
تہران : ایران کے سیکیورٹی سربراہ محسن رضائی کا کہنا ہے کہ امریکہ سے بڑی طاقتوں نے بھی ایران کو فتح کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ تاریخ کے کوڑے دان میں جا گرے۔ محسن رضائی نے کہا ہے کہ امریکہ کو بھی ان سابقہ طاقتوں جیسے انجام کا سامنا کرنا پڑے گا جنہوں نے ایران کو فتح کرنے کی کوشش کی تھی۔
پریس ٹی وی کو خصوصی انٹرویو میں محسن رضائی نے کہا کہ امریکہ کو ایران کے ساتھ محاذ آرائی میں بار بار شکستوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کے نتیجے میں اس نے مایوسی کے عالم میں اقتصادی جنگ کا راستہ اختیار کر لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس محاذ آرائی کے خاتمے کا فیصلہ امریکہ نہیں بلکہ ایران کرے گا۔ ان کے مطابق تہران اپنے جائز مطالبات پورے ہونے تک مزاحمت جاری رکھے گا۔
خطے میں امریکی افواج کی موجودگی کے حوالے سے محسن رضائی نے کہا کہ عراق سے امریکی فوج کا انخلا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ واشنگٹن خطے پر اپنا فوجی ایجنڈا مسلط کرنے میں ناکام رہا ہے۔ انہوں نے اسے مغربی ایشیا میں امریکی فوجی موجودگی کے خلاف ایران کی مزاحمت کی کامیابی قرار دیا۔ محسن رضائی نے مزید کہا کہ ایران کے لیے قربانی، یعنی جاں فدامہم کے تحت تیس ملین سے زائد ایرانیوں نے رجسٹریشن کرائی ہے تاکہ امریکی جارحیت کی صورت میں وہ ہتھیار اٹھا سکیں۔ ایرانی عہدیدار نے کہا کہ تہران اب سفارت کاری کے سابقہ طریقوں کی طرف واپس نہیں جائے گا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایران سفارت کاری کو مکمل طور پر کبھی ترک نہیں کرے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر واشنگٹن نے ایران کے خلاف دوبارہ جارحیت کی تو امریکی اثاثوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جن میں اہم ڈیٹا سسٹمز اور مصنوعی ذہانت کے سینسرز بھی شامل ہیں۔ محسن رضائی نے آبنائے ہرمز کے معاملے میں واشنگٹن اور اس کے علاقائی اتحادیوں کو مسئلے کی بنیادی وجہ قرار دیا۔


































