
غزہ : حماس نے ایک بیان میں کہا ہےکہ اسرائیل کیجانب سے خلیل الحیہ کو قتل کرنیکی دھمکی منظم اسرائیلی دہشتگردی ہے۔ اسرائیلی دھمکی اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ صیہونی رژیم خود کو کسی بین الاقوامی قانون کا پابند نہیں سمجھتی۔ حماس نے اس دھمکی کو منظم حکومتی دہشت گردی سے تعبیر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات صیہونی کابینہ کے سیاسی دیوالیہ پن اور فاشزم کی علامت ہیں۔ یہ دھمکیاں فلسطین کاز کے حوالے سے ہمارے قومی موقف بالخصوص قبضے کے خاتمے کے لئے جاری جدوجہد کو متاثر نہیں کر سکیں گی بلکہ اس طرح کے اقدامات سے ہمارا عزم مزید مضبوط ہوگا۔
اس سلسلے میں حماس نے ثالثین سے مطالبہ کیا کہ وہ اس طرح کے غیر سنجیدہ بیانات پر ٹھوس موقف اپنائیں اور اس کی مذمت کریں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ حماس اب بھی جنگ بندی کے معاہدے اور امریکی صدر "ڈونلڈ ٹرمپ” کی حمایت و ثالثی سے پیش کردہ امن روڈ میپ پر بدستور قائم ہے۔ انہوں نے ثالثین سے مطالبہ کیا کہ وہ صیہونی رژیم پر فلسطینی عوام کے خلاف جارحیت کو بند کرنے، محاصرے کو ختم کرنے اور وعدوں پر عمل درآمد کے لئے دباؤ ڈالیں۔ واضح رہے کہ حماس کا یہ بیان اس وقت جاری ہوا جب صیہونی وزیر جنگ نے حماس کے سربراہ خلیل الحیہ کو قتل کرنے کی دھمکی دی۔


































