
نامزدگی ، ووٹ ڈالنے اور نمائندگی کے معاملے میں یروشلم کے شہریوں کا استثنی کسی صورت قبول نہیں، یہ ایک مستقل اورناقابل سمجھوتہ ہے،حماس
حماس کسی بھی بہانے سے انتخابات کو ملتوی اور بیت المقدس کے شہریوں کو مستثنی کرنے کے خلاف ہے،کہ یروشلم کے بغیر انتخابات نہیں ہوسکتے
مقبوضہ بیت المقدس(نیوزڈیسک) اسرائیل نے فلسطین میں انتخابات کیخلاف اپنی سازشوں کا دائرہ بڑھادیا ہے اور انتخابات کے التوا ، حماس کو انتخابی عمل سے باہر کرنے کی سازش کے بعد اب مشرقی یروشلم کے شہریوں کو الیکشن میں حصہ لینے سے روک دیا ہے، حماس نے خبردار کیا ہے کہ انتخابات کا التواکسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا، حماس کے رہنما موسی ابومرزوق نے ٹوئٹ کیا کہ حماس کسی بھی بہانے سے انتخابات کو ملتوی اور بیت المقدس کے شہریوں کو مستثنی کرنے کے خلاف ہے، امیدواروں کو قومی رجحان اور اعتبار کے ساتھ انتخابات کے لئے عملی اقدام انجام دینا چاہئے،انھوں نے فلسطینی انتظامیہ سے اپیل کی کہ وہ بعض امیدواروں کی حمایت کے لئے اپنے حربوں سے استفادہ نہ کرے ، حماس کے ایک اور رہنما صلاح البردویل نے کہا تھا کہ غاصب صہیونی حکومت انتخابات میں رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے، ادھر حماس کے ایک اور رہنما عزت الرشق نے بھی مقبوضہ مشرقی یروشلم میں شہریوں کو انتخابات میں رائے دہندگی کی اجازت دینے کی ضرورت کا اعادہ کیا ہے، انہوں نے کہا کہ ہم نامزدگی ، ووٹ ڈالنے اور نمائندگی کے معاملے میں یروشلم میں اپنے لوگوں کی شرکت پر اپنے اصرار اور کا اعادہ کرتے ہیں جیسے 2006کے الیکشن میں حصہ لیا تھا، یہ ایک مستقل اورناقابل سمجھوتہ پوزیشن ہے ، انہوں نے زور دے کر کہا کہ یروشلم کے بغیر انتخابات نہیں ہوسکتے ، کیونکہ تاریخی حق اور علامتی جدوجہد فلسطینی عوام کے لئے نمائندگی کرتی ہے،الرشق نے کہا کہ فلسطینی عوام اپنی تمام تر طاقتیں اور ذرائع اسرائیل پر دباو ¿ ڈالیں گے تاکہ وہ یروشلم میں انتخابات کی اجازت دیں۔


































