
قاسم سلیمانی نے مزاحمت کاروں کی حمایت میں ذرہ برابر کوتاہی کی اور نہ ہی اپنی حمایت کے حوالے سے کبھی مذہبی بنیاد پر کوئی فرق روا رکھا ہے،حماس رہنما
قاسم سلیمانی مختلف مزاحمتی شرکا کے ایسے عظیم پراجیکٹ کے بانی ہیں، جس میں زبان، مذہب، نسل اور عقیدے کے اختلاف کی کوئی اہمیت نہیں ،رہنماجہاد اسلامی
غزہ(نیوز ڈیسک) امریکی حملے میں شہید کمانڈرز جنرل قاسم سلیمانی، عراقی حشد الشعبی کے ڈپٹی کمانڈر ابومہدی المہندس اور ساتھیوں کی پہلی برسی پر غزہ میں بھی شاندار تعزیتی اجتماع کا اہتمام کیا گیا، شہید القدس کے عنوان سے منعقدہ تقریب سے خطاب میں حماس کے سیکرٹری سیاسیات محمود الزہار نے کہا کہ سردارقاسم سلیمانی عراقی سرزمین پر شہید ہوئے ہیں لیکن ان کا راسخ عقیدہ تھا کہ ”بلاد مسلمین“ کے درمیان کسی قسم کی سرحدیں موجود نہیں محمود الزہار نے کہا کہ شہید جنرل قاسم سلیمانی نے امتِ مسلمہ کا دفاع کرنے والے مزاحمت کاروں کی حمایت میں ذرہ برابر کوتاہی کی اور نہ ہی اپنی حمایت کے حوالے سے کبھی مذہبی بنیاد پر کوئی فرق روا رکھا ہے ، الجہاد الاسلامی فی فلسطین کے سیکرٹری سیاسیات خالد البطش نے کہا کہ غزہ میں فوجی ڈھانچے کی تشکیل کے دوران شہید جنرل قاسم سلیمانی ہر فلسطینی گروہ کے ساتھ شریک رہے، جس کے دوران سینکڑوں بلکہ ہزاروں فلسطینی مجاہدین نے بطور احسن جنگی فنون سیکھے ، قاسم سلیمانی نے فلسطینی مزاحتمی محاذ کی بھرپور حمایت اور انہیں انواع و اقسام کے جدید اسلحے سے لیس کرکے ایران کے نعروں کو عملی شکل دی، جنرل قاسم سلیمانی درحقیقت مختلف مزاحمتی شرکا کے ایک ایسے عظیم پراجیکٹ کے بانی ہیں، جس میں زبان، مذہب، نسل اور عقیدے کے اختلاف کی کوئی اہمیت نہیں، فلسطین سے لبنان اور شام سے عراق و یمن تک تمام مزاحمتی محاذوں کے درمیان وحدت ہی شہید جنرل قاسم سلیمانی اور ان کے بھائیوں کا حقیقی ہدف تھا ، شہید جنرل قاسم سلیمانی نے نہ صرف اپنی زندگی کے دوران امریکی مذموم منصوبوں کے سامنے ڈٹ کر اسے ذلیل کیا بلکہ اپنی مظلومانہ شہادت کے ذریعے بھی امریکہ کو دوسرے حوالے سے خوار کرکے رکھ دیا، کہا کہ غاصب صیہونی حکومت اس جرم میں برابر کی شریک ہے، جس کا اسے ضرور حساب دینا ہوگا۔


































