
اجتماع کی وجہ سے مومنین کے مریض ہونے اور کورونا وائرس کے پھیلنے کا بدستور خطرہ لاحق ہے، جبکہ انسانی جان کی حفاظت مہم ترین واجبات میں سے ہے
شرط کے مطابق صفوں کے درمیان چھ فٹ کا فاصلہ رکھنے سے نماز جماعت نہیں ہوتی ہے،حفاظتی تدابیر رکھ کر عزاداری کے اجتماعات کئے جاسکتے ہیں،اعلامیہ
لاہور (نیوز ڈیسک) وفاق المدارس الشیعہ پاکستان نے نماز پنجگانہ اور نماز جمعہ کے اجتماع سے پرہیز کی ہدایات جاری کر دیں اور مجالس و عزاداری احتیاطی تدابیرکے ساتھ منعقد کی جاسکتی ہیں، صدر عارف علوی سے علما کی ملاقات کے بعد، سیکریٹری جنرل علامہ محمد افضل حیدری کی طرف سے مدیران مدارس دینیہ، آئمہ جمعہ و جماعت کے نام جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ مساجد و امام بارگاہیں کھلی رہیں گی اور چونکہ اجتماع کی وجہ سے مومنین کے مریض ہونے اور کورونا وائرس کے پھیلنے کا بدستور خطرہ لاحق ہے، جبکہ انسانی جان کی حفاظت مہم ترین واجبات میں سے ہے، 20 نکاتی احتیاطی تدابیر میں ایک یہ ہے کہ نماز کی صفوں کے درمیان چھ فٹ کا فاصلہ ہونا چاہیے جبکہ اس صورت میں شرعی طور پر نماز جماعت منعقد نہیں ہوتی، لہٰذا فی الحال نماز پنجگانہ اور نماز جمعہ کے اجتماع سے پرہیز کیا جائے،علامہ افضل حیدری نے کہا کہ صدر مملکت عارف علوی نے واضح کیا تھا کہ رمضان میں حضرت امیر المومنین علی ابن ابیطالب کے ایام شہادت میں مجالس و عزاداری احتیاطی تدابیر کو مدنظر رکھ کر منعقد کی جا سکتی ہیں اور حکومت کی طرف سے جاری اعلامیہ میں لفظ امام بارگاہ بھی شاید اسی لئے استعمال کیا گیا لہٰذا اس کو اعلامیہ میں شامل ہونا چاہیے تھا، اعلامیہ میں واضح کیا گیا ہے کہ مکتب جعفریہ اثنا عشریہ میں نماز پنجگانہ اور نماز جمعہ کیلئے مساجد اور عزداری امام حسین علیہ السلام کیلئے امام بارگاہیں ہوتی ہیں، البتہ جہاں مسجد نہ ہو وہاں امام بارگاہ میں نماز اور جہاں امام بارگاہ نہ ہو وہاں مسجد میں مجلس عزا برپا کی جاتی ہے،اعلامیہ کی علامہ حافظ سید ریاض حسین نجفی، علامہ سید ساجد علی نقوی، مفسر قرآن علامہ الشیخ محسن علی نجفی، علامہ قاضی سید نیاز حسین نقوی، علامہ سید محمد تقی نقوی، علامہ حیدر علی جوادی، علامہ محمد محسن مہدوی کے مشوروں کی روشنی میں جاری کیا گیا ہے۔


































