
توہین آمیز خاکوں پر فرانسیسی صدر میکرون کے مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے والے بیان پر فرانسیسی سفیر کو پاکستانی دفتر خارجہ طلب کیا گیا ہے۔
دوسری طرف وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اہم اعلان کرتے ہوئے کہا کہ او آئی سی کے وزرائے خارجہ کے آئندہ اجلاس میں، میں وزیر اعظم کی ہدایت پر اس حوالے سے ایک جامع قرارداد پیش کروں گا جس میں 15 مارچ کا دن، اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی دن کے طور پر طے کرنے کی تجویز دیں گے۔
وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ گستاخانہ خاکوں سے پوری دنیا میں غم و غصہ پایا جاتا ہے، فرانس کے صدر کے غیر ذمہ دارانہ بیانات نے جلتی پر تیل کا کام کیا، یہ پہلی مرتبہ ایسا نہیں ہوا، کچھ عرصہ قبل چارلی ہیبڈو نے گستاخانہ خاکے شائع کیے، کبھی قرآن پاک کو جلانے کے واقعات سامنے آتے ہیں، کبھی پتا چلتا ہے کہ حجاب پر پابندی کا فیصلہ کیا جا رہا ہے۔
انھوں نے کہا اقوام متحدہ کو چاہیے کہ فی الفور اسلام کے خلاف اس نفرت انگیز بیانیے کا نوٹس لے اور ٹھوس اقدامات اٹھائے، لوگوں کے جذبات روندیں گے تو ری ایکشن سے معاشرے تقسیم ہوتے ہیں۔
شاہ محمود نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ وزیر اعظم عمران خان نے فیس بک کے بانی مارک زکر برک سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ جس طرح آپ ہولوکاسٹ پر مبنی مواد کی اشاعت نہیں کرتے اسی طرح اسلام کے خلاف گستاخانہ مواد کی اشاعت کو بھی روکا جائے۔


































