
اسرائیل ایک محاذ کا کچھ نہیں بگاڑ سکا تو وہ مزاحمتی محاذ سے کیسے جنگ کر سکتا ہے،اسرائیل نے فلسطین یا لبنان کیخلاف جنگ کو ہمیشہ ملتوی کرنے کی کوشش کی
قربانی کے بغیر مزاحمت کو کوئی کامیابی نہیں مل سکتی اور اگر ہم فلسطین میں قربانیوں کو دیکھیں تو سمجھ میں آئے گا کہ یہ ایک تاریخی اور اسٹراٹیجک فتح تھی،شیخ نعیم قاسم
بیروت (نیوز ڈیسک) حزب اللہ کے نائب سکریٹری جنرلشیخ نعیم قاسم نے جنگ میں اسرائیل کی شکست فاش کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہاہے کہ جب اسرائیل ایک محاذ کا کچھ نہیں بگاڑ سکا تو وہ پورے مزاحمتی محاذ سے کیسے جنگ کر سکتا ہے، شیخ نعیم قاسم نے ایک انٹرویو میں کہا کہ غزہ جنگ سے قائد مقاومت سید حسن نصر اللہ کی وہ بات صحیح ثابت ہو گئی کہ اسرائیل، مکڑی کے جالے سے بھی کمزور ہے اور اس جملے کا سرزمینوں کی آزادی سے براہ راست تعلق تھا اور بہت ہی اہم موڑ ثابت ہوا ، حالیہ جنگ میں جیت کا سہرا، فلسطینی عوام کی مزاحمت کے ارادوں کے سر جاتا ہے اور علاقے کے حالات یہی بتا رہے ہیں کہ بیت المقدس کی آزادی نزدیک ہے،شیخ نعیم قاسم کا کہنا تھا کہ لبنان کا سقوط نہیں ہوا، شام کا شیرازہ بھی نہیں بکھرا اور امریکا کی جانب سے داعش کی غیر طبیعی حمایت کے باوجود عراق بھی تقسیم نہیں ہوا، یمن بھی عجیب و غریب انداز میں اپنے پیروں پر کھڑا ہے لیکن فلسطین نے چار جنگوں کا تجربہ کیا اور چاروں میں اس نے فتح حاصل کی اور آخری جنگ بھی فلسطین کی تاریخ میں سنہری لفظوں میں درج ہوگئی، دشمن اب لبنان کے خلاف جنگ کا محاذ نہیں کھولے گا کیونکہ اسے پتہ ہے کہ شکست اسکے نصیب میں ہوگی کیونکہ مزاحمت فتح کی طاقت رکھتی ہے اور یہی سبب ہے کہ فلسطین یا لبنان کے خلاف ہر طرح کی جنگ کو ملتوی کرنے کی کوشش کی گئی،حزب اللہ لبنان کے نائب سکریٹری جنرل نے کہا کہ ہم صیہونی حکومت کے ممکنہ حملوں کا دندان شکن جواب دینے کو تیار ہیں ،انہوں نے کہا کہ قربانی کے بغیر مزاحمت کو کوئی کامیابی نہیں مل سکتی اور اگر ہم فلسطین میں قربانیوں کو دیکھیں تو سمجھ میں آئے گا کہ یہ ایک تاریخی اور اسٹراٹیجک فتح تھی۔حزب اللہ لبنان کے نائب سکریٹری جنرل کا کہنا تھا کہ مزاحمتی محاذ میں کبھی بھی شعیہ اور سنی کا مسئلہ نہیں رہا، مستقبل قریب میں حماس بھی شام واپس آئے گی اور اس بارے میں اہم کوششیں کی گئی ہیں، جنگ فلسطین یہ کہتی ہے کہ ہم حماس اور شام کے تعلقات کی بحالی کا مشاہدہ کر رہے ہیں،ادھر حزب اللہ نے اپنے تہنیتی پیغام میں کہا ہے کہ فلسطینی استقامتی محاذ نے ثابت کردیا ہے کہ اسرائیل مکڑی کے جالے سے بھی زیادہ کمزور ہے ، آپ کی اس کامیابی نے صیہونی حکومت کی کمزوریوں اور اس کے اندر موجود گہرے شگاف کو نمایاں کردیا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ "بحرتا نہر” آزادی کے منصوبے کی کامیابی نزدیک ہے


































