٹو کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا افغانستان ایک دوسرے ممالک کے خلاف دہشت گردی کی پناہ گاہ نہیں بننا چاہیئے۔ انہوں نے طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں افغانستان میں تشدد میں کمی لانی چاہیئے۔ افغانستان میں نیٹو فورسز کی موجودگی کے بارے میں جن خیالات کا اظہار نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے کیا ہے، اس سے بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ افغانستان کے بارے میں ان کی مستقبل کی پالیسی کن خطوط پر استوار ہوگی۔ نیٹو اور افغانستان کی مرکزی حکومت دونوں کا مطالبہ افغانستان میں تشدد کی کارروائیوں میں کمی لانے کا ہے جبکہ دوسری طرف نہ صرف طالبان اس مطالبے پر کان دھرنے کو تیار نہیں بلکہ اس کا عملی اظہار اس کے مکمل برعکس ہے۔ اس صورت میں امریکہ اور طالبان کے درمیان دوحہ میں طے پانے والا معاہدہ کسی نتیجہ پر پہنچتا نظر نہیں آ رہا ہے۔ بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ طالبان نے بیرونی افواج کے مکمل انخلائ اور اشرف غنی کی حکومت کے خاتمے کا جو مطالبہ کیا ہے، وہ ممکن نہیں اور طالبان بھی اس کو بخوبی جانتے ہیں، لیکن وہ اس مطالبے کو زور و شور سے بیان کرتے ہیں، تاکہ افغانستان میں جنگ کی آگ کو مزید پھیلا سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ نیٹو اور یورپی یونین دونوں طالبان کو موجودہ ابتر صورتحال کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔ نیٹو اور یورپی یونین کے 21 جنوری کو جاری کردہ اعلامیہ میں آیا ہے کہ طالبان کے تشدد آمیز اقدامات، وہ بھی کرونا وائرس کی وبا کے ایام میں افغانستان اور افغان عوام کو اقتصادی، سکیورٹی اور سیاسی چیلنجوں سے دوچار کر رہے ہیں۔ نیٹو کے حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ افغانستان سے بیرونی افواج کے انخلاءسے افغانستان میں سکیورٹی اور امن و سلامتی کا خلا پیدا ہو جائے گا اور تشدد کی حالیہ لہر سے مذاکرات کا عمل بھی متاثر ہوسکتا ہے۔ افغانستان میں طالبان اور افغان سکیورٹی اداروں کے درمیان حالیہ جھڑپوں سے اس نظریئے کو مزید تقویت مل رہی ہے۔ افغانستان سے بیرونی افواج کے انخلا میں ایک اور رکاوٹ نیٹو اور ٹرامپ انتظامیہ کے درمیان افغانستان کی سلامتی کے حوالے سے اختلاف نظر بھی تھا۔ ڈونالڈ ٹرمپ مئی 2021ءتک افغانستان سے تمام امریکی فوجیوں کے انخلا پر بضد تھے، لیکن جو بائیڈن حکومت کی پالیسی اس سے مختلف ہے، وہ افغانستان میں ناامنی، تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات اور طالبان کی طرف سے معاہدہ پر عمل نہ کرنے کو بہانہ بنا کر ٹرمپ کے فیصلے کو نظرانداز کرنا چاہتے ہیں۔ اس تناظر میں جو بائیڈن انتظامیہ اور نیٹو ایک صفحے پر آرہے ہیں، جس کا نتیجہ افغانستان سے امریکی اور نیٹو فورسز کے عدم انخلا کی صورت میں ایک ایسے وقت جب نیٹو اور امریکہ ایک صفحے پر آرہے ہیں، افغانستان کے جہادی رہنما گلبدین حکمت یار نے تند و تیز بیان دیکر افغان سیاست کا رخ موڑنے کی کوشش کی ہے۔ حزب اسلامی کے سربراہ حکمت یار نے اشرف غنی کی حکومت کو دھمکی دی ہے کہ اگر حکومت نے ان کی جماعت سے وابستہ قیدیوں کو رہا نہ کیا تو وہ ایوان صدر کا گھیراﺅ کریں گے اور جب تک اپنے مطالبات اور اشرف غنی کو اقتدار سے محروم نہیں کر دیں گے، اس وقت تک ایوان صدر کا محاصرہ ختم نہیں کریں گے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ گلبدین حکومت یار کے مطابق ان کی جماعت کے تیس ہزار قیدی افغانستان کی مختلف جیلوں میں قید ہیں۔ حکمت یار کے اس اشتعال انگیز بیان پر افغان حکام کا ردعمل یقینی تھا، یہی وجہ ہے کہ مصالحتی کمیٹی کے سربراہ عبداللہ عبداللہ اور افغان نائب صدر نے ترکی بہ ترکی حکمت یار کو جواب دیا ہے۔ افغانستان کے حکومتی اور حکومت کے قریبی افراد نے حکمت یار کو خائن، اقتدار کا بھوکا، باغی، عدم استحکام کا شکار کرنے والا، سازشی، بدامنی کا ذمہ دار، جنگ کی آگ بھڑکانے والا اور اس طرح کے متعدد القابات سے نوازا ہے۔ حکمت یار نے اس وقت کیوں بیان دیا ہے، اس پر مختلف آرائ سامنے آ رہی ہیں، ایک وسیع حلقے کا کہنا ہے کہ حکمت یار پرانا کھلاڑی ہے، اسے محسوس ہوگیا ہے کہ امریکہ اور اشرف غنی کے حامی اندرونی اور بیرونی دھڑے بین الافغان مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے افغانستان میں قومی اتحاد کی حکومت تشکیل دینا چاہتے ہیں، کیونکہ طالبان موجودہ حکومت کو نہ تسلیم کرنے کو تیار ہیں اور نہ اس کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کو تیار ہیں۔ گلبدین حکمت یار کو اس وقت ماضی کی طرح عوامی حمایت حاصل نہیں ہے، اس کے مجاہد کمانڈر طالبان بنتے ہی حکمت یار کو چھوڑ کر طالبان سے جا ملے تھے۔ حکمت یار نے اس انتخاب میں بھی صدارتی انتخاب لڑا لیکن پانچ فیصد سے بھی کم ووٹ اس کے حصے میں آئے۔ حکمت یار اب اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ وہ طالبان کے ساتھ روابط بحال کرکے آئندہ کی قومی حکومت میں اپنا بھرپور حصہ لے لے۔ طالبان بھی اشرف غنی کی حکومت کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ حکمت یار نے بھی ان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے حالیہ بیان دیا ہے۔ حکمت یار نے جو سیاسی چال چلی ہے، اس سے وہ ایک بار پھر مین اسٹریم سیاست میں آگئے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ طالبان حکمت یار کو استعمال کرتے ہیں یا حکمت یار طالبان کی سیڑھی استعمال کرکے قومی حکومت یا اس کے بعد سیاست میں اپنا کردار منوانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔