
نام نہاد شیعہ وقف بورڈ کے چیئرمین وسیم رضوی نے قر آن میں جہاد سے متعلق 26 آیات کو حذف کرنے کیلئے بھارتی سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی
قر آن مجید میں ایک زیر زبر کی بھی تبدیلی ممکن نہیں ،علامہ کلب جواد ،وسیم رضوی کا مقصد فتنے کی آگ بھڑکانا اور شیعہ مکتب فکر کو بدنام کرناہے، علمائے کشمیر
کراچی (نیوز ڈیسک) مسلمانوں میں فساد کیلئے بھارت میں نئے فتنے نے سر اٹھالیا، متنازع شخصیت فلم پروڈیوسر اور نام نہاد شیعہ وقف بورڈ کے چیئرمین وسیم رضوی نے بھارتی سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں مطالبہ کیا گیاہے کہ قر آن مجید میں جہاد سے متعلق 26 آیات کو حذف کیا جائے کیونکہ ان سے دہشت گردی کو تقویت مل رہی ہے،وسیم رضوی کی اس درخواست پر مسلمانوں میں شدید غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی اور بھارت کے مختلف شہروں میں وسیم رضوی کے خلاف مظاہرے کئے گئے اور اس کے پتلے جلائے گئے، مظاہرین نے ملک میں فساد پھیلانے کی سازش کے الزام میں وسیم رضوی کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا ہے، آل انڈیا مجلس علما ہند کے جنرل سکرٹری مولانا سید کلب جواد نے کہا ہے کہ وسیم رضوی ہمیشہ ملک میں فساد کروانے کی سازش کرتا رہتا ہے اور اب تو حد ہی کر دی کہ یہ ملعون شخص قر آن مقدس کے خلاف کھڑا ہوگیا ہے ،سپریم کورٹ میں اسکی پٹیشن کو چیلنج کیا جائے گا، مولانا سید کلب جواد نے کہا ہے کہ قر آن مقدس کی توہینِ ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی ، قر آن مجید میں ایک زیر زبر کی بھی تبدیلی ممکن نہیں ، علمائے کشمیر کا کہنا ہے کہ مذکورہ شخص کا توہین قر آن اقدام مسلمانوں کے درمیان فتنے کی آگ بھڑکانے کی سازش اور شیعہ مکتب فکر کو بدنام کرنے کی ایک کوشش ہے، جموں و کشمیر کے مفتی اعظم مفتی ناصر الاسلام نے وسیم رضوی کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔


































